ڈاؤ میں سیکھے سبق
شارق علی
ڈاؤ گریجویٹ
انیس سو پچاسی
ڈاؤ میڈیکل کالج کے دنوں کو یاد کروں تو کتابوں، لیکچروں اور امتحانوں سے کہیں زیادہ چہرے، مقامات اور چھوٹے چھوٹے واقعات اور مناظر یاد آتے ہیں۔ خوش رو مانوس مسکراہٹیں اور بے تکلف دوستوں کے قہقہے سنائی دیتے ہیں۔ ’’ایشیا سرخ ہے‘‘ اور ’’ایشیا سبز ہے‘‘ کے واشگاف نعرے کانوں میں گونجنے لگتے ہیں۔ اور پھر زندگی کے وہ سبق یاد آتے ہیں جو اتنے برس گزر جانے کے بعد بھی میرے ہمراہ ہیں۔
ڈاؤ کے دنوں میں ہم نے صرف طب کی تعلیم حاصل نہیں کی، بلکہ انسان کو سمجھنا اور اس کے ذاتی اور سماجی دکھوں کو محسوس کرنا بھی سیکھا۔
1977 میں جب میں ڈی جے سائنس کالج سے ڈاؤ پہنچا تو میرے لیے یہ ایک بالکل نئی اور آزاد دنیا تھی۔ اس سے پہلے میں نے مخلوط تعلیمی ماحول میں تعلیم حاصل نہیں کی تھی، اس لیے ابتدا میں لڑکیوں سے بے تکلف گفتگو میں خاصی جھجک محسوس ہوتی تھی۔ لیکن رفتہ رفتہ کلاس روم، کینٹین اور لائبریری میں ساتھ پڑھتے، گفتگو کرتے اور وقت گزارتے ہوئے ایک بہت سادہ مگر اہم حقیقت آشکار ہوئی: لڑکے اور لڑکیاں بنیادی طور پر ایک جیسے انسان ہیں۔ طالب علمانہ آرزوؤں، مستقبل کے خوابوں، کامیابی کی خواہش، ناکامی کے اندیشوں اور زندگی کی الجھنوں میں کوئی بنیادی فرق نہیں۔ کالج کی فضا، باہر کے معاشرے میں موجود صنفی تفریق کے مقابلے میں، کہیں زیادہ منصفانہ اور فطری محسوس ہونے لگی۔
پڑھائی کے بہانے ساتھ بیٹھنا ہوتا تو باتیں نصاب سے آگے نکل کر ادب، آرزوؤں اور مستقبل کے خوابوں تک جا پہنچتیں۔ نوجوانی تھی، سو بہت سوں پر رومانی برسات بھی ہوئی اور نظمیں بھی لکھی گئیں۔ لیکن ان خوشگوار دنوں نے جو سبق ہمیشہ کے لیے ہمارے ساتھ کر دیا، وہ صنفی مساوات اور باہمی احترام کا سبق تھا۔
ہم نے جانا کہ عورت کوئی دور کھڑی پراسرار مخلوق نہیں، بلکہ ہماری ہی طرح ایک مکمل انسان ہے، اپنی ذہانت، رائے، امنگوں، خوابوں، خوف اور جذبات کے ساتھ۔ ہم نے ایک دوسرے سے اختلاف کرنا، ایک دوسرے کو سمجھنا، مل کر کام کرنا اور دوستی نبھانا سیکھا۔ یہ سبق شاید کتابوں اور تقریروں سے اس طرح سیکھنا ممکن نہ تھا۔ یہ ایک دوسرے کو قریب سے جاننے اور باہمی احترام کے ساتھ زندگی کا کچھ سفر ساتھ طے کرنے سے حاصل ہوا۔ ڈاؤ ہی میں ہم نے سیکھا کہ عورت اور مرد کے درمیان حقیقی ہم آہنگی کی بنیاد برابری، احترام اور ایک دوسرے کی انسانیت کو تسلیم کرنے میں ہے۔
پھر تیسرا سال آیا اور ہم ہسپتال کے وارڈز میں پہنچ گئے۔ اب کلینیکل گروپس کی صورت میں لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ عملی طبی تعلیم کے دور میں داخل ہوئے۔ یہاں زندگی کی کتاب نے ہمارے سامنے ایک اور باب کھول دیا۔
ایک دن ہمارا کلینیکل گروپ ایک مریض کے بستر کو گھیرے کھڑا پروفیسر کی bedside teaching میں مصروف تھا۔ وارڈ کے عقب میں واقع برآمدے کی ایک کھڑکی سے دس بارہ سالہ بچے کا چہرہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد نمودار ہوتا اور پھر غائب ہو جاتا۔ گویا وہ بے صبری سے اس مجمع کے چھٹ جانے کا انتظار کر رہا ہو۔
پروفیسر کی پشت کھڑکی کی جانب تھی، اس لیے وہ یہ منظر نہیں دیکھ سکتے تھے، مگر میری نگاہ بار بار اس جھانکتے ہوئے چہرے کی طرف اٹھ رہی تھی۔
Bedside teaching
ختم ہوئی اور بیشتر طلبہ چلے گئے تو مریض نے ہاتھ کے اشارے سے بچے کو اندر بلا لیا۔ معلوم ہوا کہ وہ اس بوڑھے مریض کا پوتا تھا۔ دوپہر کے وقت وہ اپنے دادا کے پاس آتا تھا اور ہسپتال سے ملنے والا کھانا دونوں مل بانٹ کر کھاتے تھے۔
کھڑکی سے بار بار جھانکتے اس بچے کا چہرہ آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہے۔ اس منظر نے ایک سوال میرے اندر چھوڑ دیا جس سے میں آج تک پیچھا نہیں چھڑا سکا ہوں۔ کیا اپنی محبتوں کو پیٹ بھر کر اچھا کھانا کھلا سکنا بھی انسانوں کے ایک بڑے طبقے کے لیے اتنا دشوار خواب ہے کہ تمام تر ترقی کے باوجود انسانیت آج تک اسے پورا نہیں کر سکی؟
اس روز غربت میرے لیے محض ایک معاشی اصطلاح نہیں رہی تھی۔ غربت ایک بچے کا چہرہ بن گئی تھی، جو کھڑکی سے بار بار جھانک کر میری طرف دیکھ رہا تھا۔
ایک اور منظر بھی حافظے پر اسی طرح نقش ہے۔
ہمارے وارڈ میں زیر علاج ایک مریض، جو بظاہر صحت یاب ہو رہا تھا، اچانک دوبارہ دل کے دورے کا شکار ہوا اور انتقال کر گیا۔ ٹھٹھہ سے اس کے ساتھ آیا ہوا خاندان یہ خبر سنتے ہی غم سے نڈھال ہو گیا۔ اس کی ماں اور بیوہ چیخ چیخ کر رو رہی تھیں۔ پھر میں نے دیکھا کہ ساس نے اپنی بہو کی چوڑیوں سے بھری کلائیاں پکڑیں اور انہیں پتھریلی سیڑھیوں پر مار مار کر چوڑیاں توڑنے لگی۔ ٹوٹی ہوئی چوڑیوں سے اس عورت کی کلائیاں زخمی ہوئیں اور ان سے خون رسنے لگا۔
خون رستی ان کلائیوں کا منظر آج تک نہیں بھولا۔
میں دیر تک سوچتا رہا: شوہر کی اچانک موت میں اس عورت کا کیا قصور تھا؟ کیا بیوہ ہو جانا اس کی کوئی خطا تھی؟ غم کے اس ہولناک لمحے میں کیا اس سے اس کی چوڑیوں کے رنگ، اس کی خوشیوں کا حق اور شاید اس کی اپنی شناخت بھی چھین لینا ضروری تھا؟
اس ایک منظر نے عورت کے سماجی مقام، طبقاتی محرومی، روایت اور ناانصافی کے گرد گھومتے بہت سے سوال میرے ذہن میں چھوڑ دیے۔
آج اتنے برس بعد مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ڈاؤ میڈیکل کالج میں ہماری تعلیم Anatomy، Medicine اور Surgery تک محدود نہیں تھی۔
کینٹین، کالج کی سیڑھیوں اور لائبریری نے ہمیں دوستی، رفاقت، صنفی مساوات اور باہمی احترام سکھایا، جبکہ ہسپتال کے وارڈز نے غربت، محرومی، دکھ، موت اور سماجی ناانصافی کو محسوس کرنا سکھایا۔
ہم ڈاؤ میں ڈاکٹر بننے گئے تھے۔
وہاں سے نکلے تو طب کے ساتھ ساتھ انسانوں کے درمیان رہنا، انسانوں کو سمجھنا، ان کے دکھ کو محسوس کرنا، اور شاید خود بھی ایک بہتر انسان بننا سیکھ چکے تھے۔
