Skip to content
Home » Blog » نویں قسط, جب دماغ نے آنے والے لمحے کا اندازہ لگایا

نویں قسط, جب دماغ نے آنے والے لمحے کا اندازہ لگایا

  • by

ذہانت کا ارتقاء
نویں قسط, جب دماغ نے آنے والے لمحے کا اندازہ لگایا

شارق علی
ویلیوورسٹی

گزشتہ قسط میں ہم نے دیکھا تھا کہ یادداشت نے جانداروں کو ماضی کے تجربے سے سیکھنے کی صلاحیت دی۔

لیکن سیکھنے کا اصل فائدہ صرف یہ نہیں تھا کہ گزرے ہوئے واقعات یاد رہیں۔

اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ تھی کہ ماضی کی مدد سے آنے والے لمحے کا اندازہ لگایا جا سکے۔

فرض کیجیے ایک جانور کسی خاص آواز کے فوراً بعد شکاری کو نمودار ہوتے دیکھتا ہے۔ اگر یہ تجربہ کئی مرتبہ دہرایا جائے تو آہستہ آہستہ وہ صرف آواز سنتے ہی چوکنا ہونے لگے گا۔

شکاری ابھی سامنے نہیں آیا۔

خطرہ ابھی موجود نہیں۔

لیکن دماغ نے اندازہ لگا لیا ہے کہ شاید اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے۔

یہ پیش گوئی یا prediction کی ایک ابتدائی شکل تھی۔

قدرت میں اس صلاحیت کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔

شکار کرنے والا جانور صرف اس جگہ نہیں دیکھتا جہاں شکار اس لمحے موجود ہے۔ وہ اس کی رفتار اور سمت دیکھ کر اندازہ لگاتا ہے کہ اگلے لمحے وہ کہاں ہوگا۔

اسی طرح شکار بننے والا جانور بھی شکاری کی حرکت دیکھ کر فرار کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ اسے صرف موجودہ خطرے کا جواب نہیں دینا بلکہ یہ اندازہ بھی لگانا ہوتا ہے کہ خطرہ کس سمت سے بڑھ رہا ہے۔

یوں دماغ کے لیے دنیا محض واقعات کا ایک سلسلہ نہیں رہی۔

وہ ان واقعات کے درمیان تعلق تلاش کرنے لگا۔

اگر یہ ہوا، تو اس کے بعد کیا ہو سکتا ہے؟

یہ سوال شاید الفاظ میں موجود نہیں تھا، لیکن جاندار کا رویہ اسی سوال کا جواب تلاش کر رہا تھا۔

اس صلاحیت نے بقا کے امکانات بڑھا دیے۔

جو جاندار خطرہ سامنے آنے کے بعد ہی حرکت کرتا، وہ اکثر دیر کر دیتا۔ لیکن جو خطرے کی ابتدائی علامت پہچان کر پہلے ہی ردِعمل دے سکتا تھا، اس کے بچنے کے امکانات زیادہ تھے۔

اسی طرح خوراک کی تلاش میں بھی صرف موجودہ معلومات کافی نہیں تھیں۔

سورج کی روشنی، موسم، کسی خاص بو، دوسرے جانوروں کی حرکت یا کسی راستے کی پہچان یہ اشارہ بن سکتی تھی کہ آگے خوراک کہاں ملنے کا امکان ہے۔

یوں ماضی کی یادداشت مستقبل کے اندازے میں تبدیل ہونے لگی۔

جدید neuroscience ہمیں بتاتی ہے کہ دماغ آج بھی صرف باہر سے آنے والی معلومات وصول کرنے والی مشین نہیں ہے۔ وہ مسلسل اندازے قائم کرتا رہتا ہے کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے، اور پھر آنے والی حسی معلومات سے اپنے اندازے کا موازنہ کرتا ہے۔

جب اندازہ درست نکلتا ہے تو دنیا ہمارے لیے مانوس اور قابلِ فہم رہتی ہے۔

اور جب کچھ توقع کے خلاف ہوتا ہے تو دماغ فوراً متوجہ ہو جاتا ہے۔

اچانک سنائی دینے والی آواز، راستے میں غیر متوقع حرکت یا کسی مانوس چہرے پر غیر معمولی تاثر فوراً ہماری توجہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔

کیونکہ دماغ کی توقع اور حقیقت کے درمیان فرق پیدا ہو گیا ہے۔

ارتقا کے طویل سفر میں یہ ایک اہم قدم تھا۔

زندگی اب صرف ماضی کو محفوظ نہیں کر رہی تھی۔
وہ ماضی کو استعمال کرکے مستقبل کے لیے تیار بھی ہونے لگی تھی۔

لیکن مستقبل کا اندازہ لگا لینا ابھی ذہانت کی آخری منزل نہیں تھی۔

ایک اور صلاحیت پیدا ہونا باقی تھی۔

اگر سامنے کوئی نیا مسئلہ ہو اور پرانا جواب کام نہ آئے تو کیا کیا جائے؟

کیا جاندار مختلف راستوں میں سے ایک راستہ منتخب کر سکتا ہے؟

کیا وہ کسی مقصد تک پہنچنے کے لیے نیا طریقہ تلاش کر سکتا ہے؟

یہیں سے ذہانت کی اگلی بڑی صلاحیت سامنے آتی ہے۔

مسئلہ حل کرنا۔

مزید اگلی قسط میں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *