Skip to content
Home » Blog » ویانا کا کافی ہاؤس, لٹریری نان فکشن

ویانا کا کافی ہاؤس, لٹریری نان فکشن

  • by

ویانا کا کافی ہاؤس
لٹریری نان فکشن

شارق علی
ویلیوورسٹی

ویانا کی گلیوں میں اس دوپہر گرمی معمول سے زیادہ تھی۔

نوجوان کئی گھنٹوں سے شہر میں بے مقصد گھوم رہا تھا۔ کبھی کسی گرجا گھر کے سائے میں رک جاتا، کبھی کسی چوک میں بیٹھے لوگوں کو دیکھنے لگتا۔ وہ سیاح تھا، مگر اس کی تھکن صرف جسمانی نہیں تھی۔
کچھ سوال بھی اس کے ہم سفر تھے۔
زندگی کبھی اچانک مشکل کیوں ہو جاتی ہے؟

جن چیزوں کے پیچھے ہم برسوں چلتے ہیں، انہیں پا لینے کے بعد بھی خلا کیوں باقی رہ جاتا ہے؟
اور اگر خوشی زندگی کا مقصد ہے تو وہ دیرپا کیوں نہیں؟

ایک گلی میں اسے ایک پرانا کافی ہاؤس دکھائی دیا۔ وہ اندر چلا گیا۔

ویانا کے روایتی کافی ہاؤس محض کافی پینے کی جگہیں نہیں رہے۔ یہ شہر کے غیر رسمی ڈرائنگ روم تھے، جہاں اخبارات، ادب، سیاست، موسیقی اور فلسفہ روزمرہ گفتگو کا حصہ بنتے تھے۔
اندر آبنوسی لکڑی کی میزیں، مخملی نشستیں، دیواروں پر آئینے اور اخباروں کے اسٹینڈ تھے۔ یوں لگا جیسے وہ اکیسویں صدی کی گلی سے نکل کر ایک صدی پیچھے آ گیا ہو۔
اس نے ہاٹ چاکلیٹ منگوائی اور ایک خاموش گوشے میں بیٹھ گیا۔
قریب کی میز سے آواز آئی:

’’انسان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ خوش ہونا چاہتا ہے، مگر اکثر یہ نہیں جانتا کہ وہ خود ہے کون۔‘‘
وہاں دو عمر رسیدہ آدمی بیٹھے تھے۔
دوسرے نے کہا:

’’اور صرف خود کو جان لینا بھی کافی نہیں۔ انسان کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ وہ زندہ کس لیے ہے۔‘‘
پہلا مسکرایا۔
’’تو تم اب بھی سمجھتے ہو کہ معنویت، خوشی سے زیادہ اہم ہے؟‘‘

’’خوشی کا براہِ راست تعاقب اکثر اسے ہم سے دور کر دیتا ہے۔ زندگی میں معنی پیدا ہو تو خوشی کبھی کبھی خود راستہ تلاش کر لیتی ہے۔‘‘
اب یہ گفتگو نوجوان کے لیے پس منظر کا شور نہیں رہی تھی۔

پہلا شخص کہہ رہا تھا:
’’لیکن معنی تلاش کرنے والا اپنے اندر کے اندھیرے سے کب تک بھاگ سکتا ہے؟ ہم سب کے اندر کچھ ایسے حصے ہوتے ہیں جنہیں ہم دوسروں ہی سے نہیں، خود سے بھی چھپاتے ہیں۔‘‘

دوسرے نے جواب دیا:
’’اور کبھی زندگی ہمیں ایسی جگہ لا کھڑا کرتی ہے جہاں سوال یہ نہیں رہتا کہ زندگی مجھے کیا دے گی، بلکہ یہ کہ اس لمحے زندگی مجھ سے کیا چاہتی ہے۔‘‘

نوجوان کی نظریں بے اختیار ان دونوں پر ٹھہر گئیں۔
ایک نے اسے دیکھ کر کہا:
’’آپ شاید کچھ کہنا چاہتے ہیں؟‘‘
’’معاف کیجیے گا، میں آپ کی گفتگو سن رہا تھا۔‘‘
وہ مسکرایا۔
’’اچھی گفتگو پڑوسی میز تک پہنچ جائے تو جرم نہیں۔‘‘
نوجوان نے ہمت کی۔

’’اگر انسان تھکا ہوا ہو، اداس ہو، اور یہ تھکن صرف جسم کی نہ ہو تو؟‘‘
چند لمحے خاموشی رہی۔ پھر ایک نے سامنے کی خالی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
’’آ جائیے۔‘‘
نوجوان اپنا کپ اٹھا کر ان کی میز پر آ بیٹھا۔
’’کس چیز کی تھکن؟‘‘

’’یہی تو معلوم نہیں۔ زندگی بظاہر ٹھیک ہے، پھر بھی لگتا ہے جیسے کوئی چیز اپنی جگہ پر نہیں۔ ہم خوشی چاہتے ہیں، کامیابی چاہتے ہیں، سکون چاہتے ہیں۔ ایک منزل کے بعد دوسری منزل۔ آخر انسان کو چاہیے کیا؟‘‘

پہلے شخص نے کہا:
’’ممکن ہے مسئلہ یہ ہو کہ آپ خوشی کو منزل سمجھ رہے ہیں۔‘‘
دوسرے نے بات بڑھائی:
’’اور شاید آپ خود کو صرف وہ سمجھتے ہیں جو دنیا کو دکھائی دیتا ہے۔ شخصیت کا ایک حصہ پردے کے پیچھے بھی رہتا ہے, خوف، حسد، خواہشیں، ناکامیاں اور وہ خواب جنہیں ہم خود سے بھی تسلیم نہیں کرتے۔ اپنے اس سائے کو پہچانے بغیر انسان مکمل نہیں ہوتا۔‘‘

نوجوان کو سگمنڈ فرائڈ یاد آیا۔ ویانا میں انسانی ذہن کی بات ہو اور فرائڈ کا خیال نہ آئے، یہ کیسے ممکن تھا؟ اسی شہر میں اس نے لاشعور، جبلت اور انسانی رویے کے پوشیدہ محرکات کے بارے میں ایسے سوال اٹھائے تھے جنہوں نے نفسیات کی زبان بدل دی۔

نوجوان نے پوچھا:
’’تو کیا فرائڈ درست تھا؟ کیا ہمارے دکھ کے پیچھے دبی ہوئی خواہشیں اور لاشعوری کشمکش ہوتی ہے؟‘‘

پہلا شخص مسکرایا۔
’’فرائڈ نے ایک دروازہ ضرور کھولا تھا۔ مگر انسانی ذہن ایک کمرہ نہیں، پورا مکان ہے—اور اس مکان کے باہر ایک جنگل بھی۔‘‘

دوسرا ہنسا۔
’’اور انسان محض اپنے ماضی کا قیدی بھی نہیں۔‘‘
پھر اس کا لہجہ سنجیدہ ہوگیا۔

’’کبھی انسان سے گھر، آزادی، مقام، مستقبل—سب کچھ چھین لیا جاتا ہے۔ پھر بھی ایک آزادی باقی رہ سکتی ہے: اپنے حالات کے مقابل اپنا رویہ اختیار کرنے کی آزادی۔‘‘
اس کی آواز میں اب فلسفہ کم اور تجربہ زیادہ تھا۔
’’درد کو ہمیشہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن ناگزیر درد کے مقابل ایک بامعنی رویہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔‘‘
نوجوان نے پوچھا:
’’کیا ہر دکھ بامعنی ہوتا ہے؟‘‘

’’نہیں۔ مصیبت کو خوبصورت بنا کر پیش کرنا بھی غلط ہے۔ بات صرف اس دکھ کی ہے جسے ٹالا نہ جا سکے۔ تب انسان یہ طے کر سکتا ہے کہ وہ اس حقیقت کا سامنا کس طرح کرے گا۔‘‘
ہاٹ چاکلیٹ اب نیم گرم ہو چکی تھی۔
’’اور خوشی؟‘‘ نوجوان نے پوچھا۔

دوسرے شخص نے کہا:
’’اسے پکڑنے کے لیے دوڑو گے تو شاید ہاتھ نہ آئے۔ کسی انسان سے محبت کرو، کسی مقصد کے لیے کام کرو، خود سے بڑی کسی ذمہ داری سے جڑ جاؤ۔ پھر ممکن ہے ایک دن مڑ کر دیکھو تو خوشی خاموشی سے تمہارے ساتھ چل رہی ہو۔‘‘

پہلا شخص نوجوان کی طرف جھکا۔

’’لیکن اس سفر میں اپنے اندر اترنا مت بھولنا۔ معنی باہر مل سکتے ہیں، مگر انہیں قبول کرنے والا انسان اندر سے تقسیم ہو تو سکون مشکل ہو جاتا ہے۔‘‘
نوجوان نے پوچھا:
’’تو اچھی زندگی کیا ہے؟ اپنے آپ کو جاننا یا اپنے سے بڑی کسی معنویت کو تلاش کرنا؟‘‘

دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
’’شاید دونوں،‘‘ پہلے نے کہا۔
دوسرے نے سر ہلایا۔
’’اپنے آپ کو جانو، مگر اپنے آپ ہی میں قید مت ہو جاؤ۔‘‘

نوجوان کافی ہاؤس سے باہر نکلا۔
گرمی کم نہیں ہوئی تھی۔ سڑک وہی تھی، عمارتیں وہی، قدم اب بھی تھکے ہوئے تھے۔
مگر سوال بدل گئے تھے۔
اس نے پلٹ کر کھڑکی سے اندر دیکھا۔ دونوں بوڑھے اب بھی گفتگو میں مصروف تھے۔
دروازے کے قریب کھڑے ویٹر سے اس نے پوچھا:
’’یہ دونوں کون ہیں؟‘‘

ویٹر نے پہلے اسے، پھر شیشے کے پار میز کو دیکھا۔
’’کارل گستاو یونگ۔‘‘

پھر دوسرے کی طرف اشارہ کیا۔
’’اور وہ—وِکٹر فرینکل۔ ویانا کے اپنے فرینکل۔‘‘
نوجوان آگے چل پڑا۔

شاید اسے اپنے سوال کا جواب مل گیا تھا۔

اچھی زندگی وہ نہیں جس میں دکھ نہ ہو۔ اچھی زندگی شاید وہ ہے جس میں انسان خود کو پہچانے، اپنے سے بڑی کسی معنویت سے جڑے، اور ناگزیر دکھ کے سامنے بھی اپنے رویے کے انتخاب کی آزادی محفوظ رکھے۔

کارل گستاو یونگ (1875–1961): سوئس ماہرِ نفسیات اور Analytical Psychology کے بانی۔ انہوں نے لاشعور، شخصیت، Shadow اور Individuation جیسے تصورات کے ذریعے انسانی ذہن کی تفہیم کو وسعت دی۔

وِکٹر فرینکل (1905–1997): آسٹریا کے ماہرِ نفسیات، نیورولوجسٹ اور Logotherapy کے بانی۔ نازی حراستی کیمپوں کے تجربات سے گزرنے کے بعد انہوں نے انسانی زندگی میں معنی، مقصد اور مصیبت کے مقابل رویے کی اہمیت پر غیر معمولی کام کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *