Skip to content
Home » Blog » جراثیم، اے آئی اور نئی دوا

جراثیم، اے آئی اور نئی دوا

  • by

جراثیم، اے آئی اور نئی دوا

شارق علی
ویلیوورسٹی

ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ کا ایک کمرہ۔

فضا میں جراثیم کش محلول کی مخصوص بو بسی ہوئی ہے۔ مانیٹر کی اسکرین پر لکیریں حرکت کر رہی ہیں اور وقفے وقفے سے مشین کی بیپ خاموشی توڑ دیتی ہے۔

بستر پر پڑا مریض زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے۔

اس کے جسم میں خطرناک انفیکشن پھیل چکا ہے۔

ڈاکٹر اسے اینٹی بایوٹکس دے رہے ہیں، لیکن ایک کے بعد دوسری دوا ناکام ہو رہی ہے۔

لیبارٹری سے ہر بار تقریباً ایک ہی جواب آتا ہے:

ریزسٹنٹ۔

یعنی جراثیم پر دوا اثر نہیں کر رہی۔

یہ صرف ایک مریض کی کہانی نہیں۔ دنیا بھر میں بیکٹیریا آہستہ آہستہ ان اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت پیدا کر رہے ہیں جنہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں میں کروڑوں انسانی جانیں بچائی ہیں۔

انسان کو نئی دواؤں کی ضرورت ہے، مگر انہیں تلاش کرنا آسان نہیں۔

ایک بہت بڑا سمندر

نئی دوا کی تلاش کچھ ایسی ہے جیسے ایک بہت بڑے سمندر میں کسی خاص موتی کو تلاش کرنا۔

لاکھوں کروڑوں کیمیائی مالیکیولز میں سے کون سا کسی خطرناک بیکٹیریا کو ختم کر سکتا ہے؟

ان سب کو ایک ایک کر کے آزمانا انسان کے لیے تقریباً ناممکن ہے۔

یہیں آرٹیفیشل انٹیلیجنس ایک نیا راستہ دکھاتی ہے۔

ایم آئی ٹی اور دوسرے اداروں کے سائنس دانوں نے ایک اے آئی سسٹم کو یہ سکھایا کہ مختلف مالیکیولز کی ساخت دیکھ کر اندازہ لگائے کہ ان میں سے کون سا بیکٹیریا کے خلاف مؤثر ہو سکتا ہے۔

پھر اسے ہزاروں موجودہ کمپاؤنڈز میں تلاش کرنے کو کہا گیا۔

اس تلاش میں ایک حیرت انگیز امیدوار سامنے آیا۔

ہیلیسن۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ ہیلیسن کوئی نئی چیز نہیں تھی۔ یہ مالیکیول پہلے سے موجود تھا اور کبھی ذیابیطس کے ممکنہ علاج کے طور پر اس پر تحقیق بھی ہو چکی تھی۔

اے آئی نے اسے بنایا نہیں تھا۔

اس نے صرف ایک ایسی صلاحیت پہچانی تھی جسے انسان پہلے نہیں دیکھ سکے تھے:

یہ ایک اینٹی بایوٹک بھی ہو سکتی ہے۔

یہ بالکل ایسا تھا جیسے کوئی پرانی کتاب برسوں سے لائبریری میں موجود ہو، مگر اچانک کوئی اس کے اندر چھپا ایک ایسا باب دریافت کر لے جس پر پہلے کسی کی نظر نہ گئی ہو۔

لیکن فیصلہ مشین نے نہیں کیا

اے آئی نے صرف ایک امکان پیش کیا تھا۔

اب سائنس دانوں کی باری تھی۔

ہیلیسن کو لیبارٹری میں آزمایا گیا اور معلوم ہوا کہ یہ کئی خطرناک بیکٹیریا کے خلاف مؤثر ثابت ہو سکتی ہے، حتیٰ کہ بعض ایسے جراثیم کے خلاف بھی جن پر روایتی اینٹی بایوٹکس کم اثر کرتی ہیں۔

اس کامیابی کے بعد اے آئی کو ایک کہیں بڑے ذخیرے میں تلاش کرنے دیا گیا۔

اس نے چند دنوں میں دس کروڑ سے زیادہ مالیکیولز کا جائزہ لے کر مزید ممکنہ امیدوار تلاش کر لیے۔

وہ کام جسے انسان ایک ایک مالیکیول دیکھ کر شاید کبھی مکمل نہ کر سکتا، مشین نے امکانات کی ایک مختصر فہرست میں بدل دیا۔

یہاں انسان اور مشین کے درمیان ایک نیا رشتہ سامنے آتا ہے۔

مشین امکانات تلاش کرتی ہے۔

انسان انہیں آزماتا ہے۔

اور حقیقت فیصلہ کرتی ہے۔

اصل انقلاب شاید ہیلیسن نہیں

یہ بھی ضروری نہیں کہ ہیلیسن کل ہسپتالوں میں استعمال ہونے والی دوا بن جائے۔

لیبارٹری میں کامیاب ہونے اور انسانوں کے لیے محفوظ اور مؤثر دوا بننے کے درمیان ایک طویل سفر ہوتا ہے۔

اس لیے اصل کہانی ہیلیسن سے بھی بڑی ہے۔

اصل تبدیلی دوا تلاش کرنے کے طریقے میں ہے۔

انسان اپنے علم اور تجربے کی بنیاد پر چند امکانات دیکھ سکتا ہے۔

آرٹیفیشل انٹیلیجنس کروڑوں امکانات میں ایسے راستے بھی تلاش کر سکتی ہے جن کی طرف شاید ہمارا ذہن کبھی نہ جاتا۔

لیکن یہاں ایک حد بہت واضح ہے۔

اے آئی کسی دوا کی تجویز دے سکتی ہے، مگر یہ فیصلہ نہیں کر سکتی کہ اسے مریض کو دے دینا چاہیے، کیونکہ مریض کوئی کمپیوٹر ڈیٹا نہیں۔

ایک دوا کتنی محفوظ ہے، اس کے نقصانات کیا ہیں اور انسانوں میں واقعی کتنی مؤثر ہے—یہ سب جاننے کے لیے تحقیق، تجربات، کلینیکل ٹرائلز اور انسانی نگرانی ضروری ہیں۔

شاید مستقبل میں انسان اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا تعلق مقابلے کا نہیں، شراکت کا ہوگا۔

انسان سوال پوچھے گا۔

مشین ان جگہوں پر بھی جواب تلاش کرے گی جہاں انسانی ذہن اکیلا نہیں پہنچ سکتا۔

اور پھر انسان علم، تجربے اور اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ فیصلہ کرے گا کہ اس جواب کے ساتھ کیا کرنا ہے۔

ہسپتال کے اس کمرے میں مریض اب بھی زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے۔

اسے فلسفہ نہیں چاہیے۔

اسے ایسی دوا چاہیے جو کام کرے۔

ممکن ہے مستقبل میں ایسی کسی دوا تک پہنچنے والا راستہ انسانی ذہن نے نہیں، بلکہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس نے تلاش کیا ہو۔

اور تب شاید اصل سوال یہ نہیں ہوگا کہ مشین ہم سے کتنی زیادہ ذہین ہو گئی ہے۔

اصل سوال یہ ہوگا:

کیا ہم اتنے دانا ہیں کہ اس کی دریافتوں کو صحیح طریقے سے استعمال کر سکیں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *