لیک کومو اور برنینا ایکسپریس
قسط نمبر 9, سفید جھیل، نیلی جھیل
شارق علی
ویلیوورسٹی
سینٹ مورٹز کی حسین گلیوں میں چند گھنٹے گزارنے کے بعد اب ہم میٹنگ پوائنٹ کی سمت پیدل واپسی کے سفر میں تھے۔
شہر کا مرکزی بازار عبور کرکے ہم مقررہ مقام کی جانب بڑھنے لگے۔ راستہ وہی تھا، مگر دل کی کیفیت بدل چکی تھی۔ صبح ایک نئے شہر کو دریافت کرنے کا تجسس تھا اور اب یہاں سے لوٹتے ہوئے اس خوبصورت شہر سے جدا ہونے کا ملال۔
سینٹ مورٹز کی دلکش جھیل، صاف ستھری گلیاں، پہاڑوں کے درمیان جدید طرزِ تعمیر کی خوبصورت عمارتیں اور ایک خوشحال سوئس شہر کی تمام تصویری جھلکیاں اب ہمارے ذہن میں محفوظ تھیں اور ہمارے ساتھ سفر کر رہی تھیں۔
مقررہ مقام پر پہنچے تو گائیڈ اور کچھ دیگر سیاح پہلے سے وہاں موجود تھے۔ گروپ مکمل ہوا تو گائیڈ کے پیچھے چلتے ہوئے ہم قریب واقع سینٹ مورٹز ریلوے اسٹیشن پہنچے۔
یہاں سے برنینا ایکسپریس کا سفر شروع ہونا تھا۔
شوخ سرخ رنگ کی ٹرین پلیٹ فارم پر ہمارا انتظار کر رہی تھی۔
برنینا ایکسپریس۔
مشہورِ زمانہ یہ ٹرین سوئٹزرلینڈ کے برف پوش اور سرسبز پہاڑوں کے درمیان کچھ یوں نمایاں دکھائی دیتی ہے جیسے کسی مصور نے سفید، سبز اور نیلے کینوس پر ایک شوخ سرخ لکیر کھینچ دی ہو۔
یہ محض ایک ٹرین نہیں، بلکہ دنیا کے مشہور ترین پینورامک ریلوے جرنیز میں شمار ہونے والا ایک سفر ہے۔
برنینا روٹ سینٹ مورٹز سے اٹلی کے شہر تیرانو تک الپس کو عبور کرتا ہے۔ اس کا راستہ رھیٹین ریلوے کے اس تاریخی نظام کا حصہ ہے جس کی البولا اور برنینا لائنوں کو 2008 میں یونیسکو ورلڈ ہیریٹیج کا درجہ دیا گیا۔
پہاڑوں کے انتہائی دشوار گزار جغرافیے میں تعمیر کیا گیا یہ ریلوے نظام انجینئرنگ اور قدرتی منظرنامے کے باہمی امتزاج کی ایک غیر معمولی مثال ہے۔
ہماری گائیڈ پلیٹ فارم پر انتظامات میں مصروف تھی۔
اس کے ہاتھ میں مسافروں اور نشستوں کی فہرست تھی اور چہرے پر ایسا اطمینان جیسے اسے بخوبی معلوم ہو کہ اگلے چند منٹ میں کس مسافر کو کس دروازے سے داخل ہونا اور کہاں بیٹھنا ہے۔
گروپ اکٹھا ہوا اور پھر ہم قطار میں باری باری ٹرین میں داخل ہوکر اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے۔
ٹرین کے اندر پہنچتے ہی اندازہ ہوگیا کہ برنینا ایکسپریس کو عام ٹرین سے مختلف کیوں سمجھا جاتا ہے۔
آرام دہ نشستیں، سامنے میز اور سب سے بڑھ کر بڑی پینورامک کھڑکیاں، جو اطراف سے چھت کی طرف پھیلی ہوئی تھیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ٹرین کی دیواریں منظر کو روکنے کے بجائے ہمارے لیے اسے مزید کھول رہی ہوں۔
ہمارے اردگرد زیادہ تر مغربی یورپ اور امریکہ سے آئے ہوئے سیاح بیٹھے تھے۔ پوری بوگی میں جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے شاید ہم ہی تھے۔
زبانیں الگ تھیں، ملک الگ تھے، لیکن فضا میں باہمی دوستی اور ہم آہنگی کا احساس تھا۔ سب کی نظریں زیادہ تر کھڑکیوں سے باہر دکھائی دینے والے مناظر پر مرکوز تھیں۔
تمام مسافر اپنی نشستوں پر بیٹھ چکے تو ایک ہلکا سا جھٹکا محسوس ہوا اور ٹرین چل پڑی۔
سینٹ مورٹز رفتہ رفتہ پیچھے رہنے لگا اور الپس کا پہاڑی سلسلہ نت نئے مناظر ہمارے سامنے کھولنے لگا۔
ٹرین کبھی سرسبز ڈھلوانوں کے درمیان سے گزرتی، کبھی پہاڑ اچانک اتنے قریب آ جاتے کہ ان کی چٹانوں کی ساخت تک صاف دکھائی دینے لگتی۔ کہیں برف پوش چوٹیاں دور آسمان تلے چمکتیں اور کہیں پہاڑوں سے پھوٹتے جھرنے باریک اور کشادہ سفید لکیروں کی صورت وادیوں کی طرف گرتے دکھائی دیتے۔
برنینا ریلوے کا اصل حسن یہی ہر لمحہ بدلتے ہوئے مناظر تھے۔
یہ بلاشبہ انجینئرنگ کا ایک شاہکار بھی ہے۔ اتنے بلند و بالا اور دشوار گزار پہاڑوں میں بچھے ہوئے ٹریک، جگہ جگہ تعمیر کیے گئے پل اور بلندیوں پر قائم چھوٹے چھوٹے اسٹیشن انسانی مہارت پر حیران کر دیتے ہیں۔
لیکن سب سے خوبصورت بات شاید یہ تھی کہ اسے بنانے والوں نے پہاڑوں کو شکست دینے کی کوشش نہیں کی، بلکہ راستے کو پہاڑوں کے مزاج کے مطابق ڈھال دیا۔
کبھی ٹرین مڑتی، کبھی بلند ہوتی، کبھی وادی کے کنارے چلتی اور کبھی ایسا محسوس ہوتا جیسے یہ شوخ سرخ ٹرین خود اس عظیم الپائن لینڈ اسکیپ کا حصہ بن گئی ہو۔
ہماری ٹرین اس راستے پر تھی جو برنینا پاس کی بلندیوں تک پہنچتا ہے اور پھر
سوئٹزرلینڈ کی سرد الپائن دنیا سے اترتے ہوئے اٹلی کے نسبتاً گرم شہر تیرانو تک چلا جاتا ہے۔
برنینا ایکسپریس میں بیٹھے تمام مسافروں کے لیے اس وقت منزل سے کہیں زیادہ اہم اور یادگار خود یہ سفر اور راستہ تھا۔
کچھ دیر بعد ہم الپائن بلندیوں پر ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں ٹرین کچھ دیر کے لیے رک گئی۔
ہمیں بتایا گیا کہ اس چھوٹے سے اسٹیشن پر ہمارا قیام تقریباً پندرہ منٹ کا ہے۔
تصویریں بنائیے، مناظر کا لطف اٹھائیے، مگر وقت پر واپس آ جائیے۔ یہ ٹرین کسی کا انتظار نہیں کرتی۔
ہم ٹرین سے باہر نکلے۔
سامنے جو منظر تھا، اس نے چند لمحوں کے لیے ہم سب کو مبہوت کر دیا۔
اوپر الپس کی بلند چوٹیاں گلیشیئرز سے ڈھکی ہوئی تھیں۔ صدیوں سے جمی برف دھوپ میں چمک رہی تھی۔
گلیشیئرز کے کناروں سے پگھلتا ہوا پانی جھرنوں کی صورت چٹانوں پر بہتا اور پھر بلندی پر ایک دوسرے سے مل کر آبشاروں کی شکل میں نیچے گرتا دکھائی دے رہا تھا۔
یہی آبشاریں کچھ نیچے پہنچ کر ندیوں میں بدل جاتیں اور پھر مختلف سمتوں سے آنے والے چھوٹے جھرنے اور آبشاریں ان میں شامل ہوتے چلے جاتے۔
برف۔
پگھلتا پانی۔
آبشار۔
ندی۔
اور پھر جھیل۔
قدرت کے آبی چکر کا یہ پورا منظر ہمارے سامنے کسی نصابی کتاب کی تصویر کی طرح زندہ موجود تھا۔ سرسبز و شاداب سوئس مرغزاروں کے بیچ ایسا جیتا جاگتا منظر ہم نے شاید زندگی میں پہلی بار دیکھا تھا۔
ہم دیر تک مبہوت کھڑے اسے دیکھتے رہے۔
میں نے زندگی میں پہاڑ بھی دیکھے ہیں، گلیشیئرز بھی، آبشاریں بھی اور جھیلیں بھی۔
لیکن شاید پہلی مرتبہ یہ سب ایک ہی فریم میں یوں مربوط اور ایک دوسرے سے جڑے دکھائی دے رہے تھے۔
اسی بلند الپائن علاقے میں دو حیرت انگیز جھیلیں ایک دوسرے کے قریب موجود تھیں۔
لاگو بیانکو ، سفید جھیل۔
اور
لیج نائر ، سیاہ جھیل۔
لاگو بیانکو کا پانی دودھیا سفید یا ہلکے فیروزی رنگ کا دکھائی دیتا ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ گلیشیئر سے آنے والے پانی میں موجود انتہائی باریک معدنی ذرات ہیں، جنہیں گلیشیئل فلور کہا جاتا ہے۔
اس کے قریب لیج نائر ہے۔
رومانش زبان میں لیج نائر کا مطلب ہی بلیک لیک، یعنی سیاہ جھیل ہے۔ اس کے پانی میں گلیشیئل سیڈیمنٹ کی مقدار بہت کم ہونے کے باعث اس کا رنگ گہرا نیلا اور بعض زاویوں سے تقریباً سیاہ دکھائی دیتا ہے۔
گویا ایک ہی بلند وادی میں قریب قریب دو جھیلیں۔
ایک دودھیا سفید۔
دوسری گہری نیلی۔
لیکن حیرت صرف ان کے رنگوں تک محدود نہیں۔
یہ علاقہ یورپ کے ایک اہم واٹرشیڈ کے قریب واقع ہے۔
یہاں سے ایک سمت بہنے والا پانی دریائے اِن اور پھر ڈینیوب کے نظام سے گزرتا ہوا بالآخر بلیک سی تک پہنچتا ہے، جبکہ دوسری سمت بہنے والا پانی اٹلی کی طرف اتر کر دریائے پو کے آبی نظام کے ذریعے ایڈریاٹک سی کی جانب سفر کرتا ہے۔
یعنی پہاڑ پر چند قدموں کا فاصلہ پانی کے لیے ہزاروں کلومیٹر دور دو مختلف سمندروں کی منزل طے کر سکتا ہے۔
میں نے لاگو بیانکو کی طرف دیکھا، پھر گہرے رنگ کی لیج نائر کی جانب۔
اور خیال آیا کہ سفر کی خوبصورتی صرف نئی جگہیں دیکھنے میں نہیں۔
کبھی کبھی سفر ہمیں وہ تعلق بھی دکھاتا ہے جو روزمرہ زندگی میں ہماری نظروں سے پوشیدہ رہتا ہے۔
برف کا ایک ذرہ پگھلتا ہے۔
قطرہ بنتا ہے۔
قطرہ جھرنے میں شامل ہوتا ہے۔
جھرنا ندی بنتا ہے۔
ندی جھیل۔
اور پھر وہی پانی اپنا ایک طویل سفر شروع کر دیتا ہے کسی دریا، کسی ملک اور بالآخر کسی سمندر کی طرف۔
پندرہ منٹ بہت تیزی سے گزر گئے۔
ہم نے چند رخصتی تصویریں بنائیں اور ایک بار پھر اس شوخ سرخ ٹرین میں سوار ہوگئے۔
برنینا ایکسپریس کو ابھی ہمیں بہت کچھ دکھانا تھا۔۔۔
جاری ہے
