Skip to content
Home » Blog » آٹھویں قسط, سینٹ مورٹز

آٹھویں قسط, سینٹ مورٹز

  • by

کومو لیک اور برنینا ایکسپریس
آٹھویں قسط, سینٹ مورٹز

شارق علی
ویلیوورسٹی

اس سفر کا سب سے زیادہ منتظر دن آ پہنچا تھا۔ آج ہمیں برنینا ایکسپریس کے سفر پر روانہ ہونا تھا۔
صبح بہت جلد اٹھ بیٹھے۔ ہوٹل کا ڈائننگ ہال سات بجے کھلتا تھا اور ہمیں تو سات بجے مقررہ مقام تک پہنچنا تھا۔

کمرے میں موجود کروسان، چائے اور ڈرائی فروٹس سے مختصر سا ناشتہ کیا، تیار ہوئے اور پہلے سے منگوائی ہوئی ٹیکسی میں بیٹھ کر میلان کے مرکزی علاقے میں واقع مقررہ مقام تک پہنچ گئے۔

وہاں خاصی رونق تھی۔ دنیا کے مختلف حصوں سے آئے بھانت بھانت کے سیاح جمع تھے۔
کچھ دیر بعد اس ہجوم کو دو لگژری کوچوں میں تقسیم کر دیا گیا اور ہماری ملاقات اپنی گائیڈ مونیکا سے ہوئی۔

مونیکا کی عمر کوئی ساٹھ برس کے قریب ہوگی، مگر توانائی سے بھرپور اور بہت خوش اخلاق۔
تعارف کے دوران اس نے ہم سے پوچھا:
’’آپ کہاں سے آئے ہیں؟‘‘
’’لندن سے۔‘‘
اس کا چہرہ کھل اٹھا۔
’’میری بیٹی بھی لندن میں کام کرتی ہے۔ وہاں گئی اور ایسی رچی بسی کہ اب اٹلی واپس آنے کا نام ہی نہیں لیتی!‘‘
اس نے اجنبیت کی دیوار ایک مسکراہٹ کے ساتھ گرا دی۔

آرام دہ کوچ میں سفر شروع ہوا اور میلان پیچھے کھسکنے لگا۔ ہماری منزل تھی سوئٹزرلینڈ کا دلفریب پہاڑی شہر سینٹ مورٹز، جہاں سے ہمیں برنینا ایکسپریس میں سوار ہونا تھا۔

شہر پیچھے چھوٹا تو منظر بدلنے لگا۔ سبزہ گہرا ہوتا گیا، جھیلیں راستے کے ساتھ نمودار ہونے لگیں اور دور سلسلۂ الپس کی ہلکی پہاڑیوں کے خدوخال ابھرنے لگے۔ جیسے فطرت ہمیں بتدریج سوئس الپس کے لیے تیار کر رہی ہو۔
پھر اٹلی اور سوئٹزرلینڈ کی سرحد آگئی۔

ہو سکتا ہے آپ کے ذہن میں سرحد کا تصور کچھ سنجیدہ ہو۔ یہاں معاملہ حیرت انگیز حد تک سادہ نکلا۔ کوچ چند لمحوں کے لیے رکی۔ سرحدی اہلکاروں نے ڈرائیور اور مونیکا سے مختصر بات چیت کی۔ نہ ہم سے کوئی سوال، نہ پاسپورٹ دیکھنے کی زحمت، اور بس، ہم اٹلی سے سوئٹزرلینڈ میں داخل ہوگئے۔
سوئس حدود میں راستہ مزید دلکش ہوتا چلا گیا۔ چھوٹی بڑی جھیلیں، سبز ڈھلوانیں، دلکش بستیاں اور مزید بلند ہوتے پہاڑ۔ کچھ دیر بعد کوچ سینٹ مورٹز پہنچ گئی۔

کوچ سے اترے تو مونیکا نے شوخ رنگوں کی جھنڈیوں سے سجے ریستوران کی طرف اشارہ کیا اور کہا:
’’آپ کے پاس نوّے منٹ ہیں۔ شہر گھومیے، مگر ٹھیک وقت پر یہیں واپس آجائیے۔ اس جگہ کو بھولنا مشکل ہے!‘‘
سامنے ریلوے اسٹیشن تھا، جہاں سے برنینا ایکسپریس نے روانہ ہونا تھا۔
ابھی ہمارے سامنے سینٹ مورٹز کے نوّے منٹ تھے۔

سینٹ مورٹز سوئٹزرلینڈ کے جنوب مشرق میں واقع وادیٔ انگاڈین کا ایک چھوٹا سا مگر دنیا بھر میں مشہور پہاڑی شہر ہے۔ سطحِ سمندر سے تقریباً اٹھارہ سو میٹر کی بلندی پر آباد اس شہر کی شہرت صرف اس کے قدرتی حسن کی وجہ سے نہیں۔ اسے جدید الپائن سرمائی سیاحت کی جائے پیدائش بھی کہا جاتا ہے۔
1864 میں یہیں سے موسمِ سرما کی باقاعدہ سیاحت کا آغاز ہوا اور بعد میں یہ شہر دو مرتبہ سرمائی اولمپکس کی میزبانی بھی کر چکا ہے۔

پہلی نظر ہی میں ہم سینٹ مورٹز کی محبت میں مبتلا ہوگئے۔ بھرپور اور بے باک فطری حسن۔

مونیکا کچھ دور ہمارے ساتھ چلی، یہ کہتے ہوئے کہ میں تمہیں یہاں کے سب سے حسین مقام تک لے جاتی ہوں۔ اس کے بعد باقی شہر تم خود دیکھنا۔

پھر وہ ہمیں شہر اور جھیل کے کنارے لکڑی سے تعمیر شدہ ایک ایسے کشادہ چبوترے تک لے آئی جہاں سے دکھتا منظر کسی مصور کی بنائی ہوئی تصویر معلوم ہوتا تھا۔

سامنے نیلگوں جھیل سینٹ مورٹز پھیلی ہوئی تھی۔ پانی پر چھوٹی بڑی کشتیاں تیر رہی تھیں۔ کناروں پر سبزہ زار اور پھول تھے اور جھیل کے دوسرے سرے پر پہاڑ بڑی ترتیب اور تناسب سے آسمان کی طرف اٹھتے چلے جاتے تھے۔
دن بھی ہماری خوش قسمتی سے غیر معمولی طور پر دلکش تھا۔ دھوپ نکلی ہوئی تھی، آسمان نیلا اور جھیل کا پانی روشنی میں چمک رہا تھا۔

میں اور مونا کچھ دیر خاموش کھڑے یہ منظر دیکھتے رہے۔ پھر کچھ تصویریں لی گئیں۔
سفر میں کچھ منظر ایسے بھی ملتے ہیں جہاں الفاظ بے بس محسوس ہوتے ہیں۔ ایسے منظر صرف دیکھے اور یاد رکھے جا سکتے ہیں۔
ہمارے سامنے کچھ ایسا ہی منظر تھا۔

پیچھے مڑ کر دیکھا تو سینٹ مورٹز کا دوسرا چہرہ سامنے تھا۔

پہاڑی ڈھلوانوں پر تعمیر شدہ بے حد شاندار ہوٹل اور خوبصورت عمارتیں جھیل کی طرف رخ کیے کھڑی تھیں۔
انہی میں مشہور بیڈروٹس پیلس ہوٹل بھی ہے، جو 1896 سے سینٹ مورٹز کی پہچان بن چکا ہے۔ دنیا بھر کی دولت مند اور مشہور شخصیات یہاں قیام کرتی رہی ہیں۔

مونیکا نے اسی ہوٹل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے الفریڈ ہچکاک کا ذکر کیا۔

اس تعلق کے پیچھے ایک پوری کہانی موجود ہے۔ ہچکاک پہلی بار 1924 میں یہاں آئے تھے۔ دو برس بعد اپنی اہلیہ آلما کے ساتھ ہنی مون بھی اسی ہوٹل میں گزارا اور پھر زندگی بھر بار بار یہاں لوٹتے رہے۔ ان کا پسندیدہ کمرہ 501 تھا، جسے آج ہچکاک سوئٹ کہا جاتا ہے اور جس کی بالکونی سے جھیل سینٹ مورٹز دکھائی دیتی ہے۔
بقول مونیکا، اس ہوٹل کے ایک کمرے کا کرایہ تین ہزار پاؤنڈ، یا تقریباً نو لاکھ روپے روزانہ ہے اور سات دن سے کم کی بکنگ ہوٹل والے کرتے نہیں ہیں۔
اب ہمارے پاس محدود وقت تھا اور سامنے پورا سینٹ مورٹز۔

پہلی چیز جو شدت سے محسوس ہوئی، وہ تھی غیر معمولی صفائی اور ترتیب۔ پتھر اور لکڑی سے بنی جدید اور قدیم طرز کی عمارتیں، خوبصورت رنگوں سے سجے بیرونی حصے، کھڑکیوں پر سجے تازہ پھول اور پہاڑی ڈھلوانوں کے مطابق اوپر نیچے جاتی سڑکیں۔ یہاں کی عمارتوں میں بھی ایک مخصوص الپائن شناخت دکھائی دیتی ہے۔

چلتے چلتے ہم مرکزی علاقے میں پہنچ گئے۔

یہاں فطرت کے ساتھ دولت اور آسائش کا ایک بالکل مختلف منظر تھا۔ دنیا کے معروف مہنگے برانڈز کی دکانیں، نفاست سے سجے شوکیس اور پرسکون انداز میں چلتے پھرتے سیاح۔
سینٹ مورٹز واقعی ایک حسین امتزاج ہے۔ ایک طرف خوبصورت پہاڑ، نیلگوں جھیل اور فطرت کی دلکشی، دوسری طرف بین الاقوامی شہرت، اعلیٰ طرزِ زندگی، فیشن اور آسائش۔
ہم کچھ دیر یونہی، بغیر گوگل میپ کی مدد کے، گلیوں اور بازاروں میں گھومتے رہے۔

پھر ہم نے ایک ریستوران کے بیرونی حصے میں بیٹھ کر آئس کریم اور سوئس کوکیز کا لطف اٹھایا۔ ریستوران کی سیڑھیوں کے سامنے دور تک ایک مصروف سیاحتی پہاڑی شہر کا منظر پھیلا ہوا تھا۔ ہم خاموشی سے آئس کریم کھاتے اسے دیکھتے رہے۔

اچانک کسی قریبی گرجا گھر کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔
پہاڑوں سے گھرے اس شہر کی خاموش فضا میں ان گھنٹیوں کی آواز نے عجب تاثر پیدا کیا۔ گویا یہ آواز وادی میں دور تک سفر کرکے واپس لوٹتی ہو۔

سامنے کا منظر اور آوازیں مدغم ہوگئیں۔
دکھتا پہاڑ، نیلا آسمان، دھوپ میں نہایا شہر، ہاتھ میں گھلتی آئس کریم اور فضا میں گونجتی گرجا گھر کی گھنٹیاں۔

وقت کم تھا۔ ہم نے سینٹ مورٹز کو دیکھا کم اور محسوس زیادہ کیا۔

دنیا میں کئی خوبصورت شہر دیکھے ہیں۔ سینٹ مورٹز کی خوبصورتی بہت منفرد لگی۔ یہاں انسان کی تشکیل شدہ نفاست اور فطرت کا حسن اور عظمت ایک دوسرے سے مقابلہ نہیں کرتیں، بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ ایک دوسرے کی رفیق محسوس ہوتی ہیں۔

نوّے منٹ پورے ہونے کو تھے۔

برنینا ایکسپریس بھی مغربی حسن کی ایک صورت تھی۔

سنگ دل ہمارے انتظار میں اپنا وقتِ روانگی بدلنے والی نہیں تھی۔

ہم بادلِ نخواستہ بل ادا کرکے ریستوران کی سیڑھیوں سے اٹھے اور واپسی کے مقررہ مقام کی جانب چل پڑے۔
سینٹ مورٹز کو رخصت کرکے، دنیا کی ایک مشہور ایکسپریس سے ملاقات کا اشتیاق لیے۔۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *