Skip to content
Home » Blog » جنتر منتر کی بھوک ہڑتال

جنتر منتر کی بھوک ہڑتال

  • by

جنتر منتر کی بھوک ہڑتال

شارق علی
ویلیوورسٹی

بھارت میں جب امتحانی پرچے لیک ہونے کا بحران سامنے آیا تو اکثر بحث اس بات پر مرکوز رہی کہ قصور وار کون ہے اور پرچہ کیسے باہر نکلا۔ مگر لداخ کے ماہرِ تعلیم سونم وانگ چک نے سوال کا رخ بدل دیا۔ وہ دہلی کے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے، مگر ان کا احتجاج کسی ایک امتحان یا ایک واقعے کے خلاف نہیں تھا۔ وہ پورے تعلیمی نظام پر سوال اٹھا رہے تھے جو لاکھوں بچوں کا مستقبل چند گھنٹوں کے ایک امتحان سے وابستہ کر دیتا ہے۔

جیسے جیسے ان کی صحت کمزور ہوتی گئی، ان کا سوال مزید مضبوط ہوتا چلا گیا۔

اساتذہ، طلبہ، سول سوسائٹی، فنکار اور عام شہری ان کی حمایت میں سامنے آئے، کیونکہ یہ صرف وانگ چک کی جنگ نہیں تھی، بلکہ ہر اس طالب علم کی آواز تھی جو سیکھنے سے زیادہ فیل ہونے کے خوف میں جیتا ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ پرچے کیوں لیک ہوتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے ایسا نظام کیوں بنا لیا ہے جس میں ایک پرچہ لاکھوں خوابوں کا فیصلہ کر دیتا ہے؟

تعلیم کا مقصد تجسس، کردار اور صلاحیت پیدا کرنا ہے یا صرف نمبر اور گریڈ؟

جب بچے علم حاصل کرنے کے بجائے صرف امتحان پاس کرنے کے لیے پڑھتے ہیں تو نقصان صرف ان کا نہیں ہوتا، پورا معاشرہ اپنی تخلیقی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ ذہنی دباؤ، مایوسی اور ناکامی کا خوف اسی سوچ کی پیداوار ہیں۔

سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تعلیمی اصلاح صرف نصاب بدلنے سے نہیں آئے گی۔ ہمیں یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ ہم بچوں کو محض امتحان کے لیے تیار کر رہے ہیں یا زندگی کے لیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *