Skip to content
Home » Blog » آسیب زدہ اسکول ب, ند دروازہ

آسیب زدہ اسکول ب, ند دروازہ

  • by

آسیب زدہ اسکول ب, ند دروازہ

پہلی قسط

شارق علی
ویلیوورسٹی

(گھوسٹ اسکولز پر بننے والی ایک دستاویزی فلم سے متاثر ادبی نان فکشن)

صبح کی دھوپ اور کچا راستہ۔ رابعہ اور اس کی چند سہیلیاں بستے کندھوں پر ڈالے چلی جا رہی ہیں۔ دس سالہ رابعہ باقی بچوں سے چند قدم آگے ہے۔

اسکول کی عمارت نظر آتی ہے۔

پکی اینٹوں کی چار دیواری اور زنگ آلود لوہے کا دروازہ۔ دیواروں پر اکھڑا ہوا رنگ۔

سب بچے دروازے تک پہنچتے ہیں۔

مگر دروازے پر تالا پڑا ہے۔

وہ یہاں پہلی بار نہیں آئے۔ ان کی مایوسی نئی نہیں ہے۔ پھر بھی وہ کچھ دیر انتظار کرتے ہیں۔ شاید استاد آ جائے۔ اس کے پاس چابی ہو۔ شاید آج یہ تالا کھل جائے۔

لیکن وہاں کوئی نہیں آتا۔

کھڑکی کے ٹوٹے شیشوں سے اندر جھانکیں تو خالی کلاس روم دکھائی دیتا ہے۔ گرد میں اٹے ڈیسک، دیوار سے لٹکتا ہوا خاک سے اٹا چارٹ اور ایک بلیک بورڈ، جس پر کسی زمانے میں لکھے گئے سبق کے دھندلے نشانات اب بھی موجود ہیں۔

ہوا چلتی ہے تو صحن میں سوکھے پتے سرسراتے ہیں۔

ایک بچہ دوسرے سے پوچھتا ہے:

’’ہمارا اسکول کھلتا کیوں نہیں؟‘‘

جواب ملتا ہے:

’’یہ اسکول آسیب زدہ ہے۔ یہاں بھوت ہیں، پریت کا سایہ ہے۔‘‘

بچے خاموشی سے عمارت کو دیکھتے ہیں۔

یہ سین کسی ڈراؤنی فلم کا منظر ہو سکتا تھا۔

کاش ایسا ہی ہوتا۔

پاکستان میں ایسی بہت سی خاموش عمارتوں کے پیچھے پُراسرار کہانی ہے۔ جنات اور بھوتوں کی نہیں، انسانوں کی تشکیل دی ہوئی ڈراؤنی کہانی۔

ایسے اسکولوں کو ایک عجیب سا نام دیا گیا ہے:

گھوسٹ اسکول۔

یعنی ایسے اسکول جو سرکاری نظام اور کاغذات میں کسی نہ کسی صورت موجود تو ہیں، لیکن عملی طور پر بچوں کو وہ تعلیم فراہم نہیں کر رہے جس کے لیے انہیں قائم کیا گیا تھا۔

گھوسٹ اسکول کی کوئی ایک صورت نہیں۔

کہیں عمارت موجود ہے مگر استاد نہیں۔ عین ممکن ہے کہ وہ خود یا کوئی اور باقاعدگی سے تنخواہ وصول کر رہا ہو۔

کہیں استاد کاغذوں میں تعینات ہے مگر کلاس روم میں دکھائی نہیں دیتا۔

کہیں اسکول کبھی چلتا تھا لیکن اب مدت سے بند پڑا ہے۔

کہیں اساتذہ کی کمی، دور دراز مقام، سیلاب، آبادی کی نقل مکانی، ناقص عمارت یا انتظامی ناکامی نے تعلیم کا سلسلہ منقطع کر دیا ہے۔

اس لیے ہر بند اسکول ایک المیہ ضرور ہے، مگر ضروری نہیں کہ وہ کرپشن کا نتیجہ ہو۔

کسی بچے کے لیے یہ وجوہات شاید زیادہ معنی نہیں رکھتیں۔

اس کے سامنے صرف ایک بڑی حقیقت ہے:

دروازہ بند ہے۔

اور دروازے کے اُس طرف اس کی کتابیں، اس کا استاد اور اس کا مستقبل ہے۔

ہم شہروں میں رہنے والے شاید اسکول کو زندگی کی ایک معمول کی حقیقت سمجھتے ہیں۔

صبح الارم بجتا ہے۔

بچے تیار ہوتے ہیں۔ یونیفارم پہنتے ہیں۔ ناشتہ جلدی جلدی ختم کرتے ہیں۔ کوئی بس پکڑتا ہے، کوئی والدین کے ساتھ گاڑی میں بیٹھتا ہے۔ کبھی ہوم ورک کی شکایت، کبھی امتحان کا خوف اور کبھی صبح اٹھنے سے بیزاری۔

ہم بھول جاتے ہیں کہ اسی ملک میں ایسے بچے بھی ہیں جن کے لیے اسکول جانا ایک معمول نہیں بلکہ نامکمل آرزو اور ناآسودہ خواہش ہے۔

اور اس کی تکمیل ان کے اپنے اختیار میں نہیں۔

پاکستان میں پانچ سے سولہ سال کے بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد، کروڑوں میں، آج بھی اسکول سے باہر ہے۔

یہ مسئلہ خصوصاً دیہی اور پسماندہ علاقوں میں زیادہ سنگین ہے۔ بالخصوص بچیوں کے لیے غربت، فاصلہ، عدم تحفظ، نامناسب سماجی رویے اور اسکولوں کی عدم دستیابی مزید رکاوٹیں پیدا کر دیتی ہیں۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔

اگر کسی گاؤں کا اسکول برسوں بند رہے تو نقصان صرف یہ تو نہیں کہ بچے حروفِ تہجی یا ضرب کے پہاڑے نہیں سیکھ پاتے۔

اصل نقصان کہیں بڑا ہے۔

فرض کیجیے اسی بند دروازے کے سامنے کھڑی بچی کو اسکول مل جاتا۔

وہ پڑھنا سیکھتی۔

پھر لکھنا۔

پھر سوال کرنا۔

وہ شاید پہلی بار کتاب میں اپنے گاؤں سے باہر کی دنیا دیکھتی۔ اسے معلوم ہوتا کہ زمین اس کے گاؤں پر ختم نہیں ہوتی۔ سمندر ہیں، پہاڑ ہیں، دوسرے ملک ہیں، دوسری زبانیں ہیں۔ سائنس ہے، تاریخ ہے، شاعری ہے۔

ممکن ہے وہ آگے چل کر استاد بنتی۔

شاید ڈاکٹر۔

شاید انجینئر۔

شاید اپنے ہی گاؤں میں واپس آ کر بچوں کو پڑھاتی۔

اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ان میں سے کچھ بھی نہ بنتی۔ صرف ایک تعلیم یافتہ شہری، ایک بااختیار عورت اور ایک ایسی ماں بنتی جو اپنے بچوں کے لیے بہتر فیصلے کر سکتی۔

یہ بھی کسی معاشرے کے لیے معمولی کامیابی نہیں۔

مگر اب ایک دوسری صورت تصور کیجیے۔

اسکول کا دروازہ بند ہی رہتا ہے۔

ایک دن بچی انتظار کرتی ہے۔

پھر دوسرے دن۔

شاید چند ہفتے بعد اس کا بستہ گھر کے کسی کونے میں رکھ دیا جاتا ہے۔

زندگی خالی جگہیں زیادہ دیر خالی نہیں رہنے دیتی۔

جہاں اسکول نہیں پہنچتا، وہاں کچھ اور پہنچ جاتا ہے۔

بہت سے بچوں کے ہاتھوں میں کتاب کے بجائے مزدوری کے اوزار آ جاتے ہیں۔

کوئی کھیت میں کام کرنے لگتا ہے۔

کوئی چھوٹی موٹی دکان پر بیٹھ جاتا ہے۔

کسی بچی کے لیے تعلیم کا راستہ بند ہوتے ہی کم عمری کی شادی اور معاشی انحصار کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

یہ ضروری نہیں کہ ان میں سے ہر بچے کی زندگی ناکام ہو۔ انسان حیرت انگیز صلاحیت رکھتا ہے کہ مشکل حالات میں بھی اپنے لیے راستے بنا لے۔

سوال یہ نہیں کہ کوئی بچہ تمام رکاوٹوں کے باوجود کامیاب ہو سکتا ہے یا نہیں۔

سوال یہ ہے کہ ہم نے اس کے راستے میں یہ رکاوٹیں رکھی ہی کیوں ہیں؟

تعلیم محض اچھی ملازمت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں۔

یہ انسان کو اپنی دنیا سمجھنے کی زبان دیتی ہے۔

اپنے حقوق پہچاننے کی صلاحیت دیتی ہے۔

صحیح اور غلط معلومات میں فرق کرنا سکھاتی ہے۔

اپنے فیصلے خود کرنے کا اعتماد دیتی ہے۔

اور شاید سب سے اہم بات:

سوال کرنا سکھاتی ہے۔

اسی لیے پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 25-A پانچ سے سولہ سال کے تمام بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کو ریاست کی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔

یعنی اسکول کسی بچے پر احسان نہیں۔

اس کا حق ہے۔

اب دوبارہ اسی صبح کی طرف لوٹتے ہیں۔

بچے اب بھی بند دروازے کے سامنے کھڑے ہیں۔

ہوا چلتی ہے۔

زنگ آلود دروازہ ہلکی سی آواز کرتا ہے۔

ایک بچہ شاید ایک بار پھر پوچھتا ہے:

’’یہ اسکول بند کیوں ہے؟‘‘

اور اسے پھر بتایا جاتا ہے:

’’یہ بھوت اسکول ہے۔ یہاں آسیب ہے۔‘‘

اس کہانی میں آسیب ضرور ہے۔

لیکن ابھی ہم نے اسے پہچانا نہیں ہے۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *