لیک کومو اور برنینا ایکسپریس
قسط نمبر 10, ٹرین نے خود کو مڑ کر دیکھا
شارق علی
ویلیوورسٹی
پندرہ منٹ کا مختصر وقفہ جیسے پلک جھپکتے گزر گیا۔
برف پوش پہاڑوں، بہتے جھرنوں اور سبز ڈھلوانوں کے درمیان چند یادگار تصویریں بنانے کے بعد ہم دوبارہ برنینا ایکسپریس میں سوار ہوگئے۔ اپنی نشستوں پر واپس پہنچے تو کچھ ہی دیر میں سرخ رنگ کی ٹرین دوبارہ روانہ ہوگئی۔
کھڑکی کے باہر الپس کا دلکش منظر ایک بار پھر زندہ ہوگیا۔
سبز چراگاہیں، پہاڑی ڈھلوانوں پر تعمیر شدہ چھوٹے بڑے گھر، کہیں پگھلتی برف کی سفید لکیریں اور کہیں گہری وادیوں میں بہتی ندیوں کی روانی۔
برنینا ایکسپریس میں بیٹھیے تو منزل سے زیادہ راستہ اہم محسوس ہوتا ہے۔
پھر اچانک ہمارا سامنا ایک ایسے منظر سے ہوا جس نے سبھی مسافروں کو کھڑکیوں کی طرف متوجہ کردیا۔
ہم بروزیو سرکلر وایاڈکٹ پر پہنچ چکے تھے۔
یہاں ریلوے لائن ایک حیرت انگیز حلقہ نما موڑ بناتی ہے۔ ٹرین مڑتی چلی جاتی ہے اور ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب کھڑکی سے باہر دیکھنے والا مسافر اپنی ہی ٹرین کو اپنے سامنے مڑتا ہوا دیکھ رہا ہوتا ہے۔
اگر آپ اگلے ڈبوں میں بیٹھے ہوں تو پیچھے آنے والے سرخ ڈبے ایک خوبصورت خم بناتے دکھائی دیتے ہیں، اور اگر پچھلے حصے میں ہوں تو آگے کے ڈبے پل پر مڑتے ہوئے یوں نظر آتے ہیں جیسے ٹرین خود اپنی طرف پلٹ رہی ہو۔
سرخ ڈبوں کی لمبی قطار، چاروں طرف پھیلا سبز پہاڑی منظر اور پتھریلے محراب دار پل پر بنتا ہوا ایک شاندار خم۔
یوں محسوس ہوا جیسے ٹرین سفر نہ کر رہی ہو، بلکہ کسی مصور نے کینوس پر پہاڑی منظر کے درمیان سرخ رنگ کی ایک متحرک لکیر کھینچ دی ہو۔
اس خوبصورتی کے پیچھے انجینئرنگ کی غیر معمولی ذہانت چھپی ہوئی ہے۔
بروزیو کا یہ مشہور پل محض خوبصورت منظر پیدا کرنے کے لیے نہیں بنایا گیا تھا۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ ٹرین کو بہت کم فاصلے میں خاصی بلندی سے نیچے لانا مقصود تھا۔ اگر ریلوے لائن سیدھی نیچے اتاری جاتی تو ڈھلوان اتنی تیز ہوجاتی کہ ٹرین کے لیے محفوظ سفر مشکل ہو جاتا۔
انجینئروں نے اس مسئلے کا نہایت ذہین حل نکالا۔
انہوں نے ریلوے لائن کو ایک بڑے دائرے کی صورت میں گھما دیا۔ ٹرین اس پتھریلے محراب دار پل پر گھومتی ہوئی بتدریج نیچے اترتی ہے۔ یوں سفر کا فاصلہ بڑھ جاتا ہے، مگر ڈھلوان قابلِ قبول حد میں رہتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایک مقام پر کھڑکی سے باہر دیکھیں تو اپنی ہی ٹرین کے اگلے یا پچھلے سرخ ڈبے ایک خوبصورت خم بناتے ہوئے سامنے دکھائی دیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں ڈھلوان تقریباً سات فیصد تک پہنچتی ہے، جو عام ریلوے کے لیے خاصی غیر معمولی سمجھی جاتی ہے۔ اس کے باوجود برنینا ایکسپریس کسی اضافی دانت دار ریل کے سہارے کے بغیر، اپنے پہیوں اور پٹری کے درمیان رگڑ کی قوت ہی سے اس دشوار پہاڑی راستے پر چڑھتی اور اترتی ہے۔
ایک طرف الپس کا قدرتی حسن اور دوسری طرف ایک صدی سے زیادہ پرانی انجینئرنگ کی ذہانت۔
بروزیو کے اس پل پر چند لمحوں کے لیے یہ دونوں ایک ہی منظر میں جمع ہوجاتے ہیں۔
یہ بھی برنینا لائن کی خصوصیت ہے کہ اس کا تقریباً اکسٹھ کلومیٹر طویل پہاڑی راستہ درجنوں پلوں، وایاڈکٹس، سرنگوں اور گیلریوں سے گزرتا ہے۔ قدرتی منظر اور انجینئرنگ کے اسی غیر معمولی امتزاج کی وجہ سے البولا اور برنینا ریلوے لائنیں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہیں۔
بروزیو پیچھے رہ گیا اور ٹرین مسلسل نشیب کی طرف بڑھنے لگی۔
اب پہاڑوں کا انداز بھی بدل رہا تھا۔
برفانی وسعتیں بہت پیچھے رہ چکی تھیں۔ سبزہ زیادہ گہرا ہوتا چلا جا رہا تھا، موسم میں جنوب کی نرمی محسوس ہونے لگی تھی اور کھڑکی کے باہر کا منظر آہستہ آہستہ سوئس الپس سے شمالی اٹلی کی فضا میں ڈھل رہا تھا۔
پھر کہیں راستے میں ایک ایسی سرحد بھی گزر گئی جس کا ہمیں احساس تک نہ ہوا۔
نہ کوئی سپاہی۔
نہ پاسپورٹ دکھانے کی قطار۔
نہ کوئی رکاوٹ، نہ پوچھ گچھ۔
سوئٹزرلینڈ اور اٹلی دونوں شینگن علاقے کا حصہ ہیں، اس لیے اس راستے پر معمول کی سرحدی جانچ نہیں ہوتی۔
یوں ایک ملک پیچھے رہ گیا اور دوسرا شروع ہوگیا، مگر سفر کی روانی میں کوئی وقفہ نہیں آیا۔
پھر برنینا ایکسپریس آہستہ آہستہ اپنی آخری منزل، تیرانو، میں داخل ہونے لگی۔
ہم اب اٹلی میں تھے۔
ٹرین رکی تو ہم اپنا سامان لے کر پلیٹ فارم پر اتر آئے۔
ہم جس ٹرین سے اترے تھے، وہ سوئٹزرلینڈ کی ریتیئن ریلوے کی ٹرین تھی اور تیرانو میں اس ریلوے کا اپنا اسٹیشن اور پلیٹ فارم موجود ہے، اگرچہ جغرافیائی طور پر یہ جگہ اٹلی ہی کا حصہ ہے۔
گویا سوئس ریلوے کا سفر سرحد عبور کرکے ہمیں اٹلی کے اندر لا کر رخصت کر رہا تھا۔
اسٹیشن کی عمارت سے باہر نکلتے ہی ماحول یکسر مختلف محسوس ہوا۔
چند گھنٹے پہلے ہم سینٹ مورٹز کے خوبصورت اور خوشحال سوئس ماحول میں تھے۔
اس کے بعد سفید جھیل، برفانی چوٹیاں، آبشاریں، سبز وادیاں اور بروزیو کا حیرت انگیز پل ہمارے سامنے سے گزرتے چلے گئے۔
اور اب ہم ایک بالکل نئی دنیا کے سامنے کھڑے تھے۔
تیرانو۔
شمالی اٹلی کا ایک چھوٹا سا قصبہ۔
زبان بدل چکی تھی۔
عمارتوں کا انداز بدل گیا تھا۔
سڑکوں کی فضا بدل گئی تھی۔
سفر کی سب سے خوبصورت بات شاید یہی ہوتی ہے کہ کبھی چند گھنٹے اور چند قدم انسان کو ایک دنیا سے دوسری دنیا میں لے جاتے ہیں۔
ہم نے اسٹیشن سے باہر قدم رکھا۔
برنینا ایکسپریس کا سفر ختم ہوچکا تھا۔
لیکن تیرانو کی کہانی ابھی شروع ہوئی تھی۔۔۔
جاری ہے
