ذہانت کا ارتقاء
گیارہویں قسط, جب دماغ نے دوسروں کو سمجھنا سیکھا
شارق علی
ویلیوورسٹی
گزشتہ قسط میں ہم نے دیکھا تھا کہ دماغ نے صرف ماضی کے تجربے کو یاد رکھنا ہی نہیں بلکہ نئے مسائل کا حل تلاش کرنا بھی سیکھ لیا تھا۔
لیکن قدرت میں ایک اور بڑا چیلنج موجود تھا۔
جاندار اکیلے نہیں رہتے تھے۔ ان کے اردگرد دوسرے جاندار بھی تھے۔ کچھ حریف، کچھ ساتھی، کچھ شکاری اور کچھ اپنے ہی گروہ کے افراد۔
اب صرف یہ جاننا کافی نہیں تھا کہ سامنے خوراک کہاں ہے یا خطرے سے کیسے بچنا ہے۔ یہ سمجھنا بھی ضروری تھا کہ دوسرا جاندار کیا کرنے والا ہے۔
یہ سماجی ذہانت یا social intelligence کی طرف ایک اہم قدم تھا۔
گروہوں میں رہنے والے جانوروں کے لیے دوسرے افراد کے رویّے کو سمجھنا زندگی اور موت کا مسئلہ بن سکتا تھا۔
کون طاقتور ہے؟ کون حریف ہے؟ کس کے قریب رہنا محفوظ ہے؟ کون خوراک چھین سکتا ہے؟ اور مشکل وقت میں کس سے مدد مل سکتی ہے؟
بندر اور گروہ کا سردار بندر اس کی دلچسپ مثالیں ہیں۔ وہ اپنے گروہ کے دوسرے افراد کے تعلقات پہچانتے ہیں۔ انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ کون کس کے قریب ہے، کس کا سماجی مرتبہ زیادہ ہے اور کس کے ساتھ اتحاد فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
یہاں ذہانت نے ایک نئی سمت اختیار کی۔
اب دماغ صرف باہر کی مادی دنیا کا نقشہ نہیں بنا رہا تھا بلکہ دوسرے ذہنوں کا اندازہ بھی لگا رہا تھا۔
اگر کوئی جانور دوسرے کے رویّے سے اس کے اگلے قدم کا اندازہ لگا سکے تو اسے واضح فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ شکار، دفاع، مقابلے اور تعاون، سب میں یہ صلاحیت اہم تھی۔
کچھ جانور دوسروں کی توجہ کی سمت بھی سمجھتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ دوسرا کس طرف دیکھ رہا ہے، کس چیز سے خوف زدہ ہے یا کس خوراک کی طرف بڑھ رہا ہے۔
انسانی ارتقاء میں یہی صلاحیت کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتی گئی۔
ہمارے آباؤ اجداد چھوٹے گروہوں میں رہتے تھے۔ شکار، بچوں کی نگہداشت، خوراک کی تقسیم اور خطرے سے دفاع کے لیے انہیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا پڑتا تھا۔
اس لیے وہ دماغ زیادہ کامیاب ثابت ہوئے جو صرف طاقتور یا تیز نہیں تھے بلکہ دوسروں کے رویّے کو بہتر سمجھ سکتے تھے۔
رفتہ رفتہ اشارے، چہرے کے تاثرات، آواز کا لہجہ اور جسمانی حرکات معنی رکھنے لگیں۔
ایک نگاہ خطرے کی خبر دے سکتی تھی۔ ایک مخصوص آواز ساتھیوں کو بلا سکتی تھی۔ ایک اشارہ پورے گروہ کو خاموش رہنے کا پیغام دے سکتا تھا۔
یہ ابھی مکمل انسانی زبان نہیں تھی۔
لیکن شاید زبان کی بنیاد رکھنے والی دنیا تیار ہو رہی تھی۔
ذہانت اب ایک فرد کے دماغ میں قید صلاحیت نہیں رہی تھی۔ وہ تعلقات، تعاون اور مشترکہ تجربے کا حصہ بننے لگی تھی۔
اور یہی ارتقائی سفر ہمیں اگلے اور آخری مرحلے تک لے جاتا ہے۔
وہ لمحہ جب انسان نے صرف دوسروں کو سمجھنا ہی نہیں بلکہ اپنے خیالات کو لفظوں میں دوسروں تک پہنچانا سیکھ لیا۔
وہیں سے ذہانت کی ایک بالکل نئی دنیا شروع ہونے والی تھی۔
