Skip to content
Home » Blog » قسط 3: بیلاجیو

قسط 3: بیلاجیو

  • by

کومو لیک اور برنینا ایکسپریس
قسط 3: بیلاجیو

شارق علی
ویلیوورسٹی

اب ہم جھیل کے دوسرے کنارے کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے۔

کنارے پر موجود ایک نہایت دلکش قصبے کے مناظر ہماری نظروں کے سامنے پھیلنے لگے۔

جھیل کے کنارے ایک لمبی، سیدھی قطار میں کھڑے ایک ہی قامت اور ایک ہی خاندان جو اولینڈر کہلاتا ہے کے درخت مختلف رنگ برنگے پھولوں سے لدے ہوئے تھے۔ سفید، گلابی، سرخ اور جامنی رنگ کے خوشے ہوا کے نرم جھونکوں کے ساتھ ہلکورے لے رہے تھے۔

درختوں کے ساتھ ساتھ ایک کشادہ پیدل گزرگاہ تھی، جس کے درمیان خوبصورتی سے سجی رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں تھیں۔ بہار کا ایسا عروج میں نے اپنی زندگی میں اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا۔ اس منظر کو کسی مصور کی بنائی ہوئی تصویر کا روپ سمجھ لیجیے۔

جوں جوں ہماری کشتی کنارے کے قریب آتی گئی، بیلاجیو کے قصبے کی دلکشی مزید نمایاں ہوتی چلی گئی۔

آخرکار کشتی آہستہ سے گھاٹ کے ساتھ آ لگی۔ موٹی رسیاں کنارے پر نصب مضبوط ستونوں سے باندھ دی گئیں۔ ایک برج بنا کر مسافروں کے لیے راستہ کھولا گیا اور ہم سب نے قطار بنا کر جھیلِ کومو کے سب سے مشہور قصبوں میں سے ایک، Bellagio کی سرزمین پر قدم رکھا۔

بیلاجیو کو “جھیلِ کومو کا موتی” کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ صرف اس کی خوبصورتی نہیں بلکہ اس کا منفرد محلِ وقوع بھی ہے۔

یہ قصبہ اس مقام پر واقع ہے جہاں جھیلِ کومو کی تینوں شاخیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں، اس لیے یہاں سے جھیل اور گرد و نواح کے پہاڑوں کے بے مثال مناظر ایک ہی مقام سے دیکھے جا سکتے ہیں۔

صدیوں سے بیلاجیو یورپ کے امرا، فنکاروں اور ادیبوں کی پسندیدہ پناہ گاہ رہا ہے۔

اس کی پتھریلی، تنگ گلیاں، رنگ برنگے پھولوں سے سجی بالکونیاں، جھیل کے کنارے قائم کیفے، اور قدیم ولاز آج بھی ایک ایسے اٹلی کی جھلک پیش کرتے ہیں جہاں وقت کی رفتار دھیمی محسوس ہوتی ہے۔

دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں سیاح ہر سال صرف اس چھوٹے سے قصبے کی فضا میں چند گھنٹے گزارنے کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

بیلاجیو کے مرکزی بازار میں داخل ہوئے تو پہلی ہی نظر میں اندازہ ہو گیا کہ یہ جگہ اپنی سادگی میں بھی دلکشی رکھتی ہے۔

یہاں میلان جیسے بڑے فیشن ہاؤسز یا پرتعیش برانڈز کی چکاچوند نہیں تھی بلکہ چھوٹی چھوٹی دکانیں، مقامی دستکاروں کی مصنوعات، یادگاری اشیاء، کیفے اور آئس کریم پارلر سیاحوں کا استقبال کر رہے تھے۔

یہاں مختلف زبانیں سنائی دے رہی تھیں اور دنیا کے مختلف ملکوں سے آئے ہوئے مسافر بے فکری سے گلیوں میں گھوم پھر رہے تھے۔

پھر ہم مرکزی بازار سے نکل کر ان تنگ، پتھروں سے بنی گلیوں میں داخل ہوئے جو پہاڑی کی طرف چڑھتی چلی جاتی تھیں۔

دونوں جانب رنگ برنگے پھولوں سے سجی بالکونیاں، بیلوں سے ڈھکی دیواریں اور قدیم مکانات اس قصبے کو ایک منفرد شخصیت عطا کر رہے تھے۔

تب ہمیں احساس ہوا کہ یہ صرف سیاحوں کی بستی نہیں بلکہ ایک زندہ، سانس لیتا ہوا رہائشی قصبہ بھی ہے، جہاں مقامی لوگ نسلوں سے آباد ہیں اور روزمرہ زندگی قدرتی سکون کے ساتھ رواں رہتی ہے۔

انیسویں صدی سے بیلاجیو یورپ کے ادیبوں، شاعروں، مصوروں اور موسیقاروں کی پسندیدہ پناہ گاہ رہا ہے۔

جھیل کا خاموش پانی، اردگرد کے سرسبز پہاڑ اور پرسکون فضا تخلیقی ذہنوں کو اپنی طرف کھینچتی رہی ہے۔ یہاں گزارا ہوا وقت انسان کو چند لمحوں کے لیے روزمرہ زندگی کی تیز رفتار دنیا سے الگ کر دیتا ہے۔

انیسویں صدی کے عظیم ہنگرین موسیقار اور پیانو نواز Franz Liszt اپنے دور کے غیر معمولی فنکاروں میں شمار ہوتے تھے۔

انہوں نے شاہکار موسیقی تخلیق کی اور جدید پیانو بجانے کے انداز پر گہرا اثر ڈالا۔ انہوں نے بیلاجیو میں کئی ماہ قیام کیا، جہاں جھیلِ کومو کے پُرسکون اور دلکش ماحول نے ان کی تخلیقی زندگی کو نئی تحریک دی۔

کچھ دیر کی سیر کے بعد ہمیں ہلکی سی بھوک محسوس ہونے لگی۔

ایک چھوٹی سی آئس کریم کی دکان سے ہم نے تربوز کے ذائقے والی تازہ جیلاٹو لی۔ اس کا ٹھنڈا، خوشبودار اور قدرتی ذائقہ جون کی دھوپ میں بے حد لطف دے رہا تھا۔

آئس کریم کھاتے ہوئے اور آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ہم ایک چھوٹے سے خوبصورت باغ میں جا پہنچے۔

سبز و شاداب گھاس اور صدیوں پرانے گھنے درخت اپنی ٹھنڈی چھاؤں بچھائے ہمارا انتظار کر رہے تھے۔

ہم درختوں کے نیچے بچھی ایک بینچ پر بیٹھ گئے۔

سامنے نیلگوں جھیلِ کومو اپنی پوری شان سے جلوہ گر تھی۔ سبز پہاڑ اور خاموش پانیوں میں جھلملاتا ان کا عکس۔ منظر ایسا کہ اسے دیر تک دیکھتے رہنے کو دل چاہے۔

ہم نے وہ لنچ نکالا جو صبح ہوٹل میں میری فرمائش پر مونا نے تیار کیا تھا۔

براؤن بریڈ کے حمس اور چکن ونگز والے سینڈوچ، پودینے کی چٹنی کی تہ کے ساتھ۔ ہم دونوں کے لیے یہ پیزا اور پاستا کے مقابلے میں لاکھ درجے بہتر لنچ تھا۔

اس شاہانہ ضیافت میں سب کچھ شامل تھا۔

جھیل کی ٹھنڈی ہوا، درختوں کے سائے، تربوز کی جیلاٹو کی مٹھاس اور اپنے ہاتھوں سے تیار کیے ہوئے دیسی سینڈوچ…

لنچ کر چکے تو گھڑی دیکھی۔

ابھی ہماری فیری کی روانگی میں چالیس منٹ باقی تھے۔ آدھا گھنٹہ جھیل کے کنارے ٹہلنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ساحل کے ساتھ ساتھ اس دلکش منظر میں چہل قدمی، جس کے حسن نے پہلی ہی نظر میں ہمیں اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔

ایک طویل قطار میں لگے درمیانے قامت درخت، جو چیری بلاسم کی طرح مختلف رنگوں کے پھولوں سے لدے اپنے پورے جوبن پر تھے۔

سفید، گلابی، فیروزی اور سرخ پھولوں کے بڑے بڑے خوشے پورے درخت کو ایک گلدستہ بنائے جھول رہے تھے۔

ان لہلہاتے پھولوں سے بھرے درختوں کے ساتھ دو طرفہ پیدل راستہ بنا ہوا تھا، جہاں سیاح آہستہ آہستہ چلتے، تصویریں بناتے اور اس دلکش ماحول سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

دو طرفہ گزرگاہ کے درمیان رنگ برنگے پھولوں سے بھری کیاریاں تھیں۔

جھیل کی نرم ہوا ان پھولوں کی مہک کا ہاتھ تھامے ہوئے تھی۔

ہم تقریباً آدھا گھنٹہ اسی راستے پر ٹہلتے رہے۔

مجھے جانے کیوں مارک ٹوین کا خیال آ گیا۔

امریکی ادیب Mark Twain دنیا بھر میں اپنے ناول The Adventures of Tom Sawyer اور Adventures of Huckleberry Finn کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔

یورپ کے سفر کے دوران وہ جھیلِ کومو بھی آئے اور اس علاقے کی دلکش خوبصورتی سے بے حد متاثر ہوئے۔ اگرچہ ان کا بیلاجیو میں طویل قیام تاریخی طور پر ثابت نہیں، لیکن انہوں نے اس خطے کے حسن کی بھرپور تعریف کی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ جھیل صرف آج ہی نہیں بلکہ ڈیڑھ سو برس پہلے بھی اہلِ ذوق کو اسی طرح مسحور کر دیتی تھی۔

وقتِ روانگی قریب آنے لگا تو ہم اپنے واپسی کے طے شدہ میٹنگ پوائنٹ کی طرف چل دیے۔

ہماری گائیڈ حسبِ معمول اپنا لٹکتا ہوا ٹیڈی بیئر والا نمایاں جھنڈا بلند کیے پہلے سے موجود تھی تاکہ بکھرے ہوئے گروپ کے مسافر آسانی سے اسے پہچان سکیں۔

آہستہ آہستہ پورا گروپ دوبارہ جمع ہو گیا اور ہم اپنی فیری کے انتظار میں قطار بنا کر کھڑے ہو گئے۔

۔۔۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *