Skip to content
Home » Blog » تعمیری سیاست: جنوبی ایشیا کے نوجوانوں کی نئی سمت

تعمیری سیاست: جنوبی ایشیا کے نوجوانوں کی نئی سمت

  • by

تعمیری سیاست: جنوبی ایشیا کے نوجوانوں کی نئی سمت

شارق علی
ویلیوورسٹی

جنوبی ایشیا کی سیاست ایک ایسے مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں نوجوان نسل محض تماشائی بن کر رہنے پر آمادہ نہیں۔ وہ اس حقیقت کا ادراک کر چکی ہے کہ پائیدار ترقی کا راستہ شخصیات کی پرستش، جذباتی نعروں اور وقتی سیاسی کشمکش سے نہیں، بلکہ ان حقیقی مسائل سے ہو کر گزرتا ہے جو عام شہری کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ معیاری تعلیم، مؤثر صحت عامہ، باوقار روزگار، معاشی انصاف، ماحولیاتی تحفظ اور سماجی مساوات ہی وہ ستون ہیں جن پر ایک مضبوط، خوشحال اور باوقار معاشرہ استوار کیا جا سکتا ہے۔

اسی تناظر میں حالیہ دنوں جنتر منتر میں ہونے والا طلبہ احتجاج ایک قابلِ غور مثال کے طور پر سامنے آیا۔ اس تحریک کی اہمیت کسی مخصوص سیاسی جماعت یا شخصیت کی حمایت یا مخالفت میں نہیں، بلکہ اس حقیقت میں مضمر ہے کہ اس نے قومی مکالمے کا رخ حقیقی عوامی مسائل کی طرف موڑنے کی کوشش کی۔ یہ ایک امید افزا اشارہ ہے کہ نوجوان سیاست کو محض اقتدار کے حصول کی کشمکش کے بجائے عوامی خدمت، جوابدہی اور معاشرتی اصلاح کا مؤثر ذریعہ بنانا چاہتے ہیں۔

اس تحریک کا ایک اور قابلِ تحسین پہلو اس کا پُرامن اور منظم کردار تھا۔ تاریخ بارہا یہ سبق دیتی ہے کہ دیرپا سماجی تبدیلی جبر اور تشدد سے نہیں، بلکہ صبر، برداشت، مکالمے اور اخلاقی قوت سے جنم لیتی ہے۔ اختلافِ رائے کو تشدد کے بجائے دلیل اور احترام کے ساتھ پیش کرنا کسی بھی مہذب جمہوری معاشرے کی بنیادی شناخت ہے۔ نوجوانوں میں نظم و ضبط، ذمہ داری اور پُرامن جدوجہد کی یہ تربیت دراصل مستقبل کی جمہوری ثقافت میں سرمایہ کاری ہے۔

شاید اس سے بھی زیادہ اہم پہلو نوجوان قیادت کی کردار سازی ہے۔ قوموں کی اصل طاقت ان کے وسائل یا ادارے ہی نہیں ہوتے، بلکہ وہ باکردار انسان ہوتے ہیں جو ان اداروں کو دیانت، ذمہ داری، تحمل اور خدمتِ خلق کے جذبے سے مضبوط بناتے ہیں۔ اگر سیاست نوجوانوں میں یہی اوصاف پروان چڑھائے تو وہ صرف کامیاب سیاسی رہنما ہی نہیں، بلکہ باشعور، ذمہ دار اور فعال شہری بھی بن سکتے ہیں۔

جنوبی ایشیا کو آج ایسی ہی تعمیری سیاست کی ضرورت ہے جو تقسیم کے بجائے اشتراک، نفرت کے بجائے مکالمہ، اور وقتی سیاسی فائدے کے بجائے طویل المدت قومی مفاد کو ترجیح دے۔

اگر نوجوان اپنی توانائی کو حقیقی عوامی مسائل کے حل، اخلاقی قیادت کے فروغ اور عدم تشدد پر مبنی جمہوری جدوجہد کے لیے وقف کریں تو وہ نہ صرف اپنی قوموں کے مستقبل کو نئی سمت دے سکتے ہیں بلکہ پورے خطے میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کی بنیاد بھی مضبوط کر سکتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک زیادہ منصفانہ، باشعور اور امید افزا جنوبی ایشیا کی تعمیر کی طرف لے جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *