Skip to content
Home » Blog » پانچویں قسط, کتب فروشوں کی مسجد

پانچویں قسط, کتب فروشوں کی مسجد

  • by

پانچویں قسط, کتب فروشوں کی مسجد

شارق علی
ویلیوورسٹی

ہوٹل میں کچھ دیر آرام کے بعد ہم نے اس شام کتبیہ مسجد اور اس سے متصل باغات کی سیر کا منصوبہ بنایا۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم مراکش کی معتدل شام کی نکھری ہوئی دھوپ میں ٹیکسی میں سوار، شہر کے قلب میں واقع اپنی منزل کی جانب روانہ تھے۔

یہ مسجد اپنے پُروقار اور بلند مینار کے باعث دور ہی سے دکھائی دینے لگتی ہے۔ اس کی عمارت سے متصل وسیع و عریض باغات ہیں۔ کتبیہ مسجد صرف ایک عبادت گاہ نہیں، بلکہ مراکش کی تاریخ کا ایک زندہ باب ہے۔

بارہویں صدی میں الموحدین کے دور میں تعمیر ہونے والی یہ مسجد مراکش شہر کی پہچان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے مینار کی ساخت نے بعد میں اشبیلیہ کی خیرالدا اور رباط کے حسن ٹاور کو بھی متاثر کیا۔

اس کا نام “کتبیہ” دراصل اُن کتاب فروشوں سے جڑا ہے جو کبھی اس کے آس پاس اپنی دکانیں لگایا کرتے تھے۔ یہ اُس دور کی روایت کی یادگار ہے جب اس شہر میں علم و آگہی عوامی زندگی کا حصہ ہوا کرتی تھی۔

اردگرد لگنے والے کتابوں کے بازار نے اسے ایک فکری مرکز بنا دیا تھا۔ یہاں کے باغات میں مذہب، فلسفہ اور سماجی علوم کے مسودے، اور ان کے گرد گھومتی گفتگو گردش میں رہتی تھی۔ یہ مقام اُس دور کی علامت ہے جب شہر کی شناخت صرف عمارتیں نہیں بلکہ خیالات کی آزادانہ ترسیل ہوا کرتی تھی۔

ہم دونوں مسجد کے گرد پھیلے باغات میں کافی دیر تک ٹہلتے رہے۔ درختوں کے سائے لمبے ہو رہے تھے اور ہوا میں ہلکی سی خنکی کا احساس بھی تھا۔

باغ کی گزرگاہوں کے کناروں پر کتابوں کی دکانیں تو موجود نہیں تھیں، لیکن بیشتر بڑی عمر کے مرد اور عورتیں چھوٹے چھوٹے ٹھیلے لگائے بیٹھے نظر آئے۔ ٹھیلوں پر روزمرہ کی معمولی اشیاء دھری تھیں۔

چلتے چلتے ہماری نظر ایک بوڑھے مراکشی پر پڑی اور ٹھہر گئی۔ دبلا پتلا جسم، دھوپ میں سنولایا ہوا رنگ، سفید داڑھی، خاکی جلابہ جو گھٹنوں کے پاس ذرا سا گھسا ہوا تھا، اور سر پر مڑی تڑی ٹوپی۔ وہ گھاس پر کمبل بچھا کر بیٹھا تھا۔ سامنے روزمرہ ضرورت کی معمولی اشیاء تھیں: ٹوپیاں، ماچسیں، چند سادہ سی کنگھیاں، شاید دو تین سوئی دھاگے کے پیکٹ۔

نہ آواز دے کر متوجہ کرنا، نہ کوئی دکھ بھری کہانی سنانا۔ لب خاموش، مگر پورا وجود ایک داستان سناتا ہوا۔ ہم نے بلا ضرورت کچھ چیزیں خرید لیں۔
اشاروں اور ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں معاملات طے ہوئے۔ عزت و وقار کا پہلو برقرار رہا۔ وہ دکاندار تھا، بھیک مانگنے والا نہیں۔ عزتِ نفس کے مفہوم سے پوری طرح واقف۔ مجھے یہ بات بہت اچھی لگی۔ پاکستان کے کسی ملتے جلتے منظر کا خیال آیا تو میں اندر ہی اندر کچھ شرمندہ سا ہو گیا۔

مراکش میں بزرگوں کی دیکھ بھال زیادہ تر مضبوط خاندانی نظام کے ذریعے ہی ہوتی ہے، جہاں والدین عموماً اولاد کے ساتھ رہتے ہیں۔ سرکاری سطح پر محدود پینشن اور سماجی امداد موجود ہے، مگر اصل سہارا خاندان، مقامی کمیونٹی اور باہمی ذمہ داری کا احساس ہی بنتا ہے۔

اب شام ڈھل چکی تھی۔ ہم کتبیہ مسجد اور اس کے اطراف کی سیر کے بعد مصروف مرکزی شاہراہ عبور کر کے روشنیوں، آوازوں اور زندگی سے بھرپور بازار میں پہنچ گئے۔
یہ علاقہ جامع الفنا کے قریب ہی تھا۔

رات کے کھانے کے لیے کسی اچھے ریسٹورانٹ کی تلاش تھی۔ ایک روشن اور سجی سجائی عمارت کے دروازے پر کھڑے باوقار، رسمی لباس اور روایتی پگڑی سجائے دربان نے یہ بات بھانپ لی۔ اس نے مسکراتے ہوئے انگریزی میں ہمیں اپنے ریستوران میں خوش آمدید کہا۔ انداز پُراعتماد تھا۔ ہم انکار نہ کر سکے۔

اندر کا ماحول بھی بہت پوش، نفیس اور دلکش تھا۔ مغربی سیاہ سوٹ پہنے منیجر نے گرمجوشی سے استقبال کیا اور مرکزی فلور سے گزار کر ایک خصوصی گوشے تک ہماری رہنمائی کی۔

یہ نشست سازندوں کے خاصی قریب تھی۔ سامنے روایتی مراکشی آرکسٹرا اپنے فن سے محظوظ کر رہا تھا۔ ڈھول، دف، قرطاس (Castanets) اور تاروں والا ایک ساز — جس کا نام مجھے معلوم نہیں — سب نے مل کر سماں باندھ رکھا تھا۔

مراکشی آرکسٹرا میں اندلسی، عرب، بربر اور افریقی اثرات مل کر ایک منفرد صوتی شناخت بناتے ہیں، جسے بیان کرنا مشکل لیکن پہچاننا آسان ہے۔

تال اتنی دلکش تھی کہ ہاتھ خود بخود جنبش میں آنے لگے۔ دل کسی انجانی خوشی سے لبریز محسوس ہونے لگا۔
ریستوران کا ڈیکور بھی قابلِ تعریف تھا: موزائیک ٹائلز، نقش و نگار سے سجے ستون، مدھم روشنی اور دھیمی گفتگو کرتے لوگ۔

یوں لگا جیسے یہاں آرٹ اور موسیقی روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ کہانی گو، موسیقار، فنکار اور عوام — سب زندگی کے اسٹیج پر موجود۔

ہم نے روایتی مراکشی کھانے آرڈر کیے۔ مصالحے نہ بہت تیز، نہ پھیکے؛ گوشت نرم، سبزیاں تازہ، اور پیشکش سادہ مگر باوقار۔
مراکشی کھانوں میں دارچینی، زیرہ، زعفران، ادرک اور دھنیا کا متوازن استعمال ہوتا ہے۔ کھانا اکثر سلو کُک کیا جاتا ہے، تاکہ ذائقے آپس میں گھل مل جائیں۔

وہ رات بہت یادگار تھی۔ لائیو میوزک، خوش ذائقہ کھانا اور دلنشیں ماحول۔ ہوٹل پہنچ کر ہم سونے کے انتظام میں مصروف ہو گئے۔ کل کا دن ایک نئے ایڈونچر کا دن تھا۔
۔۔۔۔جاری ہے…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *