بوڑھا موچی, قسط 11
مراکش کے رنگ
شارق علی
ویلیوورسٹی
صبح بیدار ہوئے اور ہوٹل کے پیکج میں شامل پرتکلف ناشتے کے لیے ڈائننگ ہال پہنچے۔ ایسی میز پسند کی جس سے سامنے نظر آتے سوئمنگ پول کے نیلے پانیوں پر نرم دھوپ کا رقص دیکھا جا سکے۔ ناشتہ واقعی پرتکلف تھا۔
آج ہمارا پہلے سے بُک کیا ہوا صحرائی ٹور شام چار بجے شروع ہونا تھا، گویا تقریباً پورا دن ہماری مرضی کے مطابق گزارنے کے لیے میسر تھا۔
ناشتہ کرتے ہوئے مونا نے تجویز دی کہ بچوں کے لیے کچھ تحفے خریدنے کا یہ اچھا موقع ہے۔ اسی بہانے کسی مقامی شاپنگ مال کی سیر بھی ہو جائے گی۔
ریسپشن پر معلوم کیا تو پتا چلا کہ مراکش کا جدید ترین شاپنگ مال، مینارا مال، یہاں سے صرف دس پندرہ منٹ کی پیدل مسافت پر واقع ہے۔
پیدل چلتے ہوئے وہاں پہنچے تو اس کی بیرونی عمارت بالکل ویسی ہی تھی جیسی دنیا کے کسی بھی بڑے شہر کے جدید شاپنگ پلازے کی ہوتی ہے۔
آراستہ مرکزی دروازہ، شیشے کی دیواریں اور کھڑکیاں، روشن داخلی راستے، مختلف اور مشہور زمانہ کیفے، برانڈڈ دکانیں، خریداروں کی بھیڑ، اور مختلف زبانیں بولتے سیاح۔
ایک لمحے کو یوں محسوس ہوا جیسے قدیم مراکش کہیں پس منظر میں دھندلا گیا ہو اور یورپ کے کسی جدید شہر کا منظر سامنے آ کھڑا ہوا ہو۔
بچوں کے لیے تحفے باہمی پسند سے خریدے گئے۔ پھر مال کے اندر ایک بڑا سا کرسمس ٹری سجا دکھائی دیا۔ طے ہوا کہ اپنی اپنی پسند کی آزادانہ ایک گھنٹے کی مٹرگشتی کے بعد یہی ہمارا “میٹنگ پوائنٹ” ہوگا۔
مونا دکانوں کی سمت چلی گئیں اور میں مرکزی دروازے سے ہوتا ہوا تازہ ہوا اور اصل مراکشی ثقافت کی تلاش میں باہر آ گیا۔
مجھے عام سی گلیوں اور بازاروں میں گھومتے پھرتے عام لوگ ہمیشہ دلچسپ لگتے ہیں۔ شاپنگ مال کے سامنے کی کشادہ سڑک کے اُس پار ایک چھوٹے سے بازار کی چند تنگ گلیاں نظر آئیں۔
میں نے سڑک عبور کی اور بلا مقصد چہل قدمی کرنے لگا۔
کچھ دیر کی مشاہداتی آوارہ گردی کے بعد ایک بس اسٹاپ نظر آیا۔ میں انتظارگاہ میں رکھے لکڑی کے بینچ پر جا بیٹھا، گویا میں بھی کوئی مسافر ہوں۔ مجھے کہیں نہیں جانا تھا، مگر اس بہانے عام مراکشی زندگی کو سانس لیتے دیکھنا تھا۔
ان لوگوں کا مشاہدہ کرنا تھا جو سیاحتی بروشروں میں چھپی تصویروں کا حصہ نہیں ہوتے، مگر حقیقتِ حال انہی کے دم سے سانس لیتی ہے۔
مراکش تقریباً چار کروڑ آبادی کا ملک ہے۔ افریقہ میں ہونے کے باوجود اس کی فضا میں عرب، بربر، افریقی اور یورپی تہذیبوں کا عجیب امتزاج محسوس ہوتا ہے۔ معیشت بڑی حد تک سیاحت، زراعت، فاسفیٹ اور چھوٹے کاروباروں پر کھڑی ہے۔ بڑے شہروں میں ترقی اور جدید انفراسٹرکچر ضرور دکھائی دیتا ہے، مگر عام آدمی کی زندگی اب بھی خاصی محنت طلب ہے۔
بس اسٹاپ پر کچھ نوجوان جلدی میں تھے، کچھ خواتین خریداری کے تھیلے اٹھائے ہوئے تھیں، اور کچھ بوڑھے لوگ خاموشی سے اپنی جگہ کھڑے انتظار کر رہے تھے۔ یورپ کے برعکس یہاں بہت سے بزرگ ریٹائرمنٹ کے بعد مکمل آرام کی زندگی نہیں گزار پاتے۔ پنشن محدود لوگوں کو ملتی ہے، سوشل ویلفیئر کا نظام بھی اتنا مضبوط نہیں، اور اکثر افراد کو بڑھاپے میں بھی کچھ نہ کچھ کام جاری رکھنا پڑتا ہے۔
کچھ دیر مجھے بینچ پر یوں ہی بیٹھے دیکھ کر ایک بوڑھا آدمی میرے قریب آیا۔
اس کے ہاتھ میں لکڑی کا ایک پرانا سا چوکور ڈبہ تھا۔ چہرہ اور ہاتھ نہ جانے زندگی کے کتنے تجربات سمیٹے جھریوں سے بھرے ہوئے تھے۔ لباس سادہ مگر صاف تھا، اور آنکھوں میں ذہانت اور سنجیدگی جھلک رہی تھی۔
وہ انگریزی نہیں جانتا تھا اور میں مراکشی عربی نہیں جانتا تھا، مگر اس کے محنت کش ہاتھوں کے اشارے سمجھنا مشکل نہ تھا۔
اس نے اشاروں سے بتایا کہ وہ میرے جوتے پالش کرنا چاہتا ہے۔
میں کچھ ہچکچایا۔ میرے پاؤں میں اسکیچرز کے مہنگے جوگرز تھے، لیدر کے جوتے نہیں۔ ڈر تھا کہ کہیں کوئی نامناسب پالش انہیں خراب نہ کر دے۔ میں نے جیب سے کچھ رقم نکال کر بغیر کام کے اسے دینا چاہی، مگر اس نے مسکراتے ہوئے انکار کر دیا۔
یہ انکار میرے لیے غیر متوقع تھا۔
اس کی آنکھوں میں بسی خودداری جیسے کہہ رہی تھی:
“مجھے امداد درکار نہیں، میں کام کرتا ہوں۔”
میں فوراً مان گیا۔
اس نے اپنے ڈبے سے ایک چھوٹا سا لکڑی کا پیڈسٹل نکالا، میرے پاؤں اس پر جمائے اور نہایت توجہ سے کام شروع کر دیا۔ اس کے پاس ہر قسم کی پالش موجود تھی؛ مختلف رنگوں والی بھی اور ایک شفاف ویکس بھی، جو میرے جوگرز کے لیے موزوں تھی۔
وہ جس احتیاط اور مہارت سے میرے جوتے صاف اور چمکا رہا تھا، اس سے محسوس ہوتا تھا کہ یہ اس کے لیے صرف روزگار نہیں بلکہ دوسروں سے جڑنے، کارآمد بننے اور اپنی شناخت برقرار رکھنے کا ذریعہ بھی ہے۔
چند منٹ بعد میرے جوتے بالکل نئے لگنے لگے تھے اور ہم دونوں کسی حد تک دوست بن چکے تھے۔
میں اسے دیکھتا اور سوچتا رہا کہ ممکن ہے وہ اکیلا ہو، یا اس کی بھی کوئی فیملی ہو۔ شاید بچے اب بھی اس کے ساتھ ہوں۔ ممکن ہے وہ کبھی کسی اور پیشے سے وابستہ رہا ہو۔ نجانے زندگی نے اس کے ساتھ کیسا سلوک کیا ہو۔
ایک بس اسٹاپ کے کنارے ہم دونوں دوستوں نے کچھ وقت ساتھ گزارا۔
میں تو چند روز بعد یہاں سے رخصت ہو جاؤں گا، مگر ممکن ہے وہ روز صبح اپنا لکڑی کا ڈبہ لے کر یہاں آتا ہو، شام گئے تک کتنے ہی لوگوں سے ملتا ہو، کتنی ہی مختصر دوستیاں بناتا ہو، اور پھر کہیں جا کر اس کے گھر کا چولہا جلتا ہو۔
اس کی صحت بظاہر ٹھیک لگتی تھی، لیکن ممکن ہے وہ کسی بیماری کا شکار ہو۔
مراکش اور پاکستان جیسے ممالک میں صحت کا نظام بھی دو مختلف دنیاؤں میں تقسیم دکھائی دیتا ہے۔ بڑے شہروں میں پرائیویٹ ہسپتال اور جدید کلینکس موجود ہیں، مگر عام آدمی کے لیے سرکاری نظام پر انحصار اب بھی آسان نہیں۔ دیہی علاقوں اور غریب طبقوں میں علاج، بڑھاپا اور روزگار ایک دوسرے سے الگ مسائل نہیں بلکہ ایک ہی کہانی کے مختلف باب ہیں۔
وہ بوڑھا موچی شاید اسی سماجی کتاب کا ایک باب تھا۔
جب اس نے کام مکمل کر لیا تو آخری بار کپڑا پھیر کر میرے جوتوں کو مزید چمکایا، پھر فخر بھری نظروں سے میری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں خاموش اطمینان تھا۔
مجھے یوں محسوس ہوا جیسے محنت، وقار اور انسانی خودداری سے مجھے ذاتی ملاقات کا شرف حاصل ہو گیا ہو۔۔۔۔۔۔ جاری ہے
