کومو لیک اور برنینا ایکسپریس
میلان سینٹرالے, چھٹی قسط
شارق علی
ویلیوورسٹی
ہم میلان سٹی سینٹر میں داخل ہو رہے تھے۔ کوچ کی شیشے کی بڑی سی کھڑکی سے دکھائی دیتے مناظر اور گائیڈ کا مخصوص دلکش انداز میں شہر کا تعارف، دونوں ایک ساتھ جاری تھے۔
میلان نہ صرف اٹلی بلکہ یورپ کا ایک اہم معاشی اور تجارتی مرکز شمار ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں فیشن، ڈیزائن، کاروبار اور جدید صنعت کے حوالے سے اس کی ایک منفرد شناخت ہے۔ گائیڈ نے بتایا کہ اس بظاہر جدید شہر کی گلیوں میں تقریباً دو ہزار سال پرانی تاریخ بھی سانس لیتی ہے۔
کوچ کبھی کشادہ شاہراہوں سے گزرتی، کبھی قطار در قطار گھنے درختوں سے مزین سڑکوں پر آ جاتی۔ کبھی ایسی عمارتوں کے سامنے سے گزر ہوتا جن کی دیواروں پر وقت کے کئی ادوار کے نشانات محفوظ تھے۔ کہیں قدیم پتھر کی عمارتیں تھیں اور ان کے پہلو میں شیشے اور فولاد سے بنی جدید بلند و بالا عمارتیں۔ قدیم اور جدید عمارتیں یوں پاس پاس تھیں جیسے ماضی اور حال نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام رکھا ہو۔
گائیڈ نے دائیں جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ عظیم سفورزا قلعہ ہے۔ یہ پندرھویں صدی میں ملان کے طاقتور حکمرانوں کی رہائش گاہ تھا۔ بعد میں Leonardo da Vinci نے بھی اس کے بعض آرائشی منصوبوں پر کام کیا تھا۔ قلعے کے عقب میں ایک وسیع پارک پھیلا ہوا ہے۔ پارکو سیمپیونے گویا شہر کے مصروف دل میں ایک سرسبز پناہ گاہ ہے، جہاں آج بھی مقامی لوگ سکون کے چند لمحے گزارنے آتے ہیں۔
ذرا آگے بڑھے تو منظر یکسر بدل گیا۔ قدیم پتھروں کی جگہ شیشے سے ڈھکی فلک بوس جدید عمارتیں نمودار ہوئیں۔ گائیڈ نے بتایا کہ یہ پورٹا نووا ہے۔ جدید ملان کے دل کی دھڑکن سننی ہو تو یہاں چلے آئیے۔
اور سامنے دکھائی دینے والی بوسکو ورتیکالے کی عمارتیں دراصل شہری ماحول میں فطرت کو واپس لانے کی ایک منفرد کوشش ہیں۔
پھر ہماری کوچ یورپ کے شاندار ترین ریلوے اسٹیشنوں میں سے ایک، میلان سینٹرالے کی جانب بڑھنے لگی۔
سڑکوں پر ایک اور چیز فوراً توجہ کھینچتی ہے، اور وہ ہے ٹریفک کا منظم نظام۔ ٹرامیں اپنی مخصوص پٹریوں پر خاموشی سے چل رہی تھیں، بسیں اپنے مقررہ راستوں پر، اور سائیکل سوار اپنی الگ لین میں آ جا رہے تھے۔ ہر جگہ پیدل چلنے والوں کے لیے وسیع اور محفوظ راستے موجود تھے۔ لاکھوں کی آبادی کے باوجود کہیں بے ترتیبی یا افراتفری محسوس نہیں ہوتی تھی۔
کچھ دیر بعد ہم آہستہ آہستہ میلان سینٹرالے کے قریب پہنچنے لگے۔ دور ہی سے اس عظیم الشان عمارت کا حجم نمایاں ہونے لگا۔ پہلی نظر میں یہ کسی ریلوے اسٹیشن سے زیادہ ایک شاہی محل یا قومی یادگار معلوم ہوتا تھا۔
بیسویں صدی کے آغاز میں تعمیر ہونے والا یہ ریلوے اسٹیشن آج بھی یورپ کے عظیم ترین ریلوے اسٹیشنوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں ہر روز لاکھوں مسافر آتے جاتے ہیں۔ گائیڈ نے ہمیں یہیں اتارا۔
کوچ سے نیچے اترتے ہی سامنے ایک وسیع کھلا چوک تھا۔ پتھر کے بلند چبوترے، ان پر نصب سنگی مجسمے، اور دونوں طرف شیر کے مجسمے اس عمارت کے وقار میں مزید اضافہ کر رہے تھے۔
چند لمحوں کے لیے یوں لگا جیسے ہم کسی تاریخی یادگار کے سامنے کھڑے ہوں۔
کوچ سے اترنے کے بعد باہمی مشورے سے طے پایا کہ ڈنر سٹی سینٹر ہی میں کر لیا جائے۔ گوگل میپس نے قریب ہی واقع کشمیر گرل نامی ریستوران تک رہنمائی کی۔ شام کی ہلکی خنکی میں ہم میلان کی گلیوں میں منزل کی سمت چل پڑے۔ ریستوران کا دروازہ کھلتے ہی مصالحوں کی مانوس خوشبو نے یوں استقبال کیا جیسے پردیس کہیں پیچھے رہ گیا ہو۔
شیلفوں میں سجے دیسی کھانے، ان کی دلگداز خوشبو، اور تنور میں سِکتے نانوں کی مہک بے چین کیے دیتی تھی۔
نوجوان کک اور ویٹروں کی آپس میں اردو میں گفتگو، پاکستانی اور بنگلہ دیشی ویٹروں کی خوش اخلاق خدمت، اور پورا دیسی ماحول، سب کچھ اپنا سا محسوس ہو رہا تھا۔
ہم نے کوفتے، بگھاری دال اور چکن جلفریزی گرم گرم نان کے ساتھ منگوائے۔ کھانا نہایت خوش ذائقہ تھا۔
ہر نوالہ گویا وطن کی بھولی بسری یاد تھا۔ پردیس میں اپنے ذائقوں سے ملاقات کا لطف ہی کچھ اور تھا۔ رخصت ہوتے ہوئے ہم نے خوش دلی سے عملے کو ٹپ دی، اگلے دن کے لیے کھانا ٹیک اوے لیا، اور پھر واپس میلان سینٹرالے کی طرف چل پڑے۔
جیسے ہی ہم مرکزی دروازے سے عمارت کے اندر داخل ہوئے تو منظر یکسر بدل گیا۔ باہر کلاسیکی فنِ تعمیر کی سنجیدگی اور سکون تھا، جبکہ اندر آج کی جدید دنیا پوری رفتار سے رواں دواں تھی۔ بلند چھتیں، وسیع ہال، ایک ساتھ اٹھارہ ٹرینوں کے کھڑے ہونے کی گنجائش، برقی معلوماتی بورڈ، دکانیں، کیفے، ریستوران، ٹکٹ دفاتر اور ہزاروں مسافروں کی مسلسل آمدورفت۔ ہر طرف ایک منظم مگر زندہ توانائی محسوس ہو رہی تھی۔
پلیٹ فارم ایک کے بعد ایک دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ مختلف سمتوں سے ٹرینیں آ رہی تھیں، روانہ ہو رہی تھیں، اور مسافر اپنے اپنے سفر کی تیاری میں مصروف تھے۔ کچھ تیز رفتار انٹرسٹی ٹرینیں بھی تھیں، جبکہ بیشتر مقامی اور علاقائی سروسز پر مشتمل تھیں۔ دو منزلہ جدید الیکٹرک ٹرینیں خاموشی سے پلیٹ فارموں پر آ جا رہی تھیں۔ کچھ اپنی اگلی منزل کی منتظر کھڑی تھیں۔ ان ٹرینوں کی جسامت اور رفتار دونوں ہی متاثر کن تھیں۔
ریلوے سے دلچسپی رکھنے والے کسی بھی شوقین شخص کے لیے یہ جگہ کسی زندہ ریلوے عجائب گھر سے کم نہ تھی۔ ہر چند لمحوں بعد ایک نئی ٹرین داخل ہوتی، دوسری روانہ ہوتی، اعلانات کی آوازیں گونجتیں، اور مختلف زبانیں بولتے مسافر اپنے اپنے راستوں پر بڑھتے چلے جاتے۔
پورے منظر میں ایک متاثر کن ہم آہنگی تھی؛ بے شمار انسان، بے شمار منزلیں، مگر نظام ایسا کہ ہر چیز اپنی جگہ درست معلوم ہوتی تھی۔
گویا میلان سینٹرالے پورے شہر بلکہ شمالی اٹلی کے نقل و حمل کے نظام کا دل ہے۔ زیرِ زمین میٹرو، بسیں، ٹرامیں، ٹیکسیاں اور دوسرے ذرائعِ آمدورفت سب اسی مقام سے جڑتے ہیں۔ ہم نے ہوٹل جانے والی ٹرین پکڑی اور روانہ ہو گئے۔
اگلا دن بھی میلان کی دل کشیوں کے نام تھا۔ شہر کا دل، اس کا عظیم الشان ڈوؤمو، زیرِ زمین دوڑتی میٹرو کی دنیا، اور کورسو بیونس آئرس کے طویل بازار ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ گویا میلان ابھی اپنی ایک اور کہانی سنانے والا تھا۔
۔۔۔۔۔ جاری ہے
