دو چراغ
شارق علی
ویلیوورسٹی
ہاجراں گھر میں کام کرنے والی ماسی کی بیٹی تھی۔ میری چھوٹی بہن کی ہم عمر، چھوٹے موٹے کاموں میں ماں کا ہاتھ بٹاتی۔ اس سے زیادہ پڑھنے کا عشق میں نے کسی اور میں نہیں دیکھا۔ میری چھوٹی بہن کا پرانا بستہ اور اس میں دو چار پرانی کتابیں کندھے پر ڈال کر یوں چھوٹے موٹے کام کرتی جیسے بس ابھی اسکول جانا ہے۔
میں نے امی کی ہدایت پر دی ہوئی داخلہ فیس سامنے غریب بستی میں قائم اسکول کے ہیڈ ماسٹر تک بھی پہنچائی۔
بعد میں معلوم ہوا کہ اس کی ماں نے ہاجراں کے بجائے اس کے انتہائی نکمے بھائی فاروق کو اسکول بھیج دیا، جسے پڑھنے میں ذرا بھی دلچسپی نہ تھی۔
برصغیر میں آج بھی نہ جانے کتنی ہاجرائیں اسی تعلیمی تعصب کا شکار ہوتی ہیں۔
یہ سماجی واہمہ کہ تعلیم پر پہلا حق لڑکے کا ہے، لڑکی کا اس کے بعد۔
تقریباً دو صدیاں پہلے ہندوستان میں دو عورتوں نے اسی واہمے کو چیلنج کرنے کی جرأت کی تھی۔
ان کے نام تھے ساویتری بائی پھولے اور فاطمہ شیخ۔
پونے کی ایک گلی میں صبح ابھی پوری طرح جاگی نہیں تھی۔ دو عورتیں ہاتھوں میں کتابیں لیے اپنے اسکول کی طرف جا رہی تھیں۔ ان کے راستے میں طنز بھی تھا، تحقیر بھی اور مخالفت بھی۔ مگر ان کے قدم نہیں رکے۔
ان عورتوں کے ہاتھوں میں محض کتابیں نہیں تھیں، ایک پرانے سماجی نظام کے خلاف خاموش بغاوت تھی۔
یہ 1848 کا پونا تھا۔ اس زمانے میں لڑکیوں، خصوصاً نچلی ذاتوں اور غریب گھرانوں کی بچیوں کے لیے باقاعدہ تعلیم کا تصور ہی سماجی روایت سے ٹکراؤ تھا۔ اسی سال جیوتی راؤ پھولے اور ساویتری بائی نے پونے کے بھِڑے واڑا میں لڑکیوں کے لیے ایک اسکول قائم کیا۔ ساویتری بائی، جو شادی کے وقت خود تعلیم سے محروم تھیں، پہلے اپنے شوہر سے پڑھیں، پھر باقاعدہ تدریسی تربیت حاصل کی اور معلمہ بنیں۔
لیکن اسکول کھول دینا اصل مشکل کا صرف آغاز تھا۔
ساویتری بائی کو گھر سے اسکول تک کا مختصر راستہ بھی ایک امتحان کی طرح طے کرنا پڑتا۔ ان کی سوانح میں یہ روایت بار بار ملتی ہے کہ مخالفین راستے میں ان پر کیچڑ، گوبر اور پتھر پھینکتے اور طعنے دیتے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ ایک اضافی ساڑی رکھتی تھیں تاکہ اسکول پہنچ کر لباس تبدیل کر سکیں اور بچیوں کے سامنے اسی وقار سے کھڑی ہوں جس کے ساتھ ایک استاد کو کھڑا ہونا چاہیے۔
مخالفت بڑھی تو جیوتی راؤ اور ساویتری بائی کو اپنا آبائی گھر بھی چھوڑنا پڑا۔ ایسے وقت میں ان کے دوست عثمان شیخ نے انہیں اپنے گھر میں جگہ دی۔ یہیں ان کی بہن فاطمہ شیخ اس تعلیمی جدوجہد کا حصہ بنیں۔ فاطمہ نے ساویتری بائی کے ساتھ بچیوں کو پڑھایا اور ایسے گھرانوں تک تعلیم پہنچانے میں مدد کی جہاں لڑکیوں اور محروم طبقات کے بچوں کے لیے اسکول کے دروازے تقریباً بند تھے۔
یہ ساتھ اپنے زمانے کے لحاظ سے غیر معمولی تھا۔ ایک ہندو عورت اور ایک مسلمان عورت مل کر ایسے بچوں کو پڑھا رہی تھیں جنہیں جنس، ذات یا غربت کی وجہ سے علم سے دور رکھا جاتا تھا۔ یہاں تعلیم صرف حروف اور اعداد سیکھنے کا نام نہیں رہی تھی؛ وہ سماجی برابری کا اعلان بن گئی تھی۔
چند برسوں میں یہ کوشش ایک چھوٹے سے کمرے تک محدود نہ رہی۔ 1851 تک پھولے میاں بیوی پونے میں لڑکیوں کے تین اسکول چلا رہے تھے۔ ان اسکولوں میں پڑھنا لکھنا اور حساب ہی نہیں بلکہ ایسے مضامین بھی پڑھائے جاتے تھے جو بچوں کو اپنے گرد موجود دنیا کو سمجھنے میں مدد دیتے تھے۔
ساویتری بائی کی جدوجہد تعلیم سے آگے بھی جاری رہی۔ انہوں نے بیواؤں، محروم عورتوں اور ذات پات کے جبر کا شکار لوگوں کے لیے کام کیا۔ 1897 میں پونے میں طاعون پھیلا تو وہ مریضوں کی خدمت میں مصروف رہیں اور اسی دوران بیماری کا شکار ہو کر وفات پا گئیں۔
فاطمہ شیخ کی زندگی کی تفصیلات تاریخی ریکارڈ میں ساویتری بائی کی نسبت بہت کم محفوظ رہ گئی ہیں۔ شاید یہی حقیقت اس کہانی کو اور معنی خیز بنا دیتی ہے۔ تاریخ کے بعض کردار اپنے پیچھے ضخیم سوانح نہیں چھوڑتے، صرف اپنے جلائے ہوئے چراغ چھوڑ جاتے ہیں۔
مجھے کبھی معلوم نہ ہو سکا کہ ہماری ہاجراں کا وہ پرانا بستہ آخر کب اس کے کندھے سے اترا۔
لیکن جب میں ساویتری بائی اور فاطمہ شیخ کی کہانی پڑھتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ شاید ہر بستی میں کوئی ہاجراں آج بھی بستہ کندھے پر ڈالے کھڑی ہے۔
ضرورت صرف اتنی ہے کہ ہم یہ فیصلہ اس کے بھائی، اس کی غربت یا اس کی جنس کو نہ کرنے دیں کہ کتاب پر پہلا حق کس کا ہے۔
