خالی آڈیٹوریم
عمر خالد، طالب علم اور اختلاف کا حق
شارق علی
ویلیوورسٹی
دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں ایک کتاب پر گفتگو ہونے والی تھی۔ کتاب کا نام تھا دی پرزنر آف کانشنس، اور مصنف تھے یونیورسٹی کے سابق طالب علم عمر خالد۔
طلبہ اور اساتذہ جمع ہونا چاہتے تھے، کتاب پر بات کرنا چاہتے تھے۔ ایک آڈیٹوریم بھی مختص ہو چکا تھا۔
لیکن پروگرام سے کچھ ہی پہلے یونیورسٹی انتظامیہ نے اس کی اجازت منسوخ کر دی۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ منتظمین نے تقریب کی مکمل نوعیت اور تفصیلات پہلے واضح نہیں کی تھیں۔
پروگرام کے منتظمین نے اس فیصلے کو قبول نہیں کیا اور بالآخر طلبہ اور اساتذہ نے کیمپس میں آڈیٹوریم کے باہر ہی اس کتاب پر گفتگو کی۔
اصل کہانی اور سوال یہیں سے شروع ہوتا ہے۔
یونیورسٹی آخر ہے کیا؟
کیا یہ صرف ڈگری حاصل کرنے کی جگہ ہے تاکہ نوکری حاصل کی جا سکے، یا یہ وہ مقام بھی ہے جہاں نوجوان سوال کرنا، اختلاف کرنا اور طاقتور حلقوں کو چیلنج کرنا سیکھتے ہیں؟
عمر خالد کبھی اسی جے این یو کا طالب علم اور محقق تھا۔ وہ مختلف سیاسی اور سماجی تحریکوں، خصوصاً سٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ، یعنی سی اے اے کے خلاف احتجاج میں نمایاں کردار ادا کرنے والا
فروری 2020 کے دہلی فسادات کے بعد پولیس نے اس پر ایک بڑی سازش میں شریک ہونے کا الزام لگایا۔ ستمبر 2020 میں اسے گرفتار کیا گیا اور اس کے خلاف دیگر قوانین کے ساتھ سخت انسدادِ دہشت گردی قانون یو اے پی اے کے تحت مقدمہ قائم ہوا۔
ریاست اور استغاثہ کا مؤقف نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا الزام ہے کہ عمر خالد کا کردار محض تقریروں اور پرامن احتجاج تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ منصوبہ بندی، لوگوں کو متحرک کرنے اور ایک وسیع تر سازش میں شریک تھا۔
جنوری 2026 میں بھارتی سپریم کورٹ نے ضمانت کی درخواست پر غور کرتے ہوئے استغاثہ کے پیش کردہ مواد کو اس مرحلے پر اتنا سنجیدہ سمجھا کہ عمر خالد کی ضمانت منظور نہیں کی۔
لیکن یہ سمجھنا بھی اتنا ہی اہم ہے کہ ضمانت کا مسترد ہونا جرم ثابت ہونا نہیں ہے۔
جرم یا بے گناہی کا حتمی فیصلہ مکمل عدالتی کارروائی کے بعد ہوتا ہے۔
اور یہیں ایک بہت بڑا انسانی حقوق کا سوال پیدا ہوتا ہے۔
عمر خالد ستمبر 2020 سے جیل میں ہے۔ پانچ سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، مگر اس مقدمے میں اس کے جرم کا حتمی عدالتی فیصلہ اب تک نہیں ہوا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسی بات پر شدید اعتراض کیا ہے۔ اس کے مطابق برسوں کی پری ٹرائل ڈیٹینشن، ضمانت کی سخت شرائط اور مقدمے کی طوالت، آزادی، فیئر ٹرائل اور پرامن اختلافِ رائے جیسے بنیادی انسانی حقوق کے لیے تشویش ناک ہیں۔
ایمنسٹی یہ سوال بھی اٹھاتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف بنائے گئے قوانین کہیں اختلافی آوازوں کے لیے ایسا ماحول تو پیدا نہیں کر رہے جس میں الزام ہی عملی طور پر سزا بن جائے۔
ویلیوورسٹی نہ عمر خالد کو ہیرو بنانے کی ضرورت محسوس کرتی ہے، نہ مجرم۔
اگر اس نے واقعی کسی تشدد یا مجرمانہ سازش میں حصہ لیا ہے تو ریاست کو ثبوت پیش کرنے چاہییں، مقدمہ مکمل ہونا چاہیے اور جرم ثابت ہونے پر قانون کے مطابق سزا ہونی چاہیے۔
لیکن اگر ایک انسان برسوں جیل میں رہے اور اس کے خلاف مقدمہ ہی اپنے منطقی انجام تک نہ پہنچے تو سوال صرف اس ایک قیدی کا نہیں رہتا تو سوال انسانی حقوق اور نظامِ انصاف کا بن جاتا ہے۔
کیونکہ انصاف کا مطلب صرف سزا دینا نہیں۔
انصاف کا مطلب یہ بھی ہے کہ سزا، فیصلے سے پہلے شروع نہ ہو جائے۔
اور پھر ہماری بات دوبارہ جے این یو کے اسی آڈیٹوریم تک پہنچتی ہے۔
طلبہ کا کام ہر بات مان لینا نہیں۔ یونیورسٹیوں کی عظیم روایت ہی سوال، تحقیق، مکالمہ اور اختلاف سے پیدا ہوئی ہے۔
البتہ آزادیِ اظہار کا مطلب تشدد، نفرت یا دوسروں کے حقوق پامال کرنے کی آزادی بھی نہیں۔
کسی جمہوری معاشرے کا مشکل امتحان یہی ہے کہ وہ اس باریک لکیر کو قانون، دلیل اور انصاف کے ذریعے قائم رکھے۔
عمر خالد کی کہانی کا فیصلہ عدالت کرے گی۔
مگر اس کہانی سے پیدا ہونے والے سوالات ہم سب کے ہیں
کیا ہم اس شخص کے حقِ انصاف کا بھی دفاع کر سکتے ہیں جس کے خیالات سے ہم متفق نہیں؟
کیا ایک طالب علم کو ریاست، معاشرے اور اپنے عہد سے مشکل سوال پوچھنے کا حق حاصل ہے؟
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ
اگر اختلاف کی آزادی صرف ان آوازوں کے لیے ہو جو ہمیں پسند ہیں، تو کیا اسے واقعی آزادی کہا جا سکتا ہے؟
