الفاظ کی ادبی نشست
شارق علی
ویلیوورسٹی
بیدل کسی مشکل لفظ کے معنی اور متبادل ڈھونڈتے ہوئے سوچنے لگا کہ ہر لفظ ایک منفرد شخصیت ہے۔ بعض لفظ بظاہر ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں، مگر ہر ایک کا اپنا مزاج، آہنگ، انداز اور طرزِ نشست و برخاست ہے۔ کوئی بے تکلفی سے پاس آ بیٹھتا ہے تو کوئی فاصلہ رکھ کر بات کرتا ہے۔
جیسے اس دنیا میں کوئی انسان کسی دوسرے انسان کی ہوبہو نقل نہیں، ویسے ہی بظاہر ہم معنی لفظ بھی ایک دوسرے کی جگہ آجائیں تو جملے کا رنگ اور فضا بدل دیتے ہیں۔
اسی خیال میں اس کی پلکیں بوجھل ہوئیں۔ حروف دھندلائے، سر تکیے پر ڈھلکا اور سرہانے رکھی لغت کھلی کی کھلی رہ گئی۔
بیدل گہری نیند سو چکا تھا۔ لغت کے کھلے صفحات پر لفظ زندہ تتلیوں کی طرح پھڑپھڑائے اور اُڑ اُڑ کر قریب رکھی سنگھار میز کے کشادہ تختے پر جا اترے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں ایک ہال سج گیا۔ آج الفاظ کی ادبی نشست تھی۔
بیدل نے خود کو اس ہال کے دروازے پر پایا۔ وہاں «خوش آمدید» کھڑا تھا۔ ہر آنے والے سے یوں ملتا جیسے اسی کا انتظار تھا۔ اس کے پیچھے «چشم براہ» بھی موجود تھا، لیکن بیشتر مہمان اسے پہچانے بغیر آگے بڑھ رہے تھے۔
اگلی صفوں میں خاصی رونق تھی۔ «کامیابی» بار بار اپنا زرق برق لباس درست کر رہی تھی تاکہ تصویر میں نمایاں نظر آئے۔
«ترقی» جلدی میں تھی۔ اسے کہیں اور بھی پہنچنا تھا۔ «بحران» کے گرد صحافی جمع تھے۔ «محبت» سے سب ملنا چاہتے تھے، مگر اس کی بات پوری سننے کی فرصت کم لوگوں کے پاس تھی۔
ایک کونے میں «مروّت» بیٹھی تھی۔ اس نے ساتھ والی کرسی پر اپنا بیگ رکھا ہوا تھا۔ ایک تھکا ہارا لفظ آیا تو فوراً بیگ اٹھا لیا۔
بیدل نے پوچھا، «آپ اسٹیج پر کیوں نہیں جاتیں؟»
وہ مسکرائی۔ «کسی نے بلایا نہیں۔ اب تو کبھی کسی پرانے خط میں جگہ مل جاتی ہے، کبھی کسی بزرگ کی گفتگو میں۔»
پاس بیٹھا «لحاظ» کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر دوسرے کی بات کاٹنا اسے مناسب نہ لگا۔
اتنے میں «وائرل» داخل ہوا۔ کئی موبائل اس کی طرف اٹھ گئے۔ «ٹرینڈ» نے ہاتھ ہلا کر اسے اپنے پاس بلا لیا۔ دونوں ابھی بیٹھے بھی نہ تھے کہ ان کی تصویریں ہال سے باہر پہنچ چکی تھیں۔
«آج کل انہی کا زمانہ ہے، بھائی!» بیدل کے برابر بیٹھے «توقف» نے کہا۔
بیدل نے جواب دینے سے پہلے ذرا رکنا چاہا، مگر پیچھے سے کسی نے آواز دی، «پروگرام شروع کیجیے، وقت کم ہے!»
پہلی شکایت «تنہائی» کی تھی۔
«مجھے ہر بار اداسی سمجھ لیا جاتا ہے،» اس نے کہا۔ «کبھی کوئی شخص اپنی خوشی سے بھی میرے ساتھ بیٹھتا ہے۔ کتاب پڑھتا ہے، کچھ سوچتا ہے، اپنے آپ کو سنتا ہے۔ لیکن جہاں میرا نام آیا، لوگوں نے فوراً ایک دکھی آدمی کی تصویر بنا دی۔»
«خلوت» نے سر ہلایا۔ وہ اس کی رشتہ دار تھی، مگر دونوں کی صورت ایک جیسی نہیں تھی۔
پھر «تنقید» مائیک پر آئی۔
«میرا کام کسی تحریر کو غور سے دیکھنا ہے۔ خوبی پہچاننا، کمزوری بتانا، سمجھنے میں مدد دینا۔ مگر مجھے بلاتے ہیں اور کام تذلیل کا لیتے ہیں۔ آخر میں ناراضی بھی میرے حصے میں آتی ہے۔»
اس کے پیچھے «بے باکی» کھڑی تھی۔ اسے شکایت تھی کہ بدتمیزی اکثر اس کا شناختی کارڈ استعمال کرتی ہے۔
چائے کے وقفے میں بیدل کی ملاقات «قناعت» سے ہوئی۔ اس نے پیالی میں اتنی ہی چائے لی جتنی پینی تھی۔
«لوگ سمجھتے ہیں کہ میرے آنے سے کوشش ختم ہو جاتی ہے،» اس نے کہا۔ «میں نے کب کسی کو محنت سے روکا؟ بس اتنا چاہتی ہوں کہ آدمی جو کچھ اسے حاصل ہے، اس کی قدر بھی کر سکے۔»
«آرزو» اس کے ساتھ کھڑی مسکرا رہی تھی۔ دونوں میں بظاہر کوئی جھگڑا نہیں تھا۔
ہال کے پچھلے حصے میں کچھ بوڑھے لفظ خاموش بیٹھے تھے۔ ان کے تلفظ پوچھنے پڑتے تھے۔ ایک نے اپنی جیب سے پرانی کتاب کا ورق نکالا۔
«یہاں کبھی میرا گھر تھا،» اس نے انگلی رکھ کر کہا۔ «اب کتاب چھپتی ہے تو حاشیے میں میرا مطلب لکھنا پڑتا ہے۔ اچھا ہے، کم از کم کوئی پوچھ تو لیتا ہے۔»
اس کی آواز میں شکوے سے زیادہ اس شخص کی خوشی تھی جس کا نام کسی کو اچانک یاد آ جائے۔
اسی دوران نئے لفظوں کا وفد پہنچا۔ «آن لائن»، «پوڈکاسٹ» اور «مصنوعی ذہانت» اپنے تعارف جمع کروا رہے تھے۔ چند بزرگوں نے ناگواری سے دیکھا تو «رابطہ» آگے بڑھا۔
«ان کے لیے جگہ نکالیے۔ دنیا میں نئے کام شروع ہوئے ہیں۔ انہیں پکارنے کے لیے نام بھی چاہییں۔»
«مصنوعی ذہانت» اپنی نشست تک جاتے ہوئے کئی سوالوں میں گھر گئی۔ ابھی اس محفل میں اسے آئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا، مگر اس کے بارے میں امیدیں اور اندیشے دونوں بہت تھے۔
اختتامی نشست میں «متروک» کو بلایا گیا۔ ہال میں کچھ خاموشی چھا گئی۔
اس نے کہا، «ہر لفظ ہمیشہ زندہ نہیں رہتا۔ بعض چیزیں رخصت ہوتی ہیں تو ان کے نام بھی پیچھے رہ جاتے ہیں۔ مجھے اس پر اعتراض نہیں۔ دکھ تب ہوتا ہے جب کوئی لفظ ابھی بہت کچھ کہہ سکتا ہو، مگر اسے سنے بغیر بوڑھا قرار دے دیا جائے۔»
واپسی پر دروازے کے پاس «چشم براہ» اب بھی کھڑا تھا۔
اس بار بیدل اس کے پاس رکا۔
آنکھ کھلی تو لغت سرہانے کھلی پڑی تھی۔ سنگھار میز پر کوئی نہ تھا۔
بیدل نے موبائل اٹھایا اور ایک دوست کو پیغام لکھنے لگا۔ انگلی حسبِ عادت «انتظار» لکھنے لگی، پھر اس نے جملہ بدل دیا:
«کبھی آئیے، ہم چشم براہ ہیں۔»
پیغام بھیج کر اسے یوں محسوس ہوا جیسے ادبی نشست کی پچھلی صف سے کوئی اٹھ کر اس کے گھر آ گیا ہو۔
