Skip to content
Home » Blog » آٹھویں قسط , جب تجربہ استاد بنا

آٹھویں قسط , جب تجربہ استاد بنا

  • by

ذہانت کا ارتقاء
آٹھویں قسط , جب تجربہ استاد بنا

شارق علی
ویلیوورسٹی

گزشتہ قسط میں ہم نے دیکھا تھا کہ زندگی کے طویل ارتقائی سفر میں ایک وقت ایسا آیا جب دماغ نے گزرے ہوئے واقعات کو محفوظ کرنا سیکھ لیا۔

یہ یادداشت کا آغاز تھا۔

لیکن صرف یاد رکھنا کافی نہیں تھا۔

اصل انقلاب اس وقت آیا جب جاندار نے ماضی کے تجربے کی بنیاد پر اپنا اگلا رویہ بدلنا شروع کیا۔

یہ سیکھنے کا آغاز تھا۔

فرض کیجیے کہ کوئی قدیم جاندار خوراک کی تلاش میں ایک مخصوص جگہ پہنچتا ہے اور وہاں اسے خوراک مل جاتی ہے۔ اگر اگلی مرتبہ وہ اسی تجربے کی وجہ سے دوبارہ اس سمت جانے کو ترجیح دیتا ہے تو اب اس کا رویہ محض فوری حسی ردِعمل نہیں رہا۔

ماضی اس کے حال کے فیصلے میں شامل ہو چکا ہے۔

اسی طرح اگر کسی جگہ اسے شکاری کا سامنا ہو، کوئی تکلیف پہنچے یا خطرہ محسوس ہو اور وہ آئندہ اس جگہ سے بچنے لگے تو تجربے نے اس کے رویے کو تبدیل کر دیا ہے۔

یہ تبدیلی بقا کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی تھی۔
اب ہر صورتِ حال کا جواب پیدائش کے وقت سے طے شدہ ہونا ضروری نہیں تھا۔ جاندار اپنی زندگی کے دوران ماحول سے نئی معلومات حاصل کر سکتا تھا اور اپنے رویے کو ان کے مطابق ڈھال سکتا تھا۔

گویا ارتقا نے جاندار کو صرف ایک تیار شدہ پروگرام نہیں دیا بلکہ اس پروگرام میں کچھ تبدیلی کرنے کی صلاحیت بھی دے دی۔

اس کی ایک بنیادی مثال شرطی سیکھنا یا conditioning ہے۔

اگر کوئی غیر اہم اشارہ بار بار خوراک، خطرے یا کسی دوسرے اہم واقعے کے ساتھ ظاہر ہو تو دماغ دونوں کے درمیان تعلق قائم کرنا سیکھ سکتا ہے۔ پھر صرف وہ اشارہ ہی مستقبل کے رویے کو متاثر کرنے لگتا ہے۔

یہ صلاحیت نسبتاً سادہ اعصابی نظام رکھنے والے جانداروں میں بھی مختلف صورتوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔

لیکن اس کہانی کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ اب جاندار صرف موجودہ لمحے کا قیدی نہیں رہا تھا۔

اس کے اندر ماضی کا ایک چھوٹا سا نقش موجود تھا۔
کون سی جگہ محفوظ ہے؟
کہاں خوراک مل سکتی ہے؟
کس بو کے بعد خطرہ آتا ہے؟
کون سا راستہ پہلے کامیاب ثابت ہوا تھا؟

ایسی معلومات نے ہر نئے لمحے کو بالکل نیا رہنے نہیں دیا۔ گزشتہ تجربہ آنے والے فیصلے کی رہنمائی کرنے لگا۔
یہاں ذہانت نے ایک اور اہم قدم اٹھایا۔
محسوس کرنا، یاد رکھنا، پھر سیکھ کر رویہ بدلنا۔

یہ تینوں صلاحیتیں مل کر جاندار کو ماحول کا محض جواب دینے کے بجائے اس کے مطابق خود کو بہتر انداز میں ڈھالنے کا موقع دے رہی تھیں۔

لیکن ابھی ایک بڑی چھلانگ باقی تھی۔

کیا دماغ صرف یہ سیکھ سکتا تھا کہ کیا ہوا تھا؟

یا ایک دن وہ یہ بھی سمجھنے لگے گا کہ کیا ہونے والا ہے؟

یہیں سے ذہانت کے اگلے باب کا آغاز ہوتا ہے۔
مزید اگلی قسط میں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *