Skip to content
Home » Blog » بارہویں اور آخری قسط, جب ذہانت نے خود کو سمجھنا شروع کیا

بارہویں اور آخری قسط, جب ذہانت نے خود کو سمجھنا شروع کیا

ذہانت کا ارتقاء
بارہویں اور آخری قسط, جب ذہانت نے خود کو سمجھنا شروع کیا

شارق علی
ویلیوورسٹی

گزشتہ قسط میں ہم نے دیکھا تھا کہ گروہوں میں رہنے والے جانداروں کے لیے صرف ماحول کو سمجھنا کافی نہیں رہا تھا۔ انہیں دوسرے جانداروں کے ارادوں، رویّوں اور تعلقات کو بھی سمجھنا پڑا۔

یہ سماجی ذہانت کی طرف ایک اہم قدم تھا۔

لیکن ارتقاء کا سفر یہاں ختم نہیں ہوا۔

لاکھوں برس کے دوران انسانی نسل میں ایک ایسا دماغ وجود میں آیا جو نہ صرف اپنے ماحول اور دوسرے انسانوں کو سمجھ سکتا تھا بلکہ اپنے خیالات، تجربات اور منصوبے دوسروں تک منتقل بھی کر سکتا تھا۔
زبان نے اس صلاحیت کو غیر معمولی طاقت دے دی۔

اب ایک انسان کا تجربہ صرف اسی کی زندگی تک محدود نہیں رہا۔ وہ دوسروں کو بتا سکتا تھا کہ شکار کہاں ملتا ہے، کون سا پودا زہریلا ہے، کس راستے میں خطرہ ہے اور کون سا طریقہ زیادہ کامیاب ثابت ہوا۔
یوں علم ایک دماغ سے دوسرے دماغ تک منتقل ہونے لگا۔
اور پھر ایک نسل سے دوسری نسل تک۔

یہ انسانی ذہانت کی تاریخ میں ایک بہت بڑا موڑ تھا۔

دوسرے جاندار بھی سیکھتے ہیں۔ بعض اپنے ساتھیوں کو دیکھ کر نئی مہارتیں حاصل کرتے ہیں۔ لیکن انسانوں نے اس صلاحیت کو کہیں زیادہ آگے بڑھایا۔ زبان، کہانی، علامت، تصویر اور بالآخر تحریر نے معلومات کو انسانی یادداشت کی حدود سے آزاد کر دیا۔

اب کسی دریافت کو ہر نسل میں دوبارہ دریافت کرنا ضروری نہیں تھا۔
ایک نسل جہاں تک پہنچتی، اگلی نسل وہاں سے آگے بڑھ سکتی تھی۔
اسی عمل کو cumulative culture یعنی جمع ہوتی ہوئی ثقافت اور علم کہا جا سکتا ہے۔

پتھر کے ابتدائی اوزاروں سے زراعت تک، شہروں سے کتابوں تک، اور ریاضی سے جدید سائنس تک انسانی ترقی اسی اجتماعی ذہانت کا نتیجہ ہے۔
یہاں ذہانت کی نوعیت ایک بار پھر بدل گئی۔

اب ذہانت صرف ایک دماغ کے اندر موجود صلاحیت نہیں رہی تھی۔
وہ انسانوں کے درمیان پھیل گئی تھی۔

ایک فرد بہت کم جانتا تھا، لیکن پورا معاشرہ بے شمار چیزیں جان سکتا تھا۔ کوئی کھیتی باڑی جانتا تھا، کوئی اوزار بناتا تھا، کوئی ستاروں کا مشاہدہ کرتا تھا اور کوئی بیماریوں کا علاج سیکھتا تھا۔
پھر تحریر آئی، کتب خانے بنے، درس گاہیں قائم ہوئیں، چھاپہ خانہ آیا اور بالآخر کمپیوٹر اور انٹرنیٹ وجود میں آئے۔

ہر نئی ایجاد نے انسانی یادداشت اور علم کی حدود کو مزید وسیع کر دیا۔

آج ہم ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں انسان نے مصنوعی ذہانت بھی تخلیق کر لی ہے۔ ایسی مشینیں جو معلومات کا تجزیہ کر سکتی ہیں، زبان استعمال کر سکتی ہیں، نمونے پہچان سکتی ہیں اور بعض پیچیدہ مسائل حل کرنے میں ہماری مدد کر سکتی ہیں۔

اس پوری کہانی کا سب سے حیرت انگیز پہلو مصنوعی ذہانت نہیں۔

بلکہ یہ ہے کہ اربوں سال پہلے شروع ہونے والی زندگی نے بالآخر ایسا دماغ پیدا کیا جو خود اپنی ذہانت کے بارے میں سوال پوچھ سکتا ہے۔

ہم جاننا چاہتے ہیں کہ ہم کیسے سوچتے ہیں۔

ہم کیوں سیکھتے ہیں۔

شعور کیا ہے۔

اور ذہانت کی آخری حد کہاں تک ہو سکتی ہے۔

اس سفر کا آغاز کسی فلسفی، سائنس دان یا انسانی دماغ سے نہیں ہوا تھا۔

یہ اس وقت شروع ہوا تھا جب ابتدائی زندگی نے پہلی بار اپنے ماحول کے کسی اشارے کا جواب دیا۔

وہاں سے اعصابی نظام بنا، حواس پیدا ہوئے، دماغ نے دنیا کے نقشے بنائے، یادداشت نے ماضی کو محفوظ کیا، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت ابھری، سماجی ذہانت پیدا ہوئی اور بالآخر زبان اور اجتماعی علم نے انسانی تہذیب کو جنم دیا۔

یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔

شاید ذہانت کی سب سے بڑی خصوصیت یہی ہے کہ وہ مسلسل اپنی حدود سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہے۔

اور اب پہلی بار، ذہانت خود اپنے ارتقاء کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *