Skip to content
Home » Blog » کہانی نمبر 7, جب دماغ نے یاد رکھنا سیکھا

کہانی نمبر 7, جب دماغ نے یاد رکھنا سیکھا

  • by

ذہانت کا ارتقاء
کہانی نمبر 7, جب دماغ نے یاد رکھنا سیکھا

شارق علی
ویلیوورسٹی

پچھلی قسط میں ہم نے دیکھا تھا کہ ابتدائی دماغ مختلف حواس سے آنے والی معلومات کو یکجا کرکے اپنے اردگرد کی دنیا کا ایک ابتدائی نقشہ بنانے لگا تھا۔

لیکن ایک بنیادی مسئلہ ابھی باقی تھا۔

اگر ہر تجربہ اگلے ہی لمحے ختم ہو جائے تو جاندار کو ہر بار دنیا کو نئے سرے سے سمجھنا پڑے گا۔

فرض کیجیے ایک قدیم سمندری جاندار کسی خاص بو کے قریب پہنچتا ہے اور وہاں اسے خوراک ملتی ہے۔

اگر اگلی بار وہ اس تعلق کو یاد نہ رکھ سکے تو پچھلا تجربہ اس کے کسی کام کا نہیں۔
اسی طرح اگر کسی خاص حرکت، روشنی یا بو کے بعد شکاری حملہ کرے، لیکن جاندار اگلی بار اس خطرے کو پہچان نہ سکے، تو تجربہ ہونے کے باوجود اس کی بقا کے امکانات بہتر نہیں ہوں گے۔

یہیں سے ذہانت کے ارتقاء میں ایک نیا باب شروع ہوا:

یادداشت۔

ابتدائی یادداشت ہماری یادداشت جیسی پیچیدہ نہیں تھی۔ نہ ماضی کے مناظر تھے، نہ واقعات کی کہانیاں اور نہ ہی شعوری طور پر کچھ یاد کرنے کی کوشش۔
اس کی ابتدا شاید ایک بہت سادہ صلاحیت سے ہوئی، تجربے کے نتیجے میں رویے کا بدل جانا۔

اگر کوئی بے ضرر محرک بار بار سامنے آئے تو جاندار آہستہ آہستہ اس پر ردعمل دینا کم کر سکتا ہے۔ اسے سائنس میں habituation کہا جاتا ہے۔

اس کے برعکس اگر کسی محرک کے ساتھ خطرہ وابستہ ہو تو اعصابی نظام اگلی مرتبہ اس کے لیے زیادہ حساس ہو سکتا ہے۔ اسے sensitization کہتے ہیں۔
یہ سیکھنے اور یاد رکھنے کی انتہائی ابتدائی صورتیں تھیں۔

اس عمل کی بنیاد اعصابی خلیوں کے درمیان موجود رابطوں، یعنی synapses میں ہونے والی تبدیلیاں تھیں۔ تجربہ بعض عصبی رابطوں کو مضبوط اور بعض کو کمزور کر سکتا تھا۔

گویا تجربہ گزر تو جاتا تھا، لیکن اعصابی نظام میں اپنا ایک نشان چھوڑ جاتا تھا۔

وقت کے ساتھ ایک اور اہم صلاحیت پیدا ہوئی: مختلف واقعات کو آپس میں جوڑنا۔

اگر کسی خاص بو کے بعد بار بار خوراک ملے تو وہ بو خوراک کی علامت بن سکتی ہے۔ اگر کسی مخصوص حرکت کے بعد خطرہ آئے تو وہ حرکت خود خطرے کی وارننگ بن سکتی ہے۔
اسے associative learning کہا جاتا ہے۔

اب جاندار صرف موجودہ لمحے کا قیدی نہیں رہا تھا۔
اس کا گزرا ہوا تجربہ اس کے موجودہ فیصلے کو بدلنے لگا تھا۔

یہ ارتقائی اعتبار سے ایک بہت بڑا فائدہ تھا۔ جو جاندار خوراک کی جگہ، خطرے کی علامت یا کامیاب راستہ یاد رکھ سکتا تھا، اسے ہر مرتبہ وہی سبق دوبارہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر سیکھنے کی ضرورت نہیں تھی۔

یوں یادداشت نے تجربے کو معلومات میں اور معلومات کو بقا کے فائدے میں بدل دیا۔

اربوں سال بعد انسانی دماغ میں یہی بنیادی اصول حیرت انگیز پیچیدگی اختیار کر گئے۔ ہم چہروں، راستوں اور زبان کو یاد رکھتے ہیں۔ بچپن کے واقعات محفوظ کرتے ہیں۔ ماضی سے سبق لیتے اور مستقبل کے منصوبے بناتے ہیں۔

لیکن اس عظیم صلاحیت کی جڑیں زندگی کی تاریخ میں بہت گہری ہیں۔

یادداشت شاید ماضی کو محفوظ رکھنے سے کہیں بڑھ کر تھی۔
یہ ماضی کو مستقبل کے کام آنے کے قابل بنانے کا طریقہ تھی۔

لیکن اب ارتقاء کے سامنے ایک اور چیلنج تھا۔

اگر ایک جاندار کے پاس کئی تجربات محفوظ ہوں اور سامنے کئی ممکنہ راستے موجود ہوں، تو وہ کس راستے کا انتخاب کرے؟
یہ سوال ہمیں ذہانت کے اگلے بڑے قدم تک لے جاتا ہے

جب دماغ نے فیصلہ کرنا سیکھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *