سرحد کے اُس پار تیرانو
گیارہویں قسط
شارق علی
ویلیوورسٹی
ٹرین آہستہ آہستہ رفتار کم کرنے لگی۔ کھڑکی سے نظر آتے برف پوش پہاڑ پیچھے رہ گئے تھے۔ بلندی کم اور موسم نرم ہو رہا تھا۔ منظر میں تبدیلی محسوس ہونے لگی تھی۔
کچھ دیر بعد ٹرین ایک چھوٹے سے اسٹیشن پر آ کر رک گئی۔
Tirano — تیرانو۔
ہم سوئٹزرلینڈ سے نکل کر اٹلی پہنچ چکے تھے۔
جس پلیٹ فارم پر ٹرین رکی، وہ جغرافیائی طور پر اٹلی میں تھا، مگر یہ اسٹیشن سوئٹزرلینڈ کی مشہور Rhaetian Railway (RhB) کے نظام کا آخری سرا تھا۔
گویا سوئس ریلوے کی ایک باریک سی لکیر پہاڑوں کو عبور کرتی، اٹلی کے اندر آ کر یہاں ختم ہو رہی تھی۔
ہم پلیٹ فارم سے نکل کر اسٹیشن سے باہر آئے تو سامنے موجود چوک کے دوسری جانب دوسرے ریلوے اسٹیشن کی عمارت تھی، جہاں سے ٹرینیں اٹلی کے مختلف شہروں کی طرف روانہ ہوتی ہیں۔ گویا ایک طرف سوئٹزرلینڈ کی طرف جانے والی سرخ RhB ٹرینیں، اور دوسری طرف اٹلی کے اندر جانے والی اطالوی ٹرینیں۔
ایک اسٹیشن سے آپ سینٹ مورٹز اور سوئس الپس کی طرف روانہ ہو سکتے ہیں، اور چند قدم چل کر دوسرے اسٹیشن سے اطالوی ریل پکڑ کر سونڈریو، لیک کومو اور میلان کی سمت جا سکتے ہیں۔
دو ملک، دو ریلوے نظام اور درمیان میں صرف چند قدم کا فاصلہ۔
اسٹیشن سے باہر نکلتے ہی اور تیرانو میں داخل ہوتے ہی ہمیں پہلا احساس یہ ہوا کہ دنیا واقعی بدل گئی ہے۔
چند گھنٹے پہلے ہم سینٹ مورٹز میں تھے۔ سوئٹزرلینڈ کا نہایت متمول، نفیس اور مہنگا پہاڑی تفریحی مقام۔ شاندار ہوٹل، قیمتی دکانیں، ترتیب سے سجی سڑکیں اور وہ مخصوص سوئس خوش حالی جو عمارتوں سے لے کر لوگوں کے لباس تک میں دکھائی دیتی ہے۔
تیرانو کا مزاج مختلف تھا۔
یہاں زندگی زیادہ سادہ اور شاید زیادہ بے تکلف محسوس ہوئی۔
چھوٹی دکانیں، کیفے، گروسری اسٹور، عام سے مکان، گلیوں میں چلتے مقامی لوگ اور روزمرہ زندگی کی وہ ہلچل جو سینٹ مورٹز کی polished خاموشی سے بالکل مختلف تھی۔
یوں لگا جیسے چند گھنٹوں کے ریل سفر نے ہمیں کسی پہاڑ کے ایک رخ سے دوسرے رخ تک نہیں پہنچایا، بلکہ یورپ کے دو مختلف معاشرتی مزاجوں کے درمیان لا کھڑا کیا ہو۔
وہاں سوئس ترتیب تھی۔
یہاں اطالوی بے تکلفی۔
وہاں خاموش خوش حالی تھی۔
یہاں بازار کی آواز اور روزمرہ زندگی کی حرارت۔
اور یہی تیرانو کا حسن تھا۔
ایک قدیم سرحدی بستی
تیرانو کوئی نیا قصبہ نہیں ہے۔
اس علاقے میں انسانی آبادی کے آثار بہت قدیم ہیں، جبکہ تحریری دستاویزات میں تیرانو کا ذکر گیارہویں صدی سے ملتا ہے۔ بارہویں صدی میں یہ ایک آزاد commune بنا اور بعد میں شمالی اٹلی کی بدلتی ہوئی سیاسی طاقتوں کا حصہ بنتا رہا۔
