ذہانت کا ارتقاء
کہانی نمبر 4, پہلا اعصابی مرکز
شارق علی
ویلیوورسٹی
پچھلی قسط میں ہم نے دیکھا تھا کہ ارتقاء نے ایک حیرت انگیز قدم اٹھاتے ہوئے اعصابی خلیے یا نیورونز پیدا کیے۔
ان خلیوں کی بدولت معلومات جسم میں تیزی سے سفر کرنے لگیں۔ اب خطرے، خوراک یا ماحول میں تبدیلی کی خبر چند لمحوں میں جسم کے مختلف حصوں تک پہنچ سکتی تھی۔
لیکن ایک نئی مشکل سامنے آگئی۔
جیسے جیسے جانداروں میں اعصابی خلیوں کی تعداد بڑھنے لگی، معلومات کا سیلاب بھی بڑھنے لگا۔ جسم کے مختلف حصوں سے آنے والے پیغامات ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے۔ سوال یہ تھا کہ ان تمام اطلاعات کو منظم کون کرے؟
اس مسئلے کو ایک سادہ مثال سے سمجھیے۔
فرض کیجیے ایک شہر میں ہزاروں لوگ ایک دوسرے کو مسلسل فون کر رہے ہوں، لیکن کوئی مرکزی دفتر یا کنٹرول روم موجود نہ ہو۔ جلد ہی افراتفری پیدا ہو جائے گی۔ اسی طرح ابتدائی اعصابی جال بھی ایک حد کے بعد ناکافی ثابت ہونے لگا۔
چنانچہ ارتقاء نے ایک اور اہم قدم اٹھایا۔
بعض اعصابی خلیے جسم کے ایک حصے میں جمع ہونا شروع ہو گئے۔ یہ خلیے آنے والی معلومات کو اکٹھا کرتے، ان کا موازنہ کرتے اور پھر مناسب ردِعمل کا حکم جاری کرتے تھے۔ یہی ابتدائی اعصابی مرکز (Nerve Center) تھا، جو بعد میں دماغ کی بنیاد بنا۔
اس مرحلے کی ایک دلچسپ مثال فلیٹ ورم (Planarian) ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا چپٹا کیڑا ہے جو پانی میں رہتا ہے۔ اس کے جسم میں اعصابی خلیوں کے دو چھوٹے گچھے موجود ہوتے ہیں جو ایک ابتدائی دماغ کی طرح کام کرتے ہیں۔ یہ روشنی اور تاریکی میں فرق کر سکتا ہے، رکاوٹوں سے بچ سکتا ہے اور خوراک کی سمت کا تعین بھی کر سکتا ہے۔
یہ شاید آج کے انسانی دماغ کے مقابلے میں انتہائی سادہ نظام تھا، لیکن ارتقاء کے لیے یہ ایک عظیم کامیابی تھی۔
پہلی مرتبہ معلومات صرف منتقل نہیں ہو رہی تھیں بلکہ ایک جگہ جمع ہو کر ان پر عمل بھی کیا جا رہا تھا۔ گویا جسم نے پہلی بار ایک “مرکزی دفتر” قائم کر لیا تھا۔
لیکن ارتقاء ابھی مزید حیرتیں اپنے دامن میں چھپائے بیٹھا تھا۔
اگر ایک چھوٹا سا اعصابی مرکز اتنا کچھ کر سکتا تھا، تو کیا ہوتا اگر یہ مرکز مزید بڑا، زیادہ پیچیدہ اور زیادہ طاقتور ہو جاتا؟
اسی سوال نے ارتقاء کو اگلے عظیم مرحلے کی طرف دھکیلا.
ابتدائی دماغ کا ظہور۔
یہ کہانی اگلی قسط میں۔
ذہانت کے ارتقاء کے اس دلچسپ سفر میں ہمارے ساتھ رہیے۔
