گائے، بینک اور ہمارا مستقبل
شارق علی
ویلیوورسٹی
گائے وہیں کھڑی تھی۔ نہ اس کا باڑا بدلا تھا، نہ چارہ ڈالنے والا آدمی۔ لیکن چند لمحے پہلے اس کا مالک بدل چکا تھا۔
ایک شخص نے اپنے موبائل پر چند ہندسے لکھے، ایک بٹن دبایا اور دوسرے شخص کے بینک اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہوگئی۔ گائے فروخت ہوچکی تھی۔
گائے نے دونوں آدمیوں کو دیکھا۔ وہ ان کی آواز، بو اور حرکات پہچان سکتی تھی۔ شاید یہ بھی بھانپ سکتی تھی کہ کون اسے چارہ دے گا اور کس سے دور رہنا چاہیے۔ لیکن رقم، ملکیت اور بینک کی اس غیرمرئی دنیا سے وہ بے خبر تھی۔ اس کی زندگی کا ایک اہم فیصلہ ہوچکا تھا، مگر اس فیصلے کی زبان اس کی سمجھ سے باہر تھی۔
مؤرخ اور مصنف یووال نوح ہراری اسی نوعیت کی ایک مثال سے مصنوعی ذہانت کے مستقبل کا ایک تشویش ناک امکان واضح کرتے ہیں: کیا کبھی ہم بھی اپنے بنائے ہوئے نظام کے سامنے اس گائے جیسے ہوجائیں گے؟
ہم عموماً مصنوعی ذہانت کے غلبے کا تصور کرتے ہیں تو ذہن میں فلمی منظر ابھرتا ہے۔ فولادی روبوٹ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ انسان بھاگ رہے ہیں۔ مشینیں گولیاں چلا رہی ہیں۔
مگر اختیار ہاتھ سے نکلنے کے لیے گولی چلنا ضروری نہیں۔
تصور کیجیے، آپ بینک سے قرض مانگتے ہیں۔ جواب آتا ہے: درخواست مسترد۔
آپ وجہ پوچھتے ہیں۔ سامنے بیٹھا ملازم اسکرین دیکھ کر کہتا ہے: ’’سسٹم نے منظوری نہیں دی۔‘‘
آپ دریافت کرتے ہیں کہ سسٹم نے آپ کی آمدنی، صحت، ملازمت اور مستقبل کے بارے میں کیا اندازہ لگایا۔ ملازم کچھ عمومی باتیں بتاتا ہے، مگر فیصلے کی پوری منطق اس کے لیے بھی واضح نہیں۔
وہ آپ کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ لیکن فیصلہ اس نے کیا ہی نہیں۔
اب اس منظر کو ایک بینک سے آگے بڑھائیے۔ بیمہ، روزگار، سرمایہ کاری، تجارت اور حکومتی وسائل کی تقسیم تک لے جائیے۔ اگر ان شعبوں کے اہم فیصلے ایسے باہم جڑے نظام کرنے لگیں جنہیں سمجھنا، جانچنا اور چیلنج کرنا انسانوں کے لیے مسلسل مشکل ہوتا جائے، تو اختیار کس کے پاس ہوگا؟
کاغذ پر شاید ہمارے پاس۔
عملی طور پر؟
یہی ہراری کے سوال کی کاٹ ہے۔
انسانی ذہن ایک طویل حیاتیاتی سفر سے یہاں پہنچا ہے۔ چہرہ پہچاننا، خطرہ محسوس کرنا، تعلق بنانا اور دوسروں کے ارادے بھانپنا ہماری قدیم صلاحیتیں ہیں۔ حساب، تحریری قوانین، بینک اور دفتری نظام اس سفر میں بہت بعد کے اضافے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کا معاملہ مختلف ہے۔ اعداد، ڈیٹا اور حسابی تعلقات اس کے کام کا بنیادی ماحول ہیں۔ ہراری کے استعارے میں، جس بیوروکریسی میں انسان اکثر اجنبیت محسوس کرتا ہے، وہ مشین کا آبائی وطن بن سکتی ہے۔
اگر مستقبل کی مصنوعی ذہانت صرف ہمارے مالی نظام کو چلانے کے بجائے نئے مالی طریقے اور ادارے بھی وضع کرنے لگے، تو ممکن ہے ان میں بعض ایسے ہوں جن کے نتائج تو ہمیں نظر آئیں، مگر اندرونی منطق ہماری گرفت میں نہ آئے۔
ہمیں معلوم ہو کہ پنشن بڑھ گئی ہے، لیکن یہ نہ سمجھ سکیں کہ اس کے ساتھ کون سا خطرہ بڑھا ہے۔ قرض سستا مل جائے، مگر اس کی پیچیدہ شرائط کے دوررس اثرات واضح نہ ہوں۔ نظام مجموعی منافع بڑھائے، لیکن کسی فرد یا طبقے کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کی ذمہ داری کوئی قبول نہ کرے۔
اس مقام پر مسئلہ صرف ذہانت کا نہیں رہے گا۔ مسئلہ جواب دہی کا ہوگا۔
البتہ گائے اور انسان کے درمیان ایک اہم فرق باقی ہے۔ ہم اپنی لاعلمی پہچان سکتے ہیں۔ مل کر ادارے بنا سکتے ہیں۔ ماہرین سے وضاحت مانگ سکتے ہیں اور یہ شرط رکھ سکتے ہیں کہ ہماری زندگی پر اثرانداز ہونے والے فیصلوں کے خلاف اپیل ممکن ہو۔
ہر شخص کے لیے پورا مالی نظام سمجھنا ضروری نہیں۔ لیکن کسی فیصلے کو جانچنے، روکنے اور بدلنے کا مؤثر انسانی اختیار ضروری ہے۔
گائے کو معلوم نہیں تھا کہ اسے بیچ دیا گیا ہے۔
ہمیں کم از کم یہ معلوم رہنا چاہیے کہ ہمارے مستقبل کے فیصلے کون کررہا ہے اور اسے یہ اختیار کس نے دیا ہے۔