پندرھویں صدی کے آخر میں، جب شمال کی طرف سے حملوں کا خطرہ بڑھا، تو میلان کے حکمران Ludovico il Moro نے یہاں فصیلیں اور دفاعی تعمیرات بنوائیں۔ ان پرانی فصیلوں کے کچھ حصے اور قدیم دروازے آج بھی تیرانو کے تاریخی مرکز میں موجود ہیں۔
شہر کے ساتھ دو دریا، Adda اور Poschiavino، بھی جڑے ہوئے ہیں۔ تیرانو کے نام کی ایک قدیم تشریح اسے لاطینی inter amnes یعنی ’’دریاؤں کے درمیان‘‘ سے جوڑتی ہے۔
تیرانو کی تاریخ کا سب سے مشہور واقعہ 1504 میں پیش آیا۔
مقامی روایت کے مطابق یہاں Mario Omodei نامی شخص کو حضرت مریمؑ کی زیارت ہوئی۔ اسی مقام پر بعد میں شاندار Basilica della Madonna di Tirano تعمیر ہوئی، جو رفتہ رفتہ پورے Valtellina خطے کا اہم مذہبی مرکز بن گئی۔
زائرین آنے لگے، پھر ان کے ساتھ تاجر آئے، میلے لگے اور تیرانو عبادت گاہ کے ساتھ ساتھ تجارت کا بھی ایک اہم مرکز بنتا گیا۔
تیرانو میں گھومتے ہوئے ایک بات بہت دلچسپ لگی۔
یہاں اٹلی اور سوئٹزرلینڈ کا بارڈر نقشے پر تو موجود ہے، لیکن روزمرہ زندگی میں اس کی سختی بہت کم محسوس ہوتی ہے۔ لوگ دونوں طرف آزادانہ آتے جاتے ہیں۔
سوئٹزرلینڈ مہنگا ملک ہے، اس لیے سرحدی علاقوں کے بہت سے سوئس باشندوں کے لیے اٹلی میں گروسری اور دوسری روزمرہ خریداری سستی اور پرکشش ہوتی ہے۔ تیرانو جیسے قصبوں کی دکانیں یوں صرف مقامی لوگوں کی نہیں رہتیں؛ سرحد کے دوسری طرف سے آنے والے خریدار بھی اس معاشی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔
صبح کے وقت یہی بہاؤ دوسری سمت چل پڑتا ہے۔
اٹلی میں رہنے والے بہت سے لوگ کام کرنے کے لیے سوئٹزرلینڈ کا رخ کرتے ہیں، جہاں اجرتیں عموماً زیادہ ہیں۔
یہ صرف تیرانو تک محدود phenomenon نہیں۔ اٹلی اور سوئٹزرلینڈ کی پوری سرحد پر ہزاروں لوگوں کی زندگی اسی روزانہ آمدورفت سے جڑی ہے۔
یوں ایک دلچسپ معاشی رشتہ وجود میں آتا ہے:
کام سوئٹزرلینڈ میں، زندگی اٹلی میں۔
اور کبھی کبھی،
آمدنی سوئس، خریداری اطالوی۔
یہ محض ایک دلچسپ جملہ نہیں بلکہ سرحدی یورپ کی معاشی حقیقت ہے۔
ہم تیرانو کی گلیوں میں چلتے ہوئے سوچ رہے تھے کہ سرحدیں شاید سیاسی نقشوں پر سیدھی لکیروں کی صورت بنائی جا سکتی ہیں، لیکن انسانی زندگی اتنی سیدھی نہیں ہوتی۔
تیرانو ایک علامت ہے، دو دنیاؤں کے درمیان ایک دروازہ۔
تیرانو میں برنینا ایکسپریس کا سفر ختم ہوا تھا۔ میلان واپسی کا سفر ابھی باقی تھا۔۔۔
جاری ہے
