دورِ فراوانی
شارق علی
ویلیوورسٹی
سن 2035 کی ایک صبح۔
ڈاکٹر حارث کی آنکھ کھلتی ہے۔ آنکھوں کی جنبش کے ساتھ ہی کمرے کے پردے خود بخود کھل چکے ہیں۔ باہر ستمبر کی نرم دھوپ پھیلی ہوئی ہے۔ شہر جاگ چکا ہے، مگر حارث کی صبح میں وہ پرانی عجلت کہیں نہیں۔
گھڑی آٹھ بجا رہی ہے، مگر کوئی الارم نہیں بجا۔ ڈاکٹر حارث کو اب الارم کی ضرورت بھی نہیں رہی۔
انہیں ہسپتال نہیں جانا۔
کچھ برس پہلے وہ ایک مصروف ہسپتال کے انتہائی مصروف شعبے میں کام کرتے تھے۔
صبح سویرے الارم سے بیدار ہونا، جلدی جلدی تیار ہو کر مصروف ٹریفک سے گزرنا، مریض دیکھنا، فیصلے کرنا، کبھی کسی کی جان بچانا، اور پھر تھکا ہارا رات گئے گھر لوٹنا—یہ سب ان کی زندگی کا معمول تھا۔
پھر مصنوعی ذہانت کا انقلاب آیا، اور تبدیلی پہلے آہستہ آہستہ، پھر حیرت انگیز رفتار سے پھیلتی چلی گئی۔
پہلے اے آئی نے ڈاکٹروں کو تشخیص میں مدد دینا شروع کی۔ پھر اسکین اور خون کے ٹیسٹ کی تشریح سنبھالی۔ اس کے بعد روبوٹک نظام بہت سے طبی طریقۂ کار انجام دینے لگے۔ 2035 تک ہسپتالوں میں انسان اب بھی موجود ہیں، مگر ان کی ضرورت بہت کم رہ گئی ہے۔
بیشتر معمول کی طب خودکار نظام چلاتے ہیں اور انسانی ڈاکٹر صرف پیچیدہ یا غیر معمولی معاملات میں شامل ہوتے ہیں۔
حارث اب ہفتے میں چند گھنٹے ایک کمیونٹی سینٹر میں رضاکارانہ طور پر کام کرنے جاتے ہیں۔
انہیں پیسوں کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔
اب ہر شہری کو حکومت کی طرف سے ایک بنیادی آمدنی ملتی ہے۔ خوراک اور علاج تقریباً مفت ہیں۔ خودکار کھیتوں اور کارخانوں نے خوراک اور روزمرہ اشیا کی قیمت بہت کم کر دی ہے۔ بجلی سستی ہے اور بغیر ڈرائیور کے چلنے والی ٹرانسپورٹ ہر وقت دستیاب ہے۔
ڈاکٹر حارث بستر سے اٹھ کر کافی بناتے ہیں اور کھڑکی کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔
آج بھی انہیں کہیں نہیں پہنچنا۔
اور یہی ان کا مسئلہ ہے۔
وہ سوچتے ہیں:
آج میں کیا کروں؟
ممکن ہے آپ کو یہ محض ایک خیالی منظر لگے، مگر اس کے پیچھے موجود سوال اب مکمل طور پر خیالی نہیں رہا۔
مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور آٹومیشن جس رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں، اس نے ایک ایسے مستقبل کے تصور کو جنم دیا ہے جسے بعض لوگ Age of Abundance—عہدِ فراوانی کہتے ہیں۔
اگر مشینیں کھیتوں کا انتظام چلا سکتی ہوں، کارخانے سنبھال سکتی ہوں، گاڑیاں چلا سکتی ہوں، عمارتیں تعمیر کر سکتی ہوں، حساب کتاب کر سکتی ہوں، اور بہت سا علمی اور تخلیقی کام بھی انجام دے سکتی ہوں، تو انسانی تاریخ کا ایک بنیادی سوال بدل سکتا ہے:
زندہ رہنے کے لیے ہر انسان کا کام کرنا کیوں ضروری رہے؟
یہ خواب بہت پرانا ہے۔
انسان نے ہزاروں برس اپنی زندگی کا بڑا حصہ خوراک، چھت اور تحفظ حاصل کرنے میں صرف کیا ہے۔
صنعتی انقلاب نے انسانی جسم کی طاقت کو مشینوں کے ذریعے کئی گنا بڑھایا۔ کمپیوٹر نے ذہنی کام کو تیز کیا۔ اب مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس شاید اس سفر کا اگلا قدم ہیں۔
لیکن یہاں ایک اور بہت بڑا سوال ہمارا راستہ روک لیتا ہے:
اگر مشینیں دولت کی فراوانی پیدا کریں گی تو ان کا مالک کون ہوگا؟ مشینوں کے مالک، یا عام لوگ؟
یہ شاید اے آئی انقلاب کا سب سے اہم سوال ہے۔
فرض کیجیے ایک کارخانے میں پہلے دس ہزار افراد کام کرتے تھے۔ اب وہی کارخانہ چند انجینئروں اور ہزاروں روبوٹس کے ذریعے پہلے سے دس گنا زیادہ پیداوار کرتا ہے۔
معاشرہ یقیناً زیادہ امیر ہوگیا۔
لیکن کیا وہ دس ہزار سابق کارکن بھی زیادہ امیر ہوئے؟
ضروری نہیں۔
اگر روبوٹس، الگورتھمز، ڈیٹا سینٹرز اور خودکار کارخانوں کی ملکیت چند بڑی کارپوریشنز اور انتہائی دولت مند افراد کے پاس ہو، تو ایک عجیب دنیا وجود میں آسکتی ہے۔
پیداوار بے حساب ہوگی، مگر خوش حالی محدود۔
یہ عہدِ فراوانی ہوگا، مگر سب کے لیے نہیں۔
فراوانی پیدا کرنا شاید ٹیکنالوجی کا مسئلہ ہے؛ اسے بانٹنا انسان کا۔
انسانی تاریخ میں غربت کی ایک بڑی وجہ یہ رہی ہے کہ ہم سب کے لیے کافی پیدا نہیں کر سکتے تھے۔
مستقبل کا المیہ اس سے کہیں زیادہ عجیب ہوسکتا ہے:
ہمارے پاس سب کے لیے کافی ہوگا، لیکن پھر بھی سب کو کافی نہیں ملے گا۔
اسی مقام پر اے آئی کا سوال ٹیکنالوجی سے نکل کر سیاست، معیشت اور اخلاقیات کا سوال بن جاتا ہے۔
ممکن ہے مستقبل میں یونیورسل بیسک انکم، سوشل ڈیویڈنڈ، سب کے لیے صحت اور تعلیم کی سہولت، یا کسی اور طریقے سے خودکار معیشت کی پیدا کردہ دولت عوام تک پہنچائی جائے۔
اگر ایسا ہوا تو شاید پہلی مرتبہ کروڑوں انسانوں کو یہ آزادی مل سکے گی کہ ان کی زندگی کا بیشتر وقت صرف روزی کمانے میں صرف نہ ہو۔
لیکن تب ایک دوسرا، شاید اس سے بھی گہرا مسئلہ سامنے آئے گا۔
وہی مسئلہ جو 2035 کی اس صبح ڈاکٹر حارث کے سامنے ہے۔
اگر مجھے کام کرنے کی ضرورت نہیں، تو میں کروں کیا؟
کام صرف تنخواہ کا نام نہیں۔
کام ہماری زندگی کو ترتیب دیتا ہے۔ اسے منظم کرتا ہے۔ ہمیں صبح اٹھنے کی وجہ دیتا ہے۔ دوسرے انسانوں سے ملاتا ہے۔ ہمیں محسوس کراتا ہے کہ ہماری کسی کو ضرورت ہے۔
اور شاید سب سے بڑھ کر، کام ہماری شناخت کا حصہ بن جاتا ہے۔
کسی اجنبی سے ملاقات ہو تو چند سوالوں کے بعد ہم پوچھتے ہیں:
”آپ کیا کرتے ہیں؟“
جواب آتا ہے:
میں ڈاکٹر ہوں۔
میں استاد ہوں۔
میں انجینئر ہوں۔
میں دکاندار ہوں۔
گویا سوال ہوتا ہے کہ آپ کیا کرتے ہیں؟ مگر جواب میں ہم بتاتے ہیں کہ ہم کون ہیں۔
صدیوں سے پیشہ ہماری شناخت کا مختصر ترین تعارف رہا ہے۔
اگر ایک دن ٹیکنالوجی ہمارے ”کرنے“ کی ضرورت ہی ختم کر دے تو ہمارے ”ہونے“ کا مفہوم کیا رہ جائے گا؟
یہیں عہدِ فراوانی کا معاشی سوال ایک فلسفیانہ سوال بن جاتا ہے۔
شاید انسان کو دوبارہ یہ سیکھنا پڑے کہ زندگی کا مقصد صرف پیداواری ہونا نہیں۔ بچے کی پرورش کرنا، بوڑھے والدین کے ساتھ بیٹھنا، کتاب پڑھنا، موسیقی سیکھنا، باغ لگانا، کسی دوست کی مدد کرنا، تحقیق کرنا، تصویر بنانا، سفر کرنا، کسی نوجوان کو پڑھانا، یا محض خاموش بیٹھ کر کائنات کے بارے میں سوچنا بھی انسانی زندگی کے بامعنی کام ہوسکتے ہیں۔
ممکن ہے مستقبل میں لفظ ”کام“ ہی اپنا مطلب بدل دے۔
ایک کام وہ ہوگا جو انسان روٹی کے لیے کرتا ہے۔
اور دوسرا وہ جو انسان اس لیے کرتا ہے کہ اسے اپنی زندگی بامعنی محسوس ہو۔
لیکن اس خوبصورت مستقبل، اس دورِ فراوانی تک پہنچنے کے راستے میں میرا سوال اب بھی وہی ہے:
فراوانی کس کی؟
اگر مصنوعی ذہانت اور روبوٹس کی پیدا کردہ دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہوگئی تو عام انسان کو فرصت نہیں ملے گی؛ اسے صرف بے روزگاری ملے گی۔ اسے مقصد تلاش کرنے کی آزادی نہیں ہوگی؛ وہ بقا کی فکر میں مبتلا رہے گا۔
لیکن اگر خودکار معیشت کی پیدا کردہ دولت میں معاشرے کے عام انسان کا بھی حصہ ہوا تو شاید انسانی تہذیب ایک بالکل نئے مرحلے میں داخل ہوجائے۔
جہاں پہلی مرتبہ سوال یہ نہیں ہوگا:
”زندہ رہنے کے لیے مجھے کیا کام کرنا چاہیے؟“
بلکہ:
”مجھے اپنی زندگی کس مقصد کے لیے گزارنی چاہیے؟“
کھڑکی کے باہر دھوپ اب تیز ہوچکی ہے۔
ڈاکٹر حارث اپنی کافی ختم کرکے گھر سے نکلنے لگے ہیں۔
آج انہیں کسی ہسپتال کے روسٹر نے نہیں بلایا۔
کسی کلینیکل ڈائریکٹر نے کوئی نئی ذمہ داری نہیں دی۔
انہیں پیسوں کے لیے بھی کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔
وہ اپنی مرضی سے کمیونٹی کلینک جا رہے ہیں۔
وہاں چند بوڑھے لوگ ان کا انتظار کر رہے ہیں۔
بیماری کی تشخیص شاید اے آئی حارث سے بہتر کرسکتی ہے، مگر وہاں ایک بوڑھا شخص ایسا بھی ہے جسے تشخیص سے زیادہ کسی انسان کی موجودگی درکار ہے. کوئی جو چند لمحے اس کے سامنے بیٹھے، اس کی بات سنے، اور اسے یہ احساس دلائے کہ وہ محض ایک کلینیکل کیس نہیں۔
ڈاکٹر حارث خود ہی مسکرا دیتے ہیں۔
شاید انہیں اپنے سوال کا ایک چھوٹا سا جواب مل گیا ہے۔
مشینیں انسان کا کام بڑی حد تک اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہیں۔
لیکن شاید انسان ہونے کا کام پھر بھی ہمیں خود ہی کرنا ہوگا۔
