مہارت کا ورثہ
ڈاکٹر آصف حسن کے نام
شارق علی
ویلیوورسٹی
یہ تقریب ٹیلی وژن پر پورے برطانیہ میں دکھائی جا رہی ہے۔ اسٹیج پر ایک ایک کر کے انیس سابق مریض آتے ہیں۔ بچے اور نوجوان، سب سفید بالوں والے اس ماہرِ جراحی کو محبت اور احترام سے گھیر لیتے ہیں جس نے کبھی زندگی اور موت کی کشمکش میں ان کا ساتھ دیا تھا۔ آج ان روشن چہروں کی صورت میں زندگی کی جیت اپنے معالج کو خراجِ تحسین پیش کر رہی ہے۔
جس سرجن کے ہاتھوں میں جراحی کے مشکل سے مشکل مراحل میں کبھی لرزش نہ آئی تھی، آج ان ہاتھوں میں خوشی اور شکرگزاری کی لرزش ہے۔ آنکھیں نم ہیں اور سفید رومال جذبات کی شدت چھپانے میں ناکام ہے۔
بچوں کے دل کی جراحی کے ماہر ڈاکٹر آصف حسن اپنے سابق مریضوں سے گلے ملتے ہیں۔ ان کی اور ان کی طبی ٹیم کے ساتھیوں کی برسوں کی محنت آج انسانی مسرت کی صورت ان کے سامنے کھڑی ہے۔
یہ 2026ء کے پرائیڈ آف بریٹن ایوارڈز کی تقریب ہے، جہاں انہیں عمر بھر کی خدمات کا اعزاز دیا جا رہا ہے۔
ان کی ایک سابق مریضہ اب دو بیٹیوں کی ماں ہے اور فری مین ہسپتال کے بچوں کے قلبی شعبے میں کام کرتی ہے۔ اپنے علاج کے تجربے نے اسے بھی انسانی خدمت کی جانب مائل کیا۔
یہ منظر اور یہ لمحہ مجھ سمیت ڈاؤ میڈیکل کالج کی پوری برادری کے لیے باعثِ فخر ہے، جہاں سے آصف حسن کا طبی سفر شروع ہوا تھا۔
دنیا بھر کے ڈاکٹر اور طبی کارکن بھی اس خوشی میں بجا طور پر شریک ہو سکتے ہیں، جو روزانہ اپنے علم، ہنر اور انسانی ہمدردی کے ساتھ مریضوں کے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیتے ہیں۔
ڈاکٹر آصف حسن نے 1979ء میں ڈاؤ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا۔ ان کی ابتدائی تربیت میں سول ہسپتال کراچی بھی شامل رہا۔ 1981ء میں وہ برطانیہ آئے۔ آگے چل کر نیوکاسل کا فری مین ہسپتال ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا مرکز بنا، جہاں ان کی مجموعی وابستگی تقریباً چھتیس برس رہی۔
1995ء میں وہ وہاں کنسلٹنٹ کارڈیوتھوریسک سرجن مقرر ہوئے۔ بچوں کی پیچیدہ قلبی بیماریوں کے علاج اور پیوندکاری کی خدمات کو آگے بڑھانے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ ہسپتال کے مطابق، ان کے پیشہ ورانہ سفر میں چار ہزار سے زیادہ اوپن ہارٹ آپریشن شامل تھے، جن میں تقریباً تین ہزار میں وہ مرکزی سرجن تھے۔ اس شمار کے علاوہ ہنگامی حالات اور معمول کے اوقات سے باہر انجام دی گئی متعدد طبی مداخلتیں بھی تھیں۔
کسی بچے کے والدین کے لیے آپریشن محض ایک عدد نہیں ہوتا۔ اس سے ان کے بچے کا آنے والا کل جڑا ہوتا ہے: اسکول کی پہلی صبح، کھیل کے میدان میں دوڑتے قدم، دوستیاں، جوانی اور زندگی کی وہ عام سی خوشیاں جنہیں صحت مند انسان اکثر محسوس کیے بغیر گزار دیتا ہے۔
اپنے اندازے کے مطابق، آصف حسن نے تقریباً چار سو ٹرانسپلانٹ کیے۔ ان کی ٹیم ایسے شدید بیمار بچوں کا علاج بھی کرتی تھی جن کا آپریشن دوسرے مراکز انتہائی پُرخطر سمجھتے تھے۔ موزوں عطیہ شدہ دل کے انتظار میں بچوں کو زندہ رکھنے والے میکانی پمپ، برلن ہارٹ، کے پروگرام کی مشترکہ قیادت میں بھی ان کا اہم حصہ تھا۔ نسبتاً بڑا عطیہ شدہ دل لگانے کے بعد سینہ بند کرنے میں پیش آنے والی دشواری کے حل کے لیے ان سے منسوب ’’بوٹ لیس کلوزر‘‘ کی تدبیر ان کی اختراعی خدمات میں شامل ہے۔
ان خدمات کے درمیان ان کی ایک خواہش مجھے خاص طور پر اپنی طرف کھینچتی ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ جب کام چھوڑیں تو ایسے سرجن موجود ہوں جو ان کی ذمہ داریاں پوری اہلیت سے سنبھال سکیں، بلکہ ان سے بھی بہتر کام کریں۔ ایسے جانشین تیار کرنے کو وہ اپنی سب سے قابلِ فخر کامیابی سمجھتے ہیں۔
اپنے سے بہتر شاگرد کی خواہش میں کتنی کشادگی ہے۔ جس ہنر کو حاصل کرنے میں عمر گزری ہو، اسے دوسروں تک پہنچانے کے لیے وقت اور صبر درکار ہوتا ہے۔ نوجوان سرجن کو سوال کرنے، سوچنے اور بتدریج ذمہ داری اٹھانے کا موقع دینا پڑتا ہے۔ ایک دن استاد پیچھے کھڑا ہوتا ہے اور شاگرد اعتماد کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔
اس طرح ایک انسان کی مہارت کئی ہاتھوں میں تقسیم ہو کر بڑھتی ہے۔ اس کے تربیت یافتہ سرجن مختلف شہروں اور ملکوں میں کام کرتے ہیں۔ پھر وہ اپنے شاگرد تیار کرتے ہیں۔ خدمت کا سفر ایک پیشہ ورانہ زندگی کی حدود سے آگے نکل جاتا ہے۔
آصف حسن اپنی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے ساتھی ڈاکٹروں، نرسوں اور این ایچ ایس کی خدمات کو بھی یاد کرتے ہیں۔ ایک بچے کی صحت یابی میں بہت سے لوگوں کی محنت شامل ہوتی ہے؛ آپریشن تھیٹر سے لے کر انتہائی نگہداشت کے بستر تک، اور عطیہ دہندگان کے خاندانوں سے لے کر بچے کے اپنے گھر والوں تک۔ اچھا استاد نئی نسل کو اس مشترکہ ذمہ داری کا شعور بھی دیتا ہے۔
تقریب میں انیس سابق مریض اپنے معالج کے سامنے کھڑے ہیں۔ وہ اپنی زندگیوں میں آگے بڑھ چکے ہیں، لیکن ان کی کہانیوں کا ایک اہم موڑ اس شخص کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
اور ان سے آگے وہ بچے بھی ہیں جن سے آصف حسن شاید کبھی نہ ملیں۔ ان کا علاج ان کے تربیت یافتہ سرجن کریں گے۔ کسی آپریشن تھیٹر میں ایک نوجوان سرجن کا ہاتھ اعتماد سے آگے بڑھے گا۔ اس کے فیصلے اور مہارت میں اس کے استاد کی محنت بھی شامل ہوگی۔
اسٹیج پر سفید رومال تھامے ہاتھوں سے آگے، خدمت کا یہ سفر انہی نئے ہاتھوں میں جاری رہے گا۔ یہی آصف حسن کی مہارت کا ورثہ ہے۔
