Skip to content
Home » Blog » قسط 4: دو تہذیبوں کے سنگم پر — لوگانو

قسط 4: دو تہذیبوں کے سنگم پر — لوگانو

  • by

کومو لیک اور برنینا ایکسپریس
قسط 4: دو تہذیبوں کے سنگم پر — لوگانو

شارق علی
ویلیوورسٹی

بیلاجیو کے فیری ٹرمینل پر خاصی چہل پہل تھی۔

کچھ دیر بعد ایک بڑی سی فیری کنارے سے آ لگی۔ اس کے نچلے حصے کا دروازہ کھلا تو سب سے پہلے قیمتی گاڑیاں، ان میں سوار متمول مالکان اور شاید کچھ ڈرائیور ایک ایک کرکے باہر نکلنے لگے۔ رولز رائس، مرسیڈیز، لگژری ایس یو ویز اور اسی نوعیت کی مہنگی گاڑیاں خاص ترتیب کے ساتھ ساحل پر اترتی چلی گئیں۔ ان کے بعد جدید اور طاقتور موٹر سائیکلوں پر سوار سیاح باہر آئے۔

جب تمام گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں اتر چکیں تو پیدل مسافروں کے لیے راستہ کھول دیا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سیکڑوں سیاح فیری سے اتر کر بیلاجیو کی گلیوں میں بکھر گئے۔

اب باری دوسری سمت جانے والوں کی تھی۔

پہلے گاڑیاں فیری میں داخل ہوئیں، پھر موٹر سائیکلیں، اور آخر میں ہم پیدل مسافروں کو بھی اندر جانے کی اجازت مل گئی۔ ہم دونوں سیدھے اوپری عرشے پر پہنچے اور پانی کے بالکل قریب رکھی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔

چند ہی لمحوں بعد فیری میں ہلکا سا ارتعاش پیدا ہوا، رسیاں کھول دی گئیں اور ہم ایک بار پھر لیک کومو کے نیلگوں پانی پر محوِ سفر تھے۔

جھیل کا یہ مختصر سفر بھی دلکشی میں کسی طرح کم نہ تھا۔ کناروں سے یکدم بلند ہوتے سبز پہاڑ، پانی پر تیرتی کشتیاں اور دور دور تک پھیلے چھوٹے چھوٹے خوبصورت گاؤں اور قصبے مسلسل ہماری توجہ اپنی جانب کھینچتے رہے۔

دوسرے کنارے پر پہنچ کر ہم سرنوبیو (Cernobbio) کے قصبے میں فیری سے اترے۔ یہ ایک چھوٹا، پُرسکون قصبہ تھا جہاں ہمارا قیام پروگرام میں شامل نہیں تھا۔

ہم اپنے گائیڈ کے پیچھے چند منٹ پیدل چلتے ہوئے ایک بس اسٹاپ تک پہنچے، جہاں ہماری لگژری کوچ پہلے ہی ہمارا انتظار کر رہی تھی۔

تمام مسافر اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ چکے تو کوچ بل کھاتی، تقریباً عمودی چڑھائی والی پہاڑی سڑک پر چڑھنے لگی۔

یہ منظر ہمیں مری اور نتھیا گلی کی سڑکوں کی یاد دلا رہا تھا۔ سرسبز ڈھلوانیں، پائن کے گھنے جنگلات، نیچے دور تک پھیلی گہری وادیاں اور ایک طرف بلند پہاڑی دیوار۔

ان تنگ اور پیچ دار سڑکوں پر سفر کرتے ہوئے ڈرائیور کی مہارت کا حقیقی اندازہ ہوتا تھا۔ کئی مقامات پر سڑک کے ساتھ ہی گہری کھائیاں تھیں اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ ذرا سی بے احتیاطی بھی سنگین حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔

کچھ دیر بعد پہاڑی راستہ نسبتاً ہموار ہو گیا اور ہم اٹلی اور سوئٹزرلینڈ کی سرحد پر پہنچ گئے۔ کوچ چند سیکنڈ کے لیے رکی، گائیڈ اور ڈرائیور سے مختصر گفتگو ہوئی، اور پھر ہم سرحد عبور کرکے سوئٹزرلینڈ میں داخل ہو گئے۔ نہ کوئی پوچھ گچھ، نہ پاسپورٹ کی جانچ پڑتال۔

اب ہم سوئٹزرلینڈ کے دلکش شہر لوگانو کی حدود میں داخل ہو چکے تھے۔

کوچ شہر کے مرکزی چوک میں واقع نیلے فوارے (Blue Fountain) کے سامنے جا کر رکی۔

گائیڈ نے بتایا کہ نوے منٹ کی آزادانہ سیر کے بعد یہی ہمارا میٹنگ پوائنٹ ہوگا۔

ہم بھی لوگانو کو اپنی رفتار سے دریافت کرنے کے لیے کوچ سے اتر گئے۔

لوگانو سوئٹزرلینڈ کے اطالوی زبان بولنے والے صوبے ٹچینو کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اٹلی کی سرحد یہاں سے چند ہی منٹ کی مسافت پر ہے، اسی لیے یہاں کی زبان، کھانے، طرزِ تعمیر اور روزمرہ زندگی میں دونوں ملکوں کے اثرات نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔

شہر کے دامن میں پھیلی جھیل لوگانو اپنی الگ شناخت رکھتی ہے۔ یہ ہزاروں برس پہلے گلیشیئرز کے پگھلنے سے وجود میں آنے والی قدرتی جھیل ہے، جس کا ایک حصہ سوئٹزرلینڈ جبکہ دوسرا اٹلی میں واقع ہے۔

شاید یہی امتزاج لوگانو کو یورپ کے ان منفرد شہروں میں شامل کرتا ہے جہاں ایک ہی منظر میں دو تہذیبوں کا حسن محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ شہر صرف سیاحوں ہی کا نہیں بلکہ دنیا بھر کے فنکاروں، ادیبوں، متمول ریٹائرڈ افراد اور کاروباری شخصیات کا بھی پسندیدہ مسکن بن چکا ہے۔

ہم کچھ دیر مرکزی بازار اور اس کے گرد و نواح میں چہل قدمی کرتے رہے۔

شہر کے قدیم حصے کی گلیوں میں ہر طرف نفاست اور سلیقہ دکھائی دیتا تھا۔ چھوٹے چھوٹے کیفے، نفیس دکانیں، تاریخی عمارتیں اور پھولوں سے سجی کھڑکیاں ایک دلکش ماحول پیدا کر رہی تھیں۔ یہ وہ شہر ہے جہاں کاروبار، سیاحت اور پُرسکون زندگی ایک دوسرے کے ساتھ خوبصورتی سے ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔

شہر کا مرکزی حصہ دیکھنے کے بعد ہم دوبارہ جھیلِ لوگانو کے کنارے آ گئے۔

جھیل کے ساتھ بنی کشادہ پیدل گزرگاہ پر بے شمار سیاح ٹہل رہے تھے۔ ہم بھی اس ہجوم کا حصہ بن گئے۔ کسی کے ہاتھ میں کافی کا کپ تھا، کوئی تصویریں بنا رہا تھا اور کوئی خاموشی سے پانی کی لہروں کو دیکھ رہا تھا۔ سامنے نیلگوں جھیل دور تک پھیلی ہوئی تھی، جبکہ دوسری جانب سبز پہاڑی ڈھلوانوں پر بنے خوبصورت ولاز اور کثیر المنزلہ رہائشی عمارتیں دھوپ میں چمک رہی تھیں۔

ان میں سے بیشتر ولاز مستقل رہائش گاہیں نہیں بلکہ خوش حال لوگوں کے تعطیلات گزارنے کے لیے بنائے گئے مہنگے گھر ہیں۔

یورپ کے متمول خاندان اکثر جھیلوں کے کنارے ایسے مکانات خرید لیتے ہیں تاکہ سال میں چند ہفتے فطرت کے اس پُرسکون ماحول میں گزار سکیں۔

لوگانو اور اس کے گرد و نواح کا شمار سوئٹزرلینڈ کے مہنگے ترین رہائشی علاقوں میں ہوتا ہے، اور جھیل کے کنارے ایک مکان کا مالک ہونا خوش حالی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

کافی دیر تک جھیل کے کنارے چہل قدمی کے بعد ہم نے ایک بنچ پر بیٹھ کر سستانے کا فیصلہ کیا۔

مونا قریبی اسٹال سے تازہ پھلوں کی اسموتھی لے آئیں، جبکہ میں وہیں بیٹھا اردگرد کا مشاہدہ کرتا رہا۔

میری نظر قریب ہی ایک بنچ پر بیٹھے ایک معمر شخص پر پڑی۔ وہ نہایت نفیس مغربی لباس میں ملبوس تھا۔ اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا سفید پوڈل خاموشی سے بیٹھا ہوا تھا۔ کتا بھی اپنے مالک کی طرح غیر معمولی طور پر پُرسکون اور تربیت یافتہ دکھائی دیتا تھا۔

ذہن نے ایک کہانی گھڑ لی۔ شاید یہ شخص کسی زمانے میں بے حد مصروف اور کامیاب انسان رہا ہو۔ ممکن ہے زندگی نے اسے دولت، عزت اور شہرت سب کچھ دیا ہو۔

پھر وقت گزرنے کے ساتھ وہ ہنگامہ، وہ مصروفیت اور اس کے بیشتر ساتھی بچھڑ گئے ہوں۔

اب شاید وہ ہر سال چند دن اس خوبصورت جھیل کے کنارے گزارنے آتا ہو، زندگی کے اس مختصر سفر کے اپنے سب سے وفادار ساتھی، اس ننھے پوڈل کے ساتھ۔

یہ ایک مسافر کے ذہن میں ابھرنے والی بےساختہ کہانی تھی۔ حقیقت کیا تھی، شاید خود وہ شخص بھی نہ جانتا ہو، اور شاید جاننے کی ضرورت بھی نہ ہو۔

چند ہی لمحوں بعد مونا رنگ برنگے تازہ پھلوں سے تیار کی گئی ٹھنڈی اسموتھیز لے آئیں۔ تازہ پھلوں کی خوشبو سے بھرپور وہ مشروب اس خوبصورت دوپہر کا لطف اور بھی دوبالا کر گیا۔

کچھ دیر بعد ہم دونوں واپسی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔

وہ معمر شخص اور اس کا خاموش ساتھی اب بھی جھیل کی سمت دیکھ رہے تھے۔

جب ہم واپس بلو فاؤنٹین پہنچے تو ہماری کوچ روانگی کے لیے تیار کھڑی تھی۔

اب ہماری اگلی منزل کومو سٹی تھی۔

۔۔۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *