Skip to content
Home » Blog » گلی کے نکڑ سے کائنات کی سرگوشی تک

گلی کے نکڑ سے کائنات کی سرگوشی تک

  • by

گلی کے نکڑ سے کائنات کی سرگوشی تک

شارق علی
ویلیوورسٹی

گلی کے نکڑ پر سائیکل مرمت کی چھوٹی سی دکان۔

یہ کراچی کا عام سا منظر ہے۔

وہ دس سالہ بچی سائیکل لیے مرمت کو پہنچی۔ اس بچی کے اسکول رپورٹ کارڈ پر استانی نے لکھا تھا: بہت ذہین، مگر باتونی اور قابو سے باہر۔

سائیکل میں کچھ خرابی تھی۔

بچی نے سائیکل والے سے یہ نہیں کہا:
’’میری سائیکل ٹھیک کر دیں۔‘‘
اس نے پوچھا:
’’اس میں کیا خرابی ہے؟ اور ٹھیک کیسے ہوگی؟‘‘

سائیکل والا اچھا استاد تھا۔ نہ کلاس روم، نہ بلیک بورڈ، نہ کسی یونیورسٹی کی ڈگری۔

اس نے بچی کے تجسس کو جھڑکا نہیں۔ اسے یہ کہہ کر واپس نہیں بھیجا کہ یہ تمہارے کرنے کا کام نہیں۔ اس نے اوزار اس کے ہاتھ میں دے دیے اور قدم بہ قدم سمجھانے لگا کہ خرابی کہاں ہے، کون سا پرزہ کیسے کھلے گا اور اسے دوبارہ اپنی جگہ کیسے لگایا جائے گا۔
اس دن بچی نے اپنے ہاتھوں سے اپنی سائیکل ٹھیک کی۔

پھر وہ وہاں سائیکل ٹھیک کروانے نہیں، اوزار ادھار لینے آنے لگی۔

اس بچی کا نام نرگس ماولوالا تھا۔

آج وہی باتونی اور ذہین بچی MIT School of Science کی ڈین اور دنیا کی ممتاز experimental physicists میں شمار ہوتی ہے۔
ایک غیر معمولی متجسس بچی، جو صرف یہ نہیں جاننا چاہتی تھی کہ مسئلہ ہے، بلکہ یہ بھی کہ کیوں ہے اور اسے درست کیسے کیا جا سکتا ہے۔

اور ایک عام سا سائیکل مکینک، مگر بہترین استاد،

جس نے اس تجسس کو روکنے کے بجائے اوزار اس بچی کے ہاتھ میں دے دیے۔

یہ صلاحیت کے پروان چڑھنے کی کہانی ہے۔

تجسس بچے کے اندر ہوتا ہے، مگر اسے پھلنے پھولنے کے لیے کسی ایسے انسان اور ایسے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے کہے: اچھا، تم خود کرکے دیکھو۔

نرگس لاہور میں پیدا ہوئیں لیکن بچپن کراچی میں گزرا۔ Convent of Jesus and Mary میں تعلیم پائی۔ گھر میں بھی ایسا ماحول ملا جہاں دونوں بیٹیوں کی تعلیم اہم تھی اور نرگس کی چیزیں کھولنے، بنانے اور سمجھنے کی عادت کو محض شرارت سمجھ کر دبا نہیں دیا گیا۔

پھر اس متجسس بچی کا سفر کراچی سے امریکا کے Wellesley College تک پہنچا، جہاں انہوں نے Physics اور Astronomy پڑھی۔ مالی معاونت اس سفر میں اہم تھی۔ بعد میں MIT پہنچیں، جہاں Rainer Weiss کی رہنمائی میں gravitational waves کی detection سے متعلق تحقیق کی اور 1997 میں PhD مکمل کی۔
یہاں سے سائیکل کے اوزاروں کی جگہ lasers، mirrors اور انتہائی حساس سائنسی آلات نے لے لی، لیکن بنیادی سوال شاید وہی رہا:

یہ کام کیسے کرتا ہے؟

یہی سوال انہیں LIGO سے وابستہ اس عظیم سائنسی کوشش تک لے گیا جس کا مقصد کائنات کی ایک ایسی سرگوشی سننا تھا جس کی پیش گوئی آئن سٹائن نے ایک صدی پہلے کی تھی۔

جب دو بلیک ہولز آپس میں ٹکراتے ہیں تو زمان و مکان میں نہایت لطیف لہریں پیدا ہوتی ہیں، جنہیں gravitational waves کہتے ہیں۔ زمین تک پہنچتے پہنچتے ان کا اثر ناقابلِ تصور حد تک معمولی رہ جاتا ہے۔

انہیں محسوس کرنے کے لیے ایسے آلات درکار تھے جو معمولی سے معمولی ارتعاش اور شور کے درمیان اصل signal کو پہچان سکیں۔
2015 میں LIGO نے پہلی مرتبہ gravitational waves کو براہِ راست detect کیا۔ انسان نے کائنات کو دیکھنے کے ساتھ ایک نئے انداز میں ’’سننا‘‘ بھی شروع کر دیا۔

نرگس ماولوالا کی تحقیق خصوصاً انتہائی حساس پیمائش، lasers اور quantum noise کو کم کرنے کی تکنیکوں سے وابستہ رہی ہے۔

لیکن ان کی کہانی کو صرف ایک غیر معمولی سائنس دان کی ذاتی کامیابی سمجھنا شاید اس کا سب سے اہم سبق کھو دینا ہے۔
کیونکہ ذہانت اکیلی سفر نہیں کرتی۔
اسے والدین کی حوصلہ افزائی، اچھے اساتذہ، مالی مدد، تجربہ گاہ، علمی آزادی، تحقیق کے وسائل، ناکام ہونے کی گنجائش اور ایسے اداروں کی ضرورت ہوتی ہے جہاں سوال پوچھنا مسئلہ نہیں بلکہ علم کی ابتدا سمجھا جائے۔

ان دنوں نرگس ماولوالا دوبارہ کراچی میں ہیں۔

جامعہ کراچی میں ان کا لیکچر سننے اور ان سے ملنے کا مجھے بہت اشتیاق تھا، مگر میں ہزاروں میل دور برطانیہ میں ہوں۔

شاید اسی فاصلے سے ان کی زندگی کا ایک پہلو زیادہ واضح دکھائی دیتا ہے۔

ہمیں نرگس ماولوالا پر فخر ضرور کرنا چاہیے، لیکن صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ پاکستان کی بیٹیاں بھی نرگس بن سکتی ہیں۔
اصل سوال زیادہ مشکل ہے۔

آج ہمارے کسی اسکول میں کوئی بچی بہت زیادہ سوال پوچھ رہی ہوگی۔ کسی کے ہاتھ میں ٹوٹا ہوا کھلونا ہوگا، کوئی کمپیوٹر کھول کر اندر دیکھنا چاہتی ہوگی اور کسی کے رپورٹ کارڈ پر شاید پھر لکھا جا رہا ہوگا:
’’بہت ذہین، مگر بہت باتونی۔‘‘
کیا ہمارے گھر، اسکول اور جامعات اس تجسس کو پہچان سکیں گے؟

کائنات کی سرگوشی ہمیشہ موجود تھی۔ اسے سننے کے لیے انسان کو LIGO جیسا حساس آلہ بنانا پڑا۔
صلاحیت بھی ہمارے بچوں میں موجود ہے۔
ہمیں صرف ایسے گھر، استاد اور ادارے بنانے ہیں جو اسے سن سکیں۔

اور کبھی کبھی اس سفر کی ابتدا اتنی سادہ ہوتی ہے کہ گلی کے نکڑ پر کھڑا ایک سائیکل والا اوزار ایک متجسس بچی کے ہاتھ میں دے کر کہتا ہے:
’’اچھا، اب تم خود کرکے دیکھو۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *