Skip to content
Home » Blog » بونسائی: جاپانی درخت اور فلسفہ

بونسائی: جاپانی درخت اور فلسفہ

  • by

بونسائی: جاپانی درخت اور فلسفہ

شارق علی
ویلیوورسٹی

اسی بہار کے موسم کا ذکر ہے۔ میں اور مونا لندن کے مشہور Holland Park دیکھنے کے ارادے سے نکلے۔ ابھی ہم پارک کے راستے ہی میں تھے کہ ہمیں Kyoto Garden کا سائن نظر آیا۔ ہم نے سوچا، کیوں نہ کچھ دیر کے لیے یہاں رُک جائیں۔ اندر داخل ہوئے تو ایک خاموش اور پُرسکون دنیا ہمارے سامنے تھی۔ پانی کی ہلکی آواز، سرسبز و شاداب درخت، اور باغ کی ایک خاص ترتیب۔ اسی دوران ہماری نظر چند ننھے منھے مگر مکمل درختوں پر پڑی۔

قریب جا کر دیکھا تو وہ بونسائی تھے۔ چھوٹے گملوں میں سجے ہوئے، مگر اپنے اندر ایک پورے جنگل کا سماں سموئے ہوئے۔

بونسائی جاپانی فن ہے، جس میں بڑے درختوں کو اس مہارت سے چھوٹا رکھا جاتا ہے کہ وہ اپنی فطری شکل اور خوبصورتی برقرار رکھیں۔ یہ محض باغبانی نہیں، بلکہ صبر، توازن اور باریک بینی کا ایک زندہ اظہار محسوس ہوتا ہے۔

سائنس کے لحاظ سے، جب پودے کی جڑوں کو محدود جگہ میں رکھا جائے اور باقاعدگی سے تراش خراش کی جائے، تو اس کی بڑھوتری قابو میں آ جاتی ہے۔ پودا اپنی توانائی کو پھیلنے کے بجائے ایک متوازن اور محدود شکل میں استعمال کرنے لگتا ہے، مگر اس کے حیاتیاتی عمل، جیسے فوٹو سنتھیسز، مکمل طور پر جاری و ساری رہتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بونسائی درخت اپنی عمر میں عام درختوں جتنا ہی طویل عرصہ گزار سکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو سینکڑوں سال تک زندہ رہتے ہیں۔

کیوٹو گارڈن میں کھڑے ہو کر یوں محسوس ہوا کہ بونسائی صرف ایک درخت نہیں، بلکہ ایک سبق ہے، کہ زندگی میں بڑھنا ضروری ہے، مگر بے قابو پھیلنا مناسب نہیں۔ محدود جگہ میں بھی خوبصورتی، وقار اور توازن کے ساتھ جینا ایک فن ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *