آزاد مسافر
شارق علی
ویلیوورسٹی
ایمسٹرڈم کی صبح میں عجب روانی ہے۔
شہر بیدار ہوتا ہے تو یوں نہیں لگتا کہ رات ختم ہوئی ہے، بلکہ جیسے کسی نے دیوار پر لٹکی حسین تصویر میں آہستہ سے حرکت بھر دی ہو۔
نہروں کے ساکت پانی پر صدیوں پرانی عمارتوں کے عکس جھلملانے لگتے ہیں۔ کہیں پل پر سائیکل کی گھنٹی بجتی ہے، کہیں ٹرام اپنی پٹری پر سرسراتی گزر جاتی ہے۔ سڑک کنارے سائیکلوں کی لمبی قطاریں، پانی میں تیرتی چھوٹی کشتیاں اور نہر کے دونوں طرف جھکی پرانی عمارتیں، سب مل کر ایک ایسے شہر کا نقشہ بناتی ہیں جو ماضی کو ساتھ لیے مستقبل کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔
اس صبح میں بھی ایک مسافر تھا۔
میری ٹرین ایمسٹرڈم سینٹرال سے روانہ ہونے والی تھی۔ ابھی خاصا وقت باقی تھا۔
ایمسٹرڈم سینٹرال اپنے آپ میں ایک چھوٹا سا شہر محسوس ہوتا ہے۔ بڑے ہال میں مسافروں کا مسلسل بہاؤ، فرش پر سوٹ کیسوں کے پہیوں کی آواز، مختلف زبانوں میں گفتگو، روشن ڈیپارچر بورڈ پر بدلتے شہروں کے نام اور وقفے وقفے سے گونجتے اعلانات۔
ہر شخص کہیں سے آیا تھا یا کہیں جا رہا تھا۔ بالکل ہماری زندگی کی طرح۔
میں ایک کافی ہاؤس میں جا بیٹھا۔ ہاٹ چاکلیٹ منگوائی اور کھڑکی کے باہر آتے جاتے لوگوں کو دیکھنے لگا۔
برابر والی میز پر ایک عمر رسیدہ شخص بیٹھا تھا۔ سفید ہوتے بال، گہرا سلیٹی کوٹ، سامنے کھلی کتاب اور کافی کا چھوٹا سا کپ۔
نظریں ملیں تو دونوں مسکرائے۔ میں ان کے ساتھ جا بیٹھا۔
’’میں اسپن ہوں،‘‘ انہوں نے ہاتھ بڑھایا، ’’پروفیسر اسپن۔‘‘
بات موسم سے سفر اور پھر فلسفے تک جا پہنچی۔
’’پہلے فلسفہ پڑھاتا تھا،‘‘ انہوں نے بتایا، ’’اب زیادہ تر خود پڑھتا ہوں۔‘‘
’’دونوں میں کیا فرق ہے؟‘‘
وہ مسکرائے۔
’’پڑھاتے ہوئے آدمی دوسروں کے سوالوں کے جواب دیتا ہے۔ پڑھتے ہوئے اپنے جوابوں پر سوال اٹھاتا ہے۔‘‘
میں نے پوچھا:
’’ہم کیسے جانیں کہ جسے ہم سچ سمجھتے ہیں، وہ واقعی سچ ہے؟‘‘
انہوں نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ ایک نوجوان لڑکی سائیکل پر گزری، پیچھے چھوٹی سی نشست پر بچہ بیٹھا تھا۔
’’یہی تو انسانی تاریخ کا بڑا سوال ہے۔ ایک وہ جو سچ ہے، اور ایک وہ جسے ہم سچ سمجھتے ہیں۔‘‘
’’تو فیکٹ اور اوپینین میں فرق؟‘‘
’’فیکٹ وہ ہے جسے ہماری پسند یا ناپسند سے الگ ایویڈنس کے ذریعے جانچا جا سکے۔ اوپینین وہ ہے جو ہم اس حقیقت کے بارے میں سوچتے ہیں۔‘‘
’’لیکن اگر لاکھوں لوگ ایک ہی بات پر یقین رکھتے ہوں؟‘‘
انہوں نے میز پر پڑے چینی کے پیکٹ کی طرف اشارہ کیا۔
’’اگر یہاں بیٹھے سب لوگ کہیں کہ اس میں نمک ہے، تو کیا چینی نمک بن جائے گی؟‘‘
میں ہنس دیا۔
’’نہیں۔‘‘
’’پھر اکثریت حقیقت کا معیار کیسے ہوئی؟‘‘
انہوں نے کافی کا گھونٹ لیا۔
’’انسان نے ہمیشہ فیکٹس سے دنیا کو نہیں سمجھا۔ جہاں علم نہیں تھا وہاں کہانیاں تھیں، سورج کہاں جاتا ہے، آسمان کیوں گرجتا ہے، قحط کیوں پڑتا ہے۔‘‘
’’مائتھس؟‘‘
’’ہاں، مگر مائتھ کو جھوٹ نہ سمجھنا۔ مائتھ اور فکشن انسانی تجربے کو معنی دے سکتے ہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم علامتی سچائی کو قابلِ آزمائش حقیقت سمجھ لیتے ہیں۔ شعر کو لیبارٹری رپورٹ سمجھنا بھی غلط ہے، اور لیبارٹری رپورٹ کو شعر سمجھنا بھی۔‘‘
میں مسکرا دیا۔
’’مگر آج ہمارے پاس سائنس اور انٹرنیٹ ہے۔‘‘
’’ہے، مگر ہمارے مائتھس بھی ہیں۔ صرف ان کے لباس بدل گئے ہیں۔ ہم اپنی قوم، اپنے نظریے، اپنے رہنماؤں اور خود اپنے بارے میں کہانیاں بناتے ہیں۔ پھر انہی کو ثابت کرنے کے لیے ایویڈنس تلاش کرتے ہیں۔‘‘
’’کنفرمیشن بائس؟‘‘
انہوں نے سر ہلایا۔
’’ہم سمجھتے ہیں کہ ہم جج ہیں، حالانکہ اکثر اپنے خیالات کے وکیل ہوتے ہیں۔‘‘
’’پھر آزاد فکر کیسے ممکن ہے؟‘‘
’’یہ پوچھ کر کہ میں کسی بات کو کیوں مانتا ہوں۔ اور کیا ایسی کوئی ایویڈنس ہے جو میری رائے بدل سکتی ہے؟‘‘
میں نے پوچھا:
’’اگر کوئی خیال میری آئیڈینٹیٹی کا حصہ بن چکا ہو؟‘‘
ان کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی۔
’’تب مشکل شروع ہوتی ہے۔ خیال آئیڈینٹیٹی بن جائے تو اختلاف دلیل نہیں رہتا، حملہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ دوسرا شخص غلط نہیں، دشمن دکھائی دینے لگتا ہے۔‘‘
اسی لمحے اسٹیشن پر اناؤنسمنٹ گونجا۔
پروفیسر اسپن نے گھڑی دیکھی۔
’’ہمیں چلنا چاہیے۔‘‘
ہم کافی ہاؤس سے نکلے۔ سامنے مسافر اپنے اپنے پلیٹ فارمز کی طرف بڑھ رہے تھے۔
چلتے چلتے میں نے پوچھا:
’’تو کیا آزاد فکر کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی چیز پر یقین ہی نہ رکھے؟‘‘
وہ رکے، میری طرف دیکھا، مگر جواب دیے بغیر مسکرا کر ہاتھ ملا لیا۔
ہم اپنے اپنے راستے چل پڑے۔
ٹرین ایمسٹرڈم سینٹرال سے روانہ ہوئی تو نہریں، پل اور پرانی عمارتیں آہستہ آہستہ پیچھے رہنے لگیں۔
نہ جانے کیوں میں نے فون نکالا اور لکھا:
اسپن۔ ایمسٹرڈم۔ فلاسفر۔
اسکرین پر ایک نام ابھرا:
باروخ اسپائنوزا۔
سن 1632 میں اسی ایمسٹرڈم میں پیدا ہونے والا فلسفی، عقل، آزادیِ فکر اور انسانی تعصبات کو سمجھنے کا داعی، جس نے اپنے زمانے کی طاقتور مذہبی اور فکری روایتوں کے سامنے آزادانہ سوال اٹھانے کی قیمت بھی ادا کی۔
میں نے فون بند کیا اور کھڑکی سے باہر دیکھا۔
تب جیسے پروفیسر اسپن کا ادھورا جواب مکمل ہوا:
’’ایسا انسان آزاد نہیں، خالی ہے۔ آزاد انسان کے پاس یقین ہوتے ہیں، مگر وہ اپنے یقین کو حقیقت پر حکومت نہیں کرنے دیتا۔‘‘
