Skip to content
Home » Blog » دسویں قسط, جب دماغ نے مسئلہ حل کرنا سیکھا

دسویں قسط, جب دماغ نے مسئلہ حل کرنا سیکھا

ذہانت کا ارتقاء
دسویں قسط, جب دماغ نے مسئلہ حل کرنا سیکھا

شارق علی
ویلیوورسٹی

گزشتہ قسط میں ہم نے دیکھا تھا کہ یادداشت نے جانداروں کو ماضی کے تجربے سے آنے والے لمحے کا اندازہ لگانا سکھایا۔

لیکن قدرت میں صرف اندازہ لگا لینا کافی نہیں تھا۔
کبھی سامنے ایسا نیا مسئلہ آ جاتا جس کا پرانا جواب کام نہیں کرتا تھا۔
خوراک سامنے ہے، لیکن درمیان میں رکاوٹ ہے۔ شکار نظر آ رہا ہے، مگر سیدھا راستہ بند ہے۔ خطرے سے بچنا ہے، لیکن معمول کا راستہ محفوظ نہیں رہا۔

ایسی صورت میں دماغ کو مختلف امکانات میں سے کوئی نیا راستہ تلاش کرنا تھا۔
یہ مسئلہ حل کرنے یا problem-solving کی ابتدا تھی۔

قدرت میں اس صلاحیت کی دلچسپ مثالیں آج بھی ملتی ہیں۔

کوّے خوراک حاصل کرنے کے لیے ٹہنیوں کو اوزار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ بعض بندر سخت گری دار میوے توڑنے کے لیے پتھر استعمال کرتے ہیں۔ آکٹوپس کسی بند خول یا ڈبے تک پہنچنے کے لیے مختلف طریقے آزماتا ہے۔

ان رویوں میں ایک اہم بات مشترک ہے۔
جاندار صرف ماحول کا جواب نہیں دے رہا بلکہ کسی مقصد تک پہنچنے کے لیے اپنے رویے کو بدل رہا ہے۔

یہاں آزمائش اور غلطی یا trial and error اہم ثابت ہوئی۔ ایک طریقہ ناکام ہوا تو دوسرا آزمایا گیا، اور کامیاب طریقہ یادداشت کا حصہ بن گیا۔

یوں یادداشت، پیش گوئی اور تجربہ ایک دوسرے سے جڑنے لگے۔

بعض جاندار اس سے بھی آگے بڑھے۔ وہ کسی رکاوٹ کے گرد گھوم سکتے تھے، کسی چیز کو کھینچ کر قریب لا سکتے تھے یا ایک شے کو دوسری شے تک پہنچنے کے لیے استعمال کر سکتے تھے۔

گویا دماغ اب اپنے سامنے موجود دنیا میں امکانات تلاش کرنے لگا تھا۔

میں کیا کر سکتا ہوں؟

کون سا راستہ بہتر ہے؟

اگر یہ طریقہ کام نہ کرے تو دوسرا کیا ہو سکتا ہے؟

یہ سوال الفاظ میں نہیں تھے، لیکن رویے میں ان کے ابتدائی جواب موجود تھے۔

قدرتی انتخاب نے ایسے جانداروں کو فائدہ دیا جو بدلتے حالات میں اپنے رویے کو زیادہ لچکدار بنا سکتے تھے۔

کیونکہ بدلتی ہوئی دنیا میں صرف طاقت یا رفتار کافی نہیں تھی۔
کبھی کبھی بہتر حل تلاش کرنا زیادہ اہم تھا۔
لیکن اگر ہر جاندار کو ہر مسئلہ خود ہی حل کرنا پڑے تو سیکھنے کی رفتار محدود رہتی ہے۔

اگر وہ دوسروں کو دیکھ کر بھی سیکھ سکے تو؟

اگر ایک کی دریافت دوسرے کے کام آ سکے تو؟

یہ ذہانت کے سفر کا اگلا بڑا قدم تھا۔

دوسروں سے سیکھنا۔

مزید اگلی قسط میں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *