Skip to content
Home » Blog » نشاطِ کار

نشاطِ کار

  • by

نشاطِ کار

شارق علی
ویلیوورسٹی

ہمارے ہسپتال میں ایک پورٹر ہے۔ فرض کر لیجیے اس کا نام رابرٹ ہے۔

میں اسے تقریباً پندرہ برس سے کام کرتے دیکھ رہا ہوں۔ ہسپتال کے انتظامی نقشے میں اس کا عہدہ نمایاں نہیں، نہ اس کے نام کے ساتھ لمبی ڈگریاں ہیں۔ وہ وارڈ راؤنڈ کی قیادت کرتا ہے، نہ اہم میٹنگوں میں اس کی رائے طلب کی جاتی ہے۔ اس کی ذمہ داری بظاہر بہت سادہ ہے: مریض کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا۔

لیکن رابرٹ کو کام کرتے دیکھیے تو اس سادگی کے اندر ایک عجیب سا حسن دکھائی دیتا ہے۔

کسی شدید بیمار مریض کو وارڈ سے آئی سی یو منتقل کرنا ہو تو وہ پہلے نرس سے ضروری معلومات حاصل کرتا ہے، مانیٹر اور ڈرپس کو سنبھالتا ہے، راستے بھر مریض کے آرام اور آلات کی حفاظت کا خیال رکھتا ہے اور ساتھ چلنے والے عملے سے ہم آہنگ رہتا ہے۔ وہ یقینی بناتا ہے کہ منتقلی کا ہر مرحلہ محفوظ، منظم اور قرینے سے مکمل ہو۔
وہ برسوں سے یہی کام کر رہا ہے، مگر نہ جلد بازی، نہ بے دلی، نہ یہ احساس کہ ’’میرا کام محض اتنا سا ہے۔‘‘
وہ اپنے کام میں پوری طرح موجود ہوتا ہے۔
اور شاید اسی لیے عموماً خوش مزاج، صحت مند اور مطمئن دکھائی دیتا ہے۔

گویا کام بذاتِ خود ایسی خوشی کا سرچشمہ ہو جس کا تعلق عہدے، تنخواہ، انعام یا ستائش سے نہ ہو۔ خوشی صرف اس بات کی کہ جو کام میرے سپرد تھا، میں نے اسے اچھی طرح انجام دیا۔

میں اس کیفیت کو نشاطِ کار کہنا چاہوں گا۔

بہت برس پہلے، کالج کے زمانے میں، میں نے ہنگری نژاد امریکی ماہرِ نفسیات میہای چیک سینٹ میہائی کی مشہور کتاب Flow: The Psychology of Optimal Experience پڑھی تھی۔ وقت کے ساتھ اس کی بہت سی تفصیلات ذہن سے محو ہوگئیں، مگر بنیادی تصور کہیں اندر محفوظ رہ گیا۔

Flow اس کیفیت کا نام ہے جس میں انسان کسی سرگرمی میں اس قدر منہمک ہوجاتا ہے کہ کام اور کرنے والے کے درمیان فاصلہ کم ہونے لگتا ہے۔ وقت کا احساس بدل سکتا ہے، ذات کا غیر ضروری شعور پس منظر میں چلا جاتا ہے اور توجہ پوری طرح سامنے موجود کام پر مرکوز ہوجاتی ہے۔

یہ محض آرام یا لذت کی کیفیت نہیں۔ Flow عموماً وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں صلاحیت اور چیلنج ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوں۔ کام اتنا آسان نہ ہو کہ اکتاہٹ پیدا کرے اور اتنا دشوار بھی نہیں کہ بے بسی جنم لے۔ مقصد واضح ہو اور مہارت چیلنج کا جواب دینے کے لیے پوری طرح متحرک ہو۔

اسی تصور سے وابستہ ایک لفظ مجھے نشاطِ کار کے اور بھی قریب محسوس ہوتا ہے: autotelic۔
یونانی الاصل اس لفظ سے مراد ایسی سرگرمی ہے جو بڑی حد تک اپنا مقصد خود ہو۔ انسان اسے محض کسی خارجی انعام کے لیے نہ کرے، بلکہ اسے درست اور خوب صورت طریقے سے انجام دینا بذاتِ خود باعثِ اطمینان ہو۔
چیک سینٹ میہائی کی ابتدائی تحقیق میں تخلیقی لوگوں کا مشاہدہ بھی شامل تھا۔ بعض فنکار کام میں اس قدر ڈوب جاتے تھے کہ بھوک، تھکن اور دوسری خارجی ضرورتیں عارضی طور پر پس منظر میں چلی جاتی تھیں۔

شاید یہی کیفیت کسی مصور کو اپنے اسٹوڈیو میں، موسیقار کو ساز کے سامنے، سرجن کو پیچیدہ آپریشن کے دوران اور بڑھئی کو لکڑی کا ایک معمولی جوڑ درست کرتے ہوئے مل سکتی ہے۔
اور شاید رابرٹ کو مریض کی ٹرالی کے ساتھ ہسپتال کی راہداری میں۔

لیکن یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔

ہم میں سے بہت سے لوگ کام کرتے ہوئے ایک خاموش تماشائی بھی اپنے ساتھ لیے پھرتے ہیں۔ ہم صرف یہ نہیں دیکھتے کہ کام کیسا ہوا، بلکہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کسی نے ہمیں کرتے ہوئے دیکھا یا نہیں۔
تعریف ہوئی یا نہیں؟ نام لیا گیا یا نہیں؟ ترقی ملی یا نہیں؟ داد ملی یا نہیں؟
یوں کام آہستہ آہستہ فن سے زیادہ performance بن جاتا ہے۔

یہ اس مداری کی سی کیفیت ہے جس کے اگلے کرتب کی توانائی پچھلی تالی سے آتی ہے۔
نشاطِ کار اس کے برعکس ہے۔
یہ اس فنکار کا اطمینان ہے جو تنہائی میں کام کرتا ہے۔ ممکن ہے کوئی اسے نہ دیکھ رہا ہو، مگر وہ خود اپنے کام کو دیکھ رہا ہے۔ اس کا اپنا معیار اس کے سامنے موجود ہے۔

یہاں excellence کا مطلب دوسروں سے بہتر ہونا ضروری نہیں۔ اصل مقابلہ شاید اپنے ہی کام سے ہے۔
کیا یہ اس سے بہتر ہوسکتا تھا؟
کیا کوئی گوشہ نظر انداز ہوا؟

کیا میں نے اپنی مہارت، توجہ اور ذمہ داری پوری طرح استعمال کی؟
جواب اطمینان بخش ہو تو ایک خاموش خوشی جنم لیتی ہے، ایسی خوشی جسے تالیوں کی ضرورت نہیں۔

جدید نفسیات میں intrinsic motivation کا تصور بھی اسی سمت اشارہ کرتا ہے۔ انسان صرف خارجی انعامات سے متحرک نہیں ہوتا۔ کسی کام میں مہارت پیدا کرنا اور اسے اچھی طرح انجام دینے کا احساس بذاتِ خود انسانی اطمینان کا اہم سرچشمہ ہوسکتا ہے۔

اور نشاطِ کار صرف عظیم فنکاروں یا غیر معمولی ذہانت رکھنے والوں کی میراث نہیں۔

یہ اس بیرے کو بھی مل سکتا ہے جو پلیٹ پیش کرنے سے پہلے اس کا آخری کنارہ صاف کرتا ہے؛ اس نرس کو جو مصروف شفٹ کے باوجود مریض کو آرام دہ حالت میں چھوڑنا چاہتی ہے؛ اس استاد کو جو برسوں پرانا سبق پڑھاتے ہوئے بھی آج کے طالب علم کو اسے پہلے سے بہتر سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔
اور رابرٹ جیسے پورٹر کو بھی۔

کام کی عظمت ہمیشہ اس کے حجم یا عہدے سے متعین نہیں ہوتی۔ کبھی اس کا اصل پیمانہ یہ ہوتا ہے کہ کرنے والا اپنے کام کے ساتھ کتنا مخلص ہے۔

دنیا دیکھے یا نہ دیکھے، تعریف کرے یا خاموش گزر جائے، نشاطِ کار کا حصول بڑی حد تک ہمارے اختیار میں ہے۔

اس لمحے جو کام ہمارے سامنے ہے، وہی ہماری چھوٹی سی سلطنت ہے۔ اسے اپنی پوری توجہ، پوری مہارت اور پورے خلوص سے آراستہ کریں۔
حسنِ کارکردگی ہی ہمارا انعام ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *