کومو لیک اور برنینا ایکسپریس
ساتویں قسط, میلان میں آزاد دن
شارق علی
ویلیوورسٹی
ہمارے ٹور پروگرام کے لحاظ سے آج کا دن ایک آزاد دن تھا۔ نہ صبح سویرے اٹھنے یا کوچ اسٹیشن تک پہنچنے کی جلدی، نہ کسی گائیڈ کی ہدایات کی پابندی۔
آج میلان ہمیں اپنی مرضی سے ایکسپلور کرنا تھا۔
مونا کی ترجیح واضح تھی۔ بچوں، گھر کی آرائش اور دوستوں کے لیے تحائف خریدنا۔ میری آرزو مختلف تھی۔ میلان کے شہرۂ آفاق کیتھیڈرل، ڈوومو دی میلانو، کو قریب سے دیکھنا۔ اس کی انگلی تھام کر کچھ دیر تاریخ کی گلیوں میں چہل قدمی کرنا۔
ناشتے کے بعد ہوٹل سے نکلے۔ ٹرین کے ذریعے میلانو سینٹرالے پہنچے۔ وہاں سے ٹیکسی لی اور کورسو بیونس آئرس کا رخ کیا۔
یہ میلان کی ایک طویل شاپنگ اسٹریٹ ہے۔ گویا میلان کی طارق روڈ۔ لمبی سی سڑک اور دونوں جانب دکانیں، بڑے اسٹور اور خریداری کے بے شمار امکانات۔
ہم تقریباً گیارہ بجے وہاں پہنچے۔ ورکنگ ڈے تھا، مگر حیرت کی بات یہ کہ طارق روڈ کے مقابلے میں یہاں بالکل بھی رش نہیں تھا۔
ہم دونوں نے کچھ دکانیں ساتھ گھومیں۔ پھر دوستانہ ماحول میں یہ طے ہوا کہ وہ اطمینان سے اپنی پسند کی چیزیں دیکھیں اور میں اس عرصے میں ڈوومو کیتھیڈرل کی سیر کرکے لنچ تک واپس آ جاؤں۔
دو گھنٹے بعد ہمیں ٹرپ ایڈوائزر کے مطابق قریب واقع فور اسٹار لبنانی حلال ریسٹورنٹ میں دوبارہ ملنا تھا۔
میں نے قریبی میٹرو اسٹیشن کا رخ کیا۔ نیچے پہنچ کر ٹکٹ مشین دیکھی تو ہدایات اطالوی زبان میں درج تھیں۔ ساتھ ہی ایک چھوٹی سی کارنر شاپ نظر آئی۔ وہاں ایک جنوبی ایشیائی نوجوان، غالباً پاکستانی، بہت مصروف نظر آیا۔
معلوم ہوا کہ وہاں میٹرو کے ٹکٹ بھی فروخت ہوتے ہیں۔
پروگرام سن کر اس نے مشورہ دیا کہ پورے دن کا ڈے پاس لے لوں۔ تجویز معقول تھی۔ میں نے فوری طور پر دو پاس خرید لیے۔ اب میں میٹرو میں سوار ڈوومو اسٹیشن کی طرف روانہ تھا۔
ڈوومو اسٹیشن کی سیڑھیاں چڑھ کر باہر نکلا تو سامنے ایک بالکل ہی مختلف دنیا تھی۔
پیازا دل ڈوومو کے وسیع احاطے اور چمکتی دھوپ کے پس منظر میں میلان کا عظیم کیتھیڈرل میرے سامنے پوری آب و تاب سے کھڑا دمک رہا تھا۔
میں میدان نما احاطے میں کچھ فاصلے پر رک کر ساکت کھڑا ہوگیا۔
یہ عمارت پہلے دور سے اپنی تعمیراتی عظمت کو سراہنے کا مطالبہ کر رہی تھی۔
تاج محل کے بارے میں میری والدہ یہی بات کہا کرتی تھیں۔ دیکھنے والا دور ہی سے پہلی نظر میں مبہوت ہوجاتا ہے۔
ڈوومو بھی ایسی ہی عمارت ہے۔
پورا کیتھیڈرل سفیدی مائل سنگِ مرمر سے تعمیر ہوا ہے۔ بلند مینار، نوکیلی گوتھک محرابیں، باریک نقش و نگار اور جہاں نظر جائے وہاں سنگ تراشی کے اَن گنت شاہکار۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ پتھر کی ایک عمارت نہ ہو بلکہ ایک دیوہیکل سنگ تراش کا تخلیقی شاہکار ہو۔
اس کی کہانی بھی اس کے حُسن کی طرح غیر معمولی ہے۔
ڈوومو کی تعمیر 1386 میں شروع ہوئی۔ اگلے ہی برس جیان گالیاتسو وِسکونتی کی سرپرستی میں وینیراندا فابریکا دل ڈوومو قائم ہوئی، جس نے اس عظیم منصوبے کو آگے بڑھایا۔ مقامی اینٹ کے بجائے کانڈولیا کا سنگِ مرمر استعمال کرنے کا فیصلہ ہوا اور یورپ کے مختلف علاقوں سے معمار، انجینئر، سنگ تراش اور فنکار یہاں کام کرنے کے لیے آنے لگے۔
اسی لیے ڈوومو کو کسی ایک معمار کی تخلیق کہنا ممکن نہیں۔ یہ کئی نسلوں اور چھ صدیوں کا مشترکہ فن پارہ ہے۔
اٹھارہویں صدی میں اس کے عظیم مرکزی مینار پر سنہری مادونینا نصب ہوئی۔ پھر نپولین کے دور میں فَساڈ کو مکمل کرنے کے کام نے نئی رفتار پکڑی۔
بیسویں صدی تک دروازوں اور دوسری تفصیلات پر کام جاری رہا۔
تقریباً چھ صدیوں پر پھیلی مسلسل تعمیر۔
پھر میں نے آہستہ آہستہ اس عمارت کے گرد چلنا شروع کیا۔
ہر زاویے سے ڈوومو کچھ مختلف دکھائی دیتا ہے۔ کہیں مجسموں کا ہجوم، کہیں سنگِ مرمر کے بلند مینار۔ قریب جائیں تو باریک نقش و نگار حیران کرتے ہیں، فاصلے پر جائیں تو پوری عمارت ایک مربوط تصویر بن جاتی ہے۔
احاطے کے اردگرد کیفے اور ریسٹورنٹس میں لوگ بیٹھے تھے۔
سیاح نقشے دیکھ رہے تھے۔ خاندان تصویریں بنوا رہے تھے۔ کچھ محض دھوپ میں بیٹھے کافی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
دنیا کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے سیاح۔ کوئی جلدی میں، کوئی تصویر بنانے کے لیے موزوں زاویہ تلاش کرتا ہوا۔
کیتھیڈرل کی عمارت ساکت تھی اور اردگرد کی انسانی صورتِ حال مسلسل حرکت میں۔
ڈوومو دیکھ کر دائیں جانب بڑھا تو ایک اور حیرت میرا انتظار کر رہی تھی۔
یہ گالیریا وِتّوریو ایمانوئیل دوم تھی۔
شیشے اور لوہے کی عظیم الشان چھت کے نیچے پھیلی ہوئی ایک فیشن ایبل اور انتہائی مہنگی شاپنگ آرکیڈ۔ لندن کے ہیرڈز جیسے مہنگے شاپنگ سینٹر سے بھی کہیں زیادہ پوش۔
دکانوں کی شان و شوکت سے کہیں زیادہ مجھے اس کے تعمیراتی حسن نے متاثر کیا۔ فرش پر خوبصورت موزائیک ٹائلز، بلند محرابیں، شاندار شاپ فرنٹس اور اوپر شیشے کا عظیم ڈوم۔ یہ خریداری کی جگہ کم اور کسی شاہی محل کا اندرونی حصہ زیادہ محسوس ہوتی تھی۔
اس کی تاریخ بھی دلچسپ ہے۔
گالیریا کا سنگِ بنیاد 1865 میں رکھا گیا اور 1867 میں اس کا افتتاح ہوا، اگرچہ پیازا ڈوومو کی جانب اس کا عظیم داخلی آرچ چند برس بعد مکمل ہوا۔ اس کے معمار جوزیپے مینگونی تھے۔
انیسویں صدی میں یورپ میں شیشے اور لوہے کی چھت سے ڈھکی ایسی شاپنگ آرکیڈز شہری زندگی کی نئی علامت بن رہی تھیں۔ ایسے ثقافتی مقامات جہاں خریداری، کیفے کلچر، سماجی میل جول اور آرکیٹیکچر ایک ہی چھت کے نیچے جمع ہوجاتے تھے۔
میں خاصی دیر گالیریا میں گھومتا اور اس کے تعمیراتی حسن کو سراہتا رہا۔ مجھے وہاں شاپنگ سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔
پھر آرکیڈ سے نکل کر میں میٹرو کی طرف چل دیا۔
میٹرو شہر کی جدید تاریخ کا حصہ ہے۔ اس کی پہلی لائن، سرخ ایم ون، یکم نومبر 1964 کو کھولی گئی تھی۔ ابتدائی راستہ لوٹو سے سیستو ماریلی تک 12.3 کلومیٹر طویل تھا اور اس پر 21 اسٹیشن تھے۔ وقت کے ساتھ یہ نظام پھیلتا گیا اور آج شہر کے مختلف حصوں کو زیرِ زمین جال کی صورت میں آپس میں جوڑتا ہے۔
ڈے پاس جیب میں موجود تھا۔ میں طے شدہ وقت سے کچھ منٹ پہلے ہی واپس کورسو بیونس آئرس پہنچ چکا تھا۔
معلوم ہوا کہ شاپنگ حسبِ پسند و منشا مکمل ہوچکی ہے۔
اب دونوں کی مشترکہ دلچسپی تھی: لنچ۔
پہلے سے منتخب کردہ لبنانی حلال ریسٹورنٹ پہنچے تو کھانا اور میزبانی توقع سے زیادہ اچھی نکلی۔
خوب لطف اٹھایا گیا۔
اگلا دن اس پورے سفر کی مرکزی وجہ تھا: برنینا ایکسپریس۔
لبنانی کھانا اتنا پسند آیا کہ ٹیک اوے بھی لے لیا، تاکہ ہوٹل کے فریج میں رکھ کر بعد میں استعمال کیا جا سکے۔
لنچ کے بعد کسی نئی مہم کا ارادہ ترک کردیا گیا۔ طے ہوا کہ واپس ہوٹل جائیں، کچھ آرام کریں اور شام کو ہوٹل کے آس پاس مختصر سی چہل قدمی کرکے جلد آرام کریں۔
اگلی صبح جلد اٹھنا تھا۔
سوئٹزرلینڈ کے پہاڑوں، برف پوش چوٹیوں، جھیلوں اور وادیوں کے درمیان دوڑتی ایک سرخ ٹرین کے ساتھ سفر شروع کرنے کے لیے۔
کل ہمیں برنینا ایکسپریس پر سوار ہونا تھا۔۔۔
جاری ہے
