Skip to content
Home » Blog » کہانی نمبر 5, جب جسم نے دیکھنا سیکھا

کہانی نمبر 5, جب جسم نے دیکھنا سیکھا

  • by

ذہانت کا ارتقاء
کہانی نمبر 5, جب جسم نے دیکھنا سیکھا

شارق علی
ویلیوورسٹی

پچھلی قسط میں ہم نے دیکھا تھا کہ ارتقاء نے اعصابی خلیوں کو منظم کرنے کے لیے پہلا اعصابی مرکز پیدا کیا۔ اب جسم کے اندر ایک طرح کا “کنٹرول روم” موجود تھا۔
لیکن ایک نئی مشکل سامنے آگئی۔

کنٹرول روم تو بن گیا تھا، مگر اس کے پاس معلومات کہاں سے آئیں؟

فرض کیجیے ایک شہر میں بہترین میئر موجود ہو، جدید دفتر بھی ہو، لیکن شہر میں کیا ہو رہا ہے اس کی کوئی خبر ہی نہ پہنچے۔ نہ کوئی رپورٹر ہو، نہ کوئی کیمرہ، نہ کوئی پیغام رسان۔

ایسی صورت میں بہترین انتظامیہ بھی بے کار ہو جائے گی۔
کچھ ایسا ہی مسئلہ ابتدائی جانداروں کو درپیش تھا۔

اس زمانے کے سمندروں میں زندگی نسبتاً پیچیدہ ہو چکی تھی۔ شکار کرنے والے جاندار بھی پیدا ہو رہے تھے اور شکار بننے والے بھی۔ اب صرف حرکت کرنا کافی نہیں تھا۔ زندہ رہنے کے لیے ماحول کو زیادہ درست طریقے سے محسوس کرنا ضروری ہو گیا تھا۔
چنانچہ ارتقاء نے ایک حیرت انگیز قدم اٹھایا۔

کچھ خلیے روشنی کے لیے حساس ہونے لگے۔

شروع میں یہ آنکھیں نہیں تھیں، صرف ایسے خلیے تھے جو روشنی اور اندھیرے کا فرق محسوس کر سکتے تھے۔ لیکن یہ معمولی سی صلاحیت بھی زندگی اور موت کے درمیان فرق پیدا کر سکتی تھی۔

آہستہ آہستہ یہی خلیے چھوٹے گڑھوں کی شکل اختیار کرنے لگے، جن سے جاندار روشنی کی سمت کا اندازہ لگا سکتے تھے۔

دوسرے خلیے پانی میں موجود کیمیائی مادوں کو محسوس کرنے لگے۔ کچھ خلیوں نے جسم کے توازن اور حرکت کی نگرانی شروع کر دی۔

اب پہلی مرتبہ جاندار صرف ردِعمل نہیں دے رہے تھے بلکہ اپنے اردگرد کی دنیا کی ایک ابتدائی “تصویر” اپنے اعصابی مرکز تک پہنچا رہے تھے۔

یہی وہ لمحہ تھا جب ابتدائی دماغ کی بنیاد پڑنے لگی۔

فطرت گویا ایک ایسا کمپیوٹر بنا رہی تھی جو صرف پیغامات وصول نہیں کرتا تھا بلکہ مختلف ذرائع سے آنے والی معلومات کو جوڑ کر بہتر فیصلے بھی کرنے لگا تھا۔

اور یہی ہمیں اگلی کہانی تک لے جاتا ہے

جب ابتدائی دماغ نے مختلف معلومات کو ملا کر دنیا کا ایک نقشہ بنانا شروع کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *