Skip to content
Home » Blog » کہانی نمبر 6, جب دماغ نے دنیا کا نقشہ بنایا

کہانی نمبر 6, جب دماغ نے دنیا کا نقشہ بنایا

  • by

ذہانت کا ارتقاء
کہانی نمبر 6, جب دماغ نے دنیا کا نقشہ بنایا

شارق علی
ویلیوورسٹی

پچھلی قسط میں ہم نے دیکھا تھا کہ جاندار روشنی، کیمیائی مادوں، حرکت اور توازن کو محسوس کرنے لگے تھے۔

لیکن صرف معلومات حاصل کرنا کافی نہیں تھا۔
اصل چیلنج یہ تھا کہ مختلف حواس سے آنے والی معلومات کو آپس میں جوڑا کیسے جائے؟

فرض کیجیے کسی جاندار کو ایک سمت روشنی میں حرکت دکھائی دیتی ہے اور اسی طرف پانی میں کسی خاص کیمیائی مادے کا احساس بھی ہوتا ہے۔

اگر اس کا اعصابی نظام ان دونوں معلومات کو جوڑ سکے تو وہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ وہاں خوراک ہے یا کوئی خطرہ۔

یہی وہ اہم قدم تھا جو ابتدائی دماغ نے اٹھایا۔

مختلف حسی پیغامات کو یکجا کرکے اعصابی نظام اپنے اردگرد کی دنیا کا ایک ابتدائی اندرونی نقشہ بنانے لگا۔

اب جاندار صرف یہ محسوس نہیں کرتا تھا کہ کوئی چیز موجود ہے، بلکہ یہ بھی طے کرنے لگا کہ وہ کس سمت ہے اور اس کے جواب میں کیا کرنا چاہیے۔
شکاری کے لیے اس کا مطلب تھا شکار کا بہتر تعاقب۔
اور شکار بننے والے کے لیے خطرے سے زیادہ مؤثر فرار۔

یوں اعصابی نظام صرف پیغامات وصول کرنے والا مرکز نہیں رہا۔ وہ معلومات کو جوڑنے اور ان کی بنیاد پر عمل منتخب کرنے لگا۔

یہ ذہانت کے ارتقاء میں ایک بہت اہم قدم تھا۔

لیکن ایک مسئلہ ابھی باقی تھا۔

اگر ہر تجربہ اگلے ہی لمحے ختم ہو جائے تو جاندار کو ہر بار دنیا کو نئے سرے سے سمجھنا پڑے گا۔
اس لیے ارتقاء کا اگلا بڑا قدم تھا:
تجربے کو محفوظ کرنا۔

اور یہی ہمیں اگلی کہانی تک لے جاتا ہے

جب دماغ نے یاد رکھنا سیکھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *