Skip to content
Home » Blog » وقت کی کہانی: سورج کے سائے سے ڈیجیٹل سیکنڈ تک

وقت کی کہانی: سورج کے سائے سے ڈیجیٹل سیکنڈ تک

  • by

وقت کی کہانی: سورج کے سائے سے ڈیجیٹل سیکنڈ تک

شارق علی
ویلیوورسٹی

دراصل یہ کہانی وقت کے احساس کی کہانی ہے ۔ خود وقت کی کہانی تو بہت پرسرار ہے اور وہ کسی اور دن سہی۔

ذرا تصور کیجیے…
ایک قدیم انسان صحرا میں کھڑا ہے۔ وہ اپنے سائے کو دیکھتا ہے۔ صبح کو لمبا، دوپہر میں چھوٹا، شام کو پھر لمبا۔ اسی سائے سے وہ اندازہ لگاتا ہے کہ دن کہاں تک پہنچ چکا ہے۔

یہی انسان کی وقت کو سمجھنے کی پہلی گھڑی تھی۔

وقت کو ماپنے کی یہ جستجو ہزاروں سال پرانی ہے۔ سب سے پہلے سن ڈائل (سایہ گھڑی) آئی، جس میں سورج کی روشنی اور سائے کی حرکت سے وقت معلوم کیا جاتا تھا۔ مگر جیسے ہی بادل آئے یا رات ہوئی، یہ گھڑی خاموش ہو جاتی۔

پھر انسان نے پانی کو وقت کا پیمانہ بنایا۔ واٹر کلاک (آبی گھڑی) میں پانی کے بہاؤ سے وقت کا اندازہ لگایا جاتا تھا۔

اس کے بعد ریت کی گھڑی (Hourglass) آئی، جہاں باریک ریت ایک حصے سے دوسرے حصے میں گرتی رہتی، جیسے وقت ہاتھوں سے پھسل رہا ہو۔

قرونِ وسطیٰ میں ایک بڑی تبدیلی آئی۔ میکینیکل گھڑیاں ایجاد ہوئیں۔ بھاری، شور کرتی ہوئی، مگر پہلی بار وقت کو مسلسل اور نسبتاً درست انداز میں ناپنے والی۔

پھر آیا پنڈولم (Pendulum)، جس نے گھڑی کو مزید درست بنا دیا۔

وقت کے ساتھ گھڑیاں چھوٹی ہوئیں، خوبصورت ہوئیں، اور ہماری کلائی تک پہنچ گئیں۔

پھر بیسویں صدی میں ایک انقلاب آیا۔ کوارٹز گھڑیاں (Quartz Watches)، جہاں ایک ننھا سا کرسٹل انتہائی درست ارتعاش کے ذریعے وقت بتانے لگا۔

اور آج؟

ہماری جیب میں موجود موبائل فون، یا ہماری کلائی پر ڈیجیٹل گھڑی، ایٹمی گھڑیوں (Atomic Clocks) کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر وقت کو سیکنڈ کے ہزارویں حصے تک درستگی سے ناپ رہی ہے۔

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ…
وقت خود نہیں بدلا، صرف اسے سمجھنے کا ہمارا انداز بدلتا گیا۔

شاید اسی لیے، گھڑی ہمیں صرف وقت نہیں بتاتی،
یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم وقت کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔

کیوں نہ اپ وقت کے ساتھ بلکہ خود اپنے ساتھ اچھا سلوک کریں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *