Skip to content
Home » Blog » الہٰ دین کا چراغ ، قسط نمبر چار

الہٰ دین کا چراغ ، قسط نمبر چار

  • by

الہٰ دین کا چراغ ، قسط نمبر چار

مراکش کے رنگ

شارق علی
ویلیوورسٹی

ہم جامع الفنا کے مرکزی میدانی ہنگامے سے ہٹ کر اب اس کے اندرونی، تنگ اور پیچ در پیچ بازاروں میں داخل ہو چکے تھے۔ یہ گلیاں کسی منصوبے کے مطابق ہرگز سیدھی نہیں تھیں؛ وقت اور ضرورت نے انہیں نقشے کے بغیر تراشا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے کسی الف لیلوی فلم کا سیٹ ہو۔ ہر موڑ پر ایک نئی دنیا کا منظر کھلتا تھا۔

ایک دکان پر نگاہ ٹھہر گئی۔ اس کے چھوٹے سے لکڑی کے شو کیس میں الہٰ دین کے چراغ جیسے بے شمار پیتل، کانسی اور تانبے کے ظروف سجے تھے۔ باریک نقش و نگار سے آراستہ۔ ایک چراغ خاص طور پر دکھائی دیا۔ وہ روشن نہ تھا، مگر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے روشنی اس کے وجود سے پھوٹ رہی ہو۔ ایک لمحے کو میں چونک سا گیا۔ یہ محض سجاوٹ نہیں ہو سکتی تھی۔ یہ ضرور جادو تھا۔ صدیوں پرانی دستکاری کی روایت کا جادو۔ ایسی دستکاری جو صحرا کے کنارے آباد شہروں میں بھی جمالیات کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

چند قدم آگے بڑھے تو رنگوں سے بھری ایک نئی حیرت نے ہمارا استقبال کیا۔ بازار کے نکڑ پر واقع پھلوں اور سبزیوں کی ایک دکان تھی، جہاں ہر شے اس ترتیب سے رکھی تھی جیسے کوئی مصور رنگوں کی نمائش کر رہا ہو۔ نارنجی سنگترے، لیموں، سرخ ٹماٹر، ہری مرچیں، زیتون کے ڈھیر اور کھجوروں کی مختلف اقسام۔ سب کچھ نگاہوں کو مسحور کر رہا تھا۔

یہ منظر دیکھ کر ذہن میں ایک سوال ابھرا:
اس صحرائی ملک میں اتنے رنگ، اور پھلوں و سبزیوں کی اتنی فراوانی کیسے؟

حقیقت یہ ہے کہ مراکش جغرافیائی طور پر محض صحرا نہیں، بلکہ ایک متنوع ملک ہے۔ بحیرۂ اوقیانوس اور بحیرۂ روم کے ساحل، اٹلس پہاڑوں کا سلسلہ اور صحراۓ اعظم۔ یہ سب ایک ہی جغرافیے میں سمٹے ہوئے ہیں۔

اٹلس پہاڑ برف باری اور بارش کا قدرتی ذخیرہ ہیں۔ ان سے پگھلنے والا پانی وادیوں اور میدانوں تک پہنچتا ہے۔ قدیم آبپاشی نظام، جنہیں خَتّارہ یا قنات کہا جاتا ہے، زیرِ زمین نہروں کے ذریعے پانی کو دور دراز کھیتوں تک پہنچاتے ہیں۔ یہ نظام صدیوں پرانا ہے اور آج بھی کئی علاقوں میں فعال ہے۔

مراکش کی اہم زرعی پیداوار میں سنگترے، کینو، زیتون، کھجوریں، انار، انجیر، ٹماٹر، آلو، پیاز، دھنیا اور پودینہ شامل ہیں۔ زیتون مراکش کی خوراک اور معیشت میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے؛ زیتون کا تیل گھروں، بازاروں اور برآمدات، ہر سطح پر موجود ہے۔

صحرا کے قریب علاقوں میں کھجوروں کے نخلستان محض فصل نہیں بلکہ زندگی کا مکمل نظام ہیں۔ یہ نخلستان سایہ بھی دیتے ہیں، خوراک بھی، روزگار بھی اور ثقافت بھی۔ اسی لیے مراکش کو یوں دیکھنا زیادہ درست ہے کہ یہ صحرا کے کنارے آباد ایک زندہ نخلستان ہے، جہاں سخت موسم کے باوجود زمین کے اسرار و رموز سمجھ کر، پانی کو سنبھال کر اور روایت کو علم کے ساتھ جوڑ کر زراعت کو ممکن بنایا گیا ہے۔

پسندیدہ پھلوں کی خریداری کے بعد احساس ہوا کہ ایئرپورٹ سے لی گئی مقامی کرنسی ختم ہو چکی ہے۔ قریب ہی ایک منی چینجر تھا۔ شیشے کے اُس پار بیٹھے شخص نے چند لمحوں میں مطلوبہ رقم تبدیل کر دی۔

ہم تھیلے ہاتھ میں اٹھائے ہوٹل واپسی کے لیے قریبی ٹیکسی اسٹینڈ کی سمت بڑھے۔ اب ہم ایک نسبتاً کشادہ سڑک کے فٹ پاتھ پر چل رہے تھے۔
مراکش کی معیشت کئی ستونوں پر کھڑی ہے۔ سیاحت اس کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے؛ ہر سال لاکھوں لوگ اس سرزمین کی تاریخ، بازاروں، شہروں اور صحرا کی کشش میں یہاں آتے، ہیں۔ زراعت دوسرا بڑا سہارا ہے—سنگترے، زیتون، کھجوریں اور سبزیاں نہ صرف مقامی ضروریات پوری کرتی ہیں بلکہ برآمدات کے ذریعے زرمبادلہ بھی کماتی ہیں۔ اس کے ساتھ فاسفیٹ کی کانیں، جو عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں، مراکش کو قدرتی وسائل کے نقشے پر نمایاں مقام دیتی ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم مراکشیوں کی ترسیلاتِ زر بھی معیشت کا مستقل حصہ ہیں۔

یہ ملک نہ مکمل طور پر امیر ہے، نہ روایتی معنوں میں غریب۔ یہاں خوشحالی اور سادگی ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ بڑے شہروں میں جدید انفراسٹرکچر، ٹرینیں، سڑکیں اور سیاحتی سہولیات موجود ہیں، جبکہ عام آدمی کی زندگی اب بھی محتاط، محنت طلب اور سادہ ہے۔ یہی توازن مراکش کو ایک منفرد شناخت دیتا ہے۔ ماحول خلیجی ممالک سے مختلف ہے۔ یہاں دولت کا شور کم اور زندگی کی روانی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

فٹ پاتھ پر ٹیکسی اسٹینڈ کی طرف بڑھتے ہوئے ہم نے سڑک کے کنارے لگے سنگترے اور لیموں کے درختوں کو دلچسپی سے دیکھا، جو پھلوں سے لدے ہوئے تھے۔

اسٹینڈ پہنچتے ہی ہم ٹیکسی میں بیٹھ گئے، اور شہر ہمارے پیچھے سرکتا ہوا رہ گیا۔
ہم ہوٹل کی طرف روانہ تھے۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *