Skip to content
Home » Blog » بربر گاؤں, ساتویں قسط

بربر گاؤں, ساتویں قسط

  • by

بربر گاؤں, ساتویں قسط

مراکش کے رنگ

شارق علی
ویلیوورسٹی

اونچائی پر ایک موڑ کاٹتے ہوئے ہائی ایس نے پکی سڑک چھوڑ کر ایک مٹیالی پگڈنڈی پر سفر شروع کر دیا۔
کچے اور پتھریلے راستوں سے گزرتے ہوئے ہم اٹلس پہاڑوں کے درمیان واقع ایک چھوٹے سے بربر گاؤں میں داخل ہوئے۔

مٹی کے بنے گھر یوں دکھائی دے رہے تھے جیسے وہ مٹیالے پہاڑ ہی کی توسیع ہوں۔ گاڑی ایک میدان میں پارک کر دی گئی۔ چند دوسرے سیاحوں کی گاڑیاں بھی وہاں موجود تھیں۔ پھر ہم اس بربر گاؤں میں داخل ہوئے۔ چند گھروں پر مشتمل اس بستی کے گھروں کی دیواروں کا رنگ بھی زمین جیسا مٹیالا تھا۔ چھتیں لکڑی کے مضبوط شہتیروں پر قائم تھیں۔ گلی میں موجود بربر بچوں نے ہمیں دلچسپی بھری شرماہٹ سے دیکھا اور ادھر ادھر ہو گئے۔

ہمارا گائیڈ ہمیں ایک مقامی گھر کے اندر لے گیا۔ یقیناً یہ پہلے سے کیا گیا انتظام تھا۔ اس گھر میں سیاحوں کے استقبال اور خوش آمدید کا ماحول موجود تھا۔
ہم لکڑی کے چھوٹے قد کے دروازے سے جھک کر داخل ہوئے، گویا روایتی بربر عاجزی کی مشق کر رہے ہوں۔ گھر کی مٹی کی دیواریں خاصی موٹی تھیں تاکہ گرمی اور سردی کا اثر اندر نہ آ سکے۔
اندر ٹھنڈک کا احساس نمایاں تھا۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ مٹی کی موٹی دیواریں موسم کی شدت کو روک لیتی ہیں۔ فرش پر رنگین مگر سادہ قالین بچھے تھے۔ بیٹھنے کی جگہیں زمین کے بہت قریب بنائی گئی تھیں۔

گھر کے صحن میں استقبالیہ موسیقی کا انتظام تھا۔ کئی مقامی عورتیں، جن میں بیشتر ادھیڑ عمر بلکہ بزرگ تھیں، رنگین لباس اور روایتی زیورات پہنے دف اور دیگر ساز بجا کر اور گا کر سیاحوں کا استقبال کر رہی تھیں۔ مرکز میں دو تین خواتین ارگان کے بیج چکی پر پیس کر ان کا تیل نکالنے کا مظاہرہ کر رہی تھیں، جبکہ ایک خاتون روایتی روٹی کا آٹا گوندنے کا طریقہ دکھا رہی تھیں۔

پھر ارگان کے تیل کے فوائد بیان کر کے ہمیں اسے خریدنے کی ترغیب بھی دی گئی۔

وہاں موجود بربر خواتین کا رنگین لباس اور زیورات، گانے بجانے کا مخصوص انداز، ارگان کے بیج کوٹنے کی دھمک، اور اردگرد کھڑے سیاحوں کی دلچسپی—یہ سب مل کر منظر کو جاندار بنا رہے تھے۔
اس ویلکم ایونٹ کے بعد، جو چند منٹ جاری رہا، بعض سیاحوں نے اپنے موبائل فون پر اس کی فلم بندی کی۔

پھر ہمیں گھر کے دوسرے کمرے میں لے جایا گیا جہاں فرشی نشست کا انتظام تھا۔ وہاں ہمیں پودینے کی خوشبودار چائے پیش کی گئی۔ تازہ بنی بربر روٹی کے ٹکڑے، شہد، مونگ پھلی کی میٹھی چٹنی، زیتون کے تیل میں ڈوبے زیتون اور مقامی مربے چھوٹے چھوٹے مٹی کے برتنوں میں رکھ کر سادگی سے پیش کیے گئے۔ یہ ایک پروقار مہمان نوازی اور خلوص تھا جو شاید اونچے پہاڑوں میں بسنے والے لوگوں کے مزاج کا حصہ ہوتا ہے۔

اس گاؤں میں وقت کی رفتار سست محسوس ہوئی۔ مٹی کے گھر، لکڑی کی چھتیں، پیروں تلے سادہ قالین، چائے کی بھاپ، دف کی تھاپ اور رنگین لباسوں کی چمک—جانے کیوں مجھے ابن بطوطہ یاد آنے لگا۔

وہ مراکش کے شہر طنجة میں 1304ء میں پیدا ہوا۔ وہ ایک قاضی خاندان سے تعلق رکھتا تھا، یعنی اس کا آبائی پیشہ منصفی تھا، مگر اس کا دل عدالت سے زیادہ سفر میں لگتا تھا۔ اکیس برس کی عمر میں حج کے لیے نکلا اور پھر تقریباً تیس برس تک دنیا کی خاک چھانتا رہا۔ شمالی افریقہ، مصر، شام، ہندوستان، مالدیپ، چین اور اندلس تک اس نے سفر کیے۔ اس کی کتاب ’’رحلہ‘‘ آج بھی چودھویں صدی کی دنیا کا جیتا جاگتا نقشہ پیش کرتی ہے۔
۔۔۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *