Skip to content
Home » Blog » اخلاقیات کا بیج

اخلاقیات کا بیج

  • by

اخلاقیات کا بیج

شارق علی
ویلیوورسٹی

ہم عموماً اخلاقیات کو صرف انسان کی میراث سمجھتے ہیں، لیکن جدید حیاتیات ایک دلچسپ سوال اٹھاتی ہے: کیا اخلاقیات کی ابتدائی بنیادیں انسان سے بہت پہلے جانوروں کی دنیا میں رکھ دی گئی تھیں؟

شہد کی مکھیوں اور چیونٹیوں کی کالونیوں میں ہزاروں کارکن اپنی پوری زندگی اجتماعی مفاد کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ وہ خود افزائشِ نسل نہیں کرتے بلکہ پوری کالونی کی بقا کے لیے مسلسل کام کرتے ہیں۔ یہ شعوری اخلاقی فیصلہ نہیں بلکہ ارتقاء کا نتیجہ ہے، مگر اس میں ایثار کی ایک ابتدائی جھلک ضرور دکھائی دیتی ہے۔

ہمارے قریبی رشتہ دار چمپینزی اور بونوبو اس سے بھی آگے بڑھتے ہیں۔ وہ زخمی ساتھی کو تسلی دیتے ہیں، ایک دوسرے کے دکھ میں شریک ہوتے ہیں، خوراک بانٹتے ہیں اور جھگڑوں کے بعد تعلقات بحال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہاتھی یتیم بچوں کی پرورش میں حصہ لیتے ہیں، جبکہ ڈولفن زخمی ساتھی کو سطحِ آب تک سہارا دے کر سانس لینے میں مدد دیتی ہیں۔ ویمپائر چمگادڑیں بھوکے ساتھی کو اپنا حاصل کیا ہوا خون واپس اُگل کر کھلاتی ہیں۔ یہ سب رویے تعاون، ہمدردی اور باہمی اعتماد کی جھلک پیش کرتے ہیں۔

یقیناً جانور “صحیح” اور “غلط” پر فلسفیانہ بحث نہیں کرتے۔ ان کے یہ رویے لاکھوں برس کے ارتقاء کا حاصل ہیں۔ لیکن یہی رویے بعد میں انسان میں شعور، عقل، زبان، قانون اور تہذیب کے ساتھ مل کر اخلاقیات کی مکمل صورت اختیار کر لیتے ہیں۔

شاید اخلاقیات آسمان سے اچانک نازل ہونے والا تصور نہیں تھیں، بلکہ ارتقاء کے ایک طویل سفر کی منزل ہیں۔ انسان نے ان کی ابتدا نہیں کی، بلکہ فطرت میں موجود ان ابتدائی بیجوں کو پروان چڑھا کر انصاف، رحم، تعاون اور ذمہ داری جیسے عظیم انسانی اقدار میں ڈھال دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *