زاہدہ حنا
لفظ خاموش نہیں
شارق علی
ویلیوورسٹی
میڈیکل کالج کے دن تھے اور میں سالانہ مشاعرے کی انتظامیہ میں شامل تھا۔ دلاور فگار، رئیس امروہوی، سلیم کوثر اور دوسرے شعرا کو دعوت دینے کا سلسلہ جاری تھا۔ اسی سلسلے میں ہم تین دوست، غالباً گلشنِ اقبال میں واقع جون ایلیا صاحب کے گھر، انہیں مشاعرے میں شرکت کی دعوت دینے پہنچے۔
وہیں زاہدہ حنا صاحبہ سے بھی ایک مختصر ملاقات ہوئی۔
اس وقت ہماری توجہ جون ایلیا صاحب پر مرکوز تھی، اس لیے زاہدہ حنا صاحبہ کے حوالے سے اس ملاقات کی کوئی خاص بات یاد نہیں۔ صرف اتنا یاد رہا کہ وہ خود بھی ایک معتبر لکھنے والی اور ’’عالمی ڈائجسٹ‘‘ کی مدیرہ تھیں۔
عمر، تجربے اور ادبی مقام کے اعتبار سے وہ ہم سے بہت سینئر تھیں، اس لیے اس مختصر ملاقات میں احترام کا احساس حاوی رہا۔
جون ایلیا سے بعد میں بھی ایک نسبتاً تفصیلی ملاقات ہوئی، جب ہمارے ادبی حلقے ’’تخلیق سرکل‘‘ نے ان کے ساتھ ایک ادبی شام منعقد کی۔ لیکن زاہدہ حنا سے پھر کبھی ملنا نہ ہوا۔
بعض لوگوں سے اصل ملاقات بالمشافہ نہیں، ان کے لکھے ہوئے لفظوں کے ذریعے ہوتی ہے۔
زاہدہ حنا سے میری اصل واقفیت بھی ان کی کہانیوں، کالموں اور ان سوالوں کے حوالے سے ہوئی جو ان کی تحریریں اپنے معاشرے سے مسلسل پوچھتی رہی ہیں۔
ان کی زندگی کا آغاز بہار کے شہر سہسرام سے ہوا۔
گھر کا ماحول کتابوں اور مطالعے سے گہری وابستگی رکھتا تھا۔ بچپن ہی سے اردو ادب، شاعری، داستان اور تاریخ ان کی دلچسپی کا حصہ بن گئے۔ رسمی تعلیم نسبتاً بعد میں شروع ہوئی، لیکن گھر میں مطالعے کا سفر پہلے ہی آغاز کر چکا تھا۔
نو برس کی عمر میں انہوں نے اپنی پہلی کہانی لکھی۔
آگے چل کر یہی شوق افسانے، ناول، ڈرامے، ترجمے اور صحافت کے ایک طویل سفر میں بدل گیا۔
اردو صحافت میں ان کے کالم نے انہیں قارئین کے اس بڑے حلقے تک پہنچایا جو ضروری نہیں کہ افسانے اور ناول کا مستقل قاری ہو۔ دوسری طرف قیدی سانس لیتا ہے، تتلیاں ڈھونڈنے والی، راہ میں اجل ہے، رقصِ بسمل ہے جیسے افسانوی مجموعے اور درد کا شجر جیسے ناول ان کے تخلیقی سفر کی اہم نشانیاں بنتے گئے۔
ان کے منتخب افسانوں کا انگریزی مجموعہ The House of Loneliness بھی شائع ہوا، جس کے مترجمین میں فیض احمد فیض، محمد عمر میمن، ثمینہ رحمان اور شاہ بانو علوی سمیت متعدد اہلِ قلم شامل تھے۔
زاہدہ حنا کی تحریر کو صرف کہانی کہہ دینا شاید کافی نہیں۔
ان کے ہاں تاریخ بار بار حال کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔
جنگ، آمریت، عورت کی آزادی، انسانی حقوق، جوہری ہتھیار، امن اور آزادیٔ اظہار جیسے موضوعات ان کی تحریروں میں محض سیاسی نعرے بن کر نہیں آتے۔ ان کے پیچھے تاریخ کا ایک وسیع مطالعہ اور انسانی آزادی سے وابستگی دکھائی دیتی ہے۔
ان کا قلم اقتدار کے ایوانوں کے سامنے کبھی بہت آرام دہ قلم نہیں رہا۔
2006 میں فوجی حکومت کے زمانے میں انہیں صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی Pride of Performance دینے کا اعلان ہوا تو انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ بعد میں، 2011 میں، جمہوری حکومت کے دور میں انہوں نے یہی اعزاز قبول کیا۔
اختلاف کو صرف لفظوں تک محدود نہ رکھنا اور اپنے مؤقف کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار رہنا ان کے فکری رویے کا اہم حصہ رہا ہے۔
ان کی پہلی افسانوی کتاب قیدی سانس لیتا ہے 1983 میں شائع ہوئی۔ اس کا سرورق صادقین نے بنایا تھا۔
کتاب کا نام اپنے اندر ہی ایک پورا استعارہ رکھتا ہے:
قیدی سانس لیتا ہے۔
شاید زاہدہ حنا کے تخلیقی کام کا ایک بڑا حصہ اسی مختصر جملے کی توسیع ہے۔
قید موجود ہے۔
زنجیر موجود ہے۔
جبر موجود ہے۔
لیکن انسان ابھی سانس لے رہا ہے۔
اور جب تک سانس باقی ہے، سوال بھی باقی ہے۔
زاہدہ حنا نے اردو کے افسانوی ادب کے ساتھ صحافت میں بھی کئی دہائیاں گزاریں۔ عالمی ڈائجسٹ کی ادارت سے اخباری کالم تک، ان کے لیے تحریر محض پیشہ ورانہ سرگرمی نہیں رہی۔ انسانی اور جمہوری حقوق، عورت کے مقام اور آزادیٔ اظہار سے ان کی وابستگی ان کے صحافتی اور ادبی کام، دونوں میں دکھائی دیتی ہے۔
ان کی تحریریں انگریزی، جرمن، روسی، ہندی، سندھی، گورمکھی، مراٹھی، بنگالی اور پشتو سمیت متعدد زبانوں میں منتقل ہوئی ہیں۔
2001 میں انہیں SAARC Literary Award ملا۔
وقت گزرتا رہا اور اعتراف کے دائرے وسیع ہوتے گئے۔
اپریل 2025 میں کراچی کی آرٹس کونسل میں انہیں آزادیٔ اظہار اور صحافتی و ادبی خدمات کے اعتراف میں احفاظ الرحمٰن لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔ صحت کی خرابی کے باعث وہ خود تقریب میں شریک نہ ہوسکیں اور ان کی بڑی بیٹی فینانہ نے ان کی جانب سے اعزاز وصول کیا۔
اپنے پیغام میں زاہدہ حنا نے ان مشکل زمانوں کو یاد کیا جن میں وہ اور احفاظ الرحمٰن جبر اور سنسرشپ کے ماحول میں لکھتے رہے تھے۔
لیکن کسی لکھنے والے کا اصل اعزاز شاید شیلڈ، تمغہ یا سند نہیں ہوتا۔
اصل اعزاز یہ ہے کہ کئی دہائیاں گزرنے کے بعد بھی اس کے اٹھائے ہوئے سوال غیر متعلق نہ ہوں۔
زاہدہ حنا نے جس آزادیٔ فکر کی بات کی، جس عدم برداشت کو چیلنج کیا، جنگ اور تشدد کے مقابل جس انسانی وقار کا دفاع کیا اور عورت کو تاریخ اور سماج کے ایک مکمل انسان کے طور پر دیکھا، وہ سوال آج بھی ہمارے سامنے موجود ہیں۔
2017 میں ان کے افسانوں کے انگریزی مجموعے کی تقریبِ رونمائی میں انہوں نے اپنے تخلیقی عمل کے بارے میں ایک سادہ سی بات کہی تھی۔ کوئی واقعہ یا لمحہ انہیں اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور پھر وہ اس کیفیت میں ڈوب کر لکھتی چلی جاتی ہیں۔
بچپن کی طلسمِ ہوش ربا اور داستانِ امیر حمزہ سے لے کر جدید تاریخ کے جنگوں، ہجرتوں اور انسانی المیوں تک، شاید یہی مختلف دنیائیں ان کے تخیل میں ایک دوسرے سے ملتی رہی ہیں۔
مجھے گلشنِ اقبال کے اس گھر کی وہ مختصر اور رسمی ملاقات اب پوری طرح یاد نہیں۔
لیکن آج وہ ملاقات ایک اور معنی رکھتی ہے۔
یہ ایک ایسی لکھنے والی سے چند لمحوں کی ملاقات تھی جس کے لفظوں سے میری اصل ملاقات بہت بعد میں ہوئی۔
خراجِ تحسین کا بہترین وقت یہی ہے, جب صاحبِ قلم ہمارے درمیان موجود ہو۔
محترمہ زاہدہ حنا، آپ کا سب سے بڑا اعزاز شاید یہی ہے کہ آپ نے جو لکھا، وہ پڑھا گیا۔
آپ نے جو سوال اٹھائے، وہ سنے گئے۔
آپ نے جن زنجیروں کی طرف اشارہ کیا، وہ ہمیں دکھائی دیں۔
اور اردو ادب کی طویل راہداری میں آپ کے لفظوں کی آواز آج بھی سنائی دیتی ہے۔
زاہدہ حنا صاحبہ، یہ تحریر آپ کی زندہ آواز کے احترام میں ہے۔
