اختیار کی آواز
ڈاکٹر نفیس صادق کی یاد میں
شارق علی
ویلیوورسٹی
انیس سو پچاس کی دہائی کا پاکستان۔
ایک نوجوان خاتون ڈاکٹر بیرونِ ملک سے اعلیٰ تربیت حاصل کرکے وطن واپس آتی ہے۔ وہ ذہین ہے، باصلاحیت ہے، مریضوں کی خدمت کرنا چاہتی ہے، مگر ملازمت کرنے کے لیے اسے اپنے شوہر کی اجازت درکار ہے۔
اس نوجوان ڈاکٹر کا نام نفیس صادق تھا۔
وقت نے ایک عجیب دائرہ مکمل کیا۔
تقریباً چار دہائیاں بعد یہی خاتون قاہرہ میں دنیا کے 179 ممالک کے نمائندوں کے سامنے کھڑی تھی۔ اب سوال اس کے اپنے کام کرنے کی اجازت کا نہیں تھا۔ سوال دنیا بھر کی عورتوں کے اختیار، صحت، وقار اور اپنی زندگی کے فیصلوں میں شرکت کا تھا۔
نفیس صادق 18 اگست 1929 کو جونپور میں پیدا ہوئیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد ان کا خاندان پاکستان آ گیا۔ انہوں نے کراچی کے ڈاؤ میڈیکل کالج سے طب کی تعلیم حاصل کی اور پھر امریکہ میں زچہ و بچہ کے شعبے میں مزید تربیت حاصل کی۔
1954 میں پاکستان واپس آئیں تو مختلف فوجی ہسپتالوں میں خواتین اور بچوں کا علاج شروع کیا۔
شاید یہی وہ زمانہ تھا جب اعداد و شمار سے پہلے انہیں انسانوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔
حمل اور زچگی کی مشکلات سے گزرتی عورتیں۔ بچوں کی صحت کے مسائل۔ ایسے خاندان جہاں غربت، کم تعلیمی مواقع اور محدود طبی سہولتیں عورت کی زندگی کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی تھیں۔
ایک ڈاکٹر ایک وقت میں ایک مریض کا علاج کر سکتی تھی، لیکن نفیس صادق کی نگاہ آہستہ آہستہ اس بڑے منظر کی طرف اٹھ رہی تھی جس میں لاکھوں عورتیں موجود تھیں۔
1964 میں وہ حکومتِ پاکستان کے پلاننگ کمیشن کے شعبۂ صحت کی سربراہ بنیں۔ پھر پاکستان سینٹرل فیملی پلاننگ کونسل سے وابستہ ہوئیں اور بالآخر اس کی ڈائریکٹر جنرل مقرر ہوئیں۔
لیکن ان کے نزدیک مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ کسی خاندان میں بچوں کی تعداد کتنی ہو۔
اصل سوال کہیں زیادہ بنیادی تھا۔
عورت اپنی زندگی کے فیصلوں میں کہاں کھڑی ہے؟
کیا اسے تعلیم میسر ہے؟
کیا اسے صحت کی مناسب سہولت حاصل ہے؟
کیا وہ یہ فیصلہ کرنے میں شریک ہے کہ کب اور کتنے بچے پیدا کرنے ہیں؟
اور سب سے بڑھ کر، کیا اسے ایک مکمل انسان کی حیثیت سے اپنی زندگی کے بارے میں اختیار حاصل ہے؟
1971 میں نفیس صادق اقوامِ متحدہ کے ادارے UNFPA سے وابستہ ہوئیں۔ صلاحیت اور مسلسل محنت انہیں آگے لے جاتی رہی، یہاں تک کہ 1987 میں وہ اس ادارے کی Executive Director مقرر ہوئیں۔
یہ ایک تاریخی لمحہ تھا۔
وہ اقوامِ متحدہ کے کسی بڑے عالمی پروگرام کی سربراہی کرنے والی پہلی خاتون بن گئی تھیں۔
لیکن ان کی زندگی کا سب سے اہم منظر شاید ابھی باقی تھا۔
ستمبر 1994 میں قاہرہ میں International Conference on Population and Development منعقد ہوئی۔ نفیس صادق اس عالمی کانفرنس کی Secretary-General تھیں۔
یہ کوئی معمول کی کانفرنس نہیں تھی۔
دنیا کے مختلف مذاہب، ثقافتوں اور سیاسی نظاموں سے تعلق رکھنے والے ممالک آبادی، خاندان، تولیدی صحت اور عورت کے حقوق جیسے حساس معاملات پر ایک میز کے گرد جمع تھے۔ اختلاف شدید تھا۔ مذہبی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے کئی نکات پر سخت اعتراضات موجود تھے۔
نفیس صادق کے سامنے مشکل کام تھا۔
انہیں دنیا کو یہ سمجھانا تھا کہ آبادی کا مسئلہ محض اعداد کا مسئلہ نہیں۔
اس کے مرکز میں ایک انسان ہے۔
اور اکثر وہ انسان ایک عورت ہے۔
قاہرہ کانفرنس نے عالمی سوچ کا رخ بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ توجہ صرف آبادی کم کرنے کے اہداف سے ہٹ کر خواتین کی صحت، تعلیم، انسانی حقوق، صنفی مساوات اور اس حق کی طرف منتقل ہوئی کہ عورت اپنی زندگی اور تولیدی صحت سے متعلق فیصلوں میں شریک ہو۔
نفیس صادق کے تصور کو ایک مختصر جملے میں سمیٹا جا سکتا ہے:
Healthy families are created by choice, not by chance.
صحت مند خاندان محض اتفاق سے نہیں، شعوری انتخاب سے تشکیل پاتے ہیں۔
یہ family planning سے کہیں وسیع تصور تھا۔
یہ human dignity کی بات تھی۔
نفیس صادق یہ نہیں کہہ رہی تھیں کہ خاندان غیر اہم ہے۔ وہ خود ایک خاندان کا حصہ تھیں، شادی شدہ تھیں اور پانچ بچوں کی ماں تھیں۔ ان کا پیغام اس سے کہیں متوازن تھا.
عورت ماں بھی ہو سکتی ہے، شریکِ حیات بھی، ڈاکٹر بھی، دانشور بھی اور عالمی رہنما بھی۔
مسئلہ اس کے کردار کا نہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ اس کردار کا فیصلہ کون کرتا ہے۔
2000 میں UNFPA سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی ان کا سفر ختم نہیں ہوا۔ وہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی خصوصی مشیر اور ایشیا و بحرالکاہل کے لیے HIV/AIDS کی خصوصی نمائندہ رہیں۔ 2001 میں انہیں United Nations Population Award سے نوازا گیا۔
14 اگست 2022 کو، 92 برس کی عمر میں، نفیس صادق دنیا سے رخصت ہوئیں۔
ان کے طویل سفر کو دیکھیں تو ایک خوبصورت دائرہ مکمل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
ایک نوجوان پاکستانی ڈاکٹر جسے کبھی ملازمت کے لیے اجازت درکار تھی، بالآخر دنیا کی عورتوں کے حقِ انتخاب اور وقار کی ایک توانا آواز بن گئی۔
اور میرے لیے اس کہانی میں ایک ذاتی نسبت بھی ہے۔
نفیس صادق نے طب کی تعلیم کراچی کے اسی ڈاؤ میڈیکل کالج سے حاصل کی جہاں کئی برس بعد مجھے بھی میڈیسن پڑھنے کا موقع ملا۔
ایک ہی درس گاہ، دو مختلف زمانے۔
اپنے ہی کالج کی ایک فارغ التحصیل طالبہ کو پاکستان سے نکل کر عالمی سطح پر اتنا بڑا انسانی کردار ادا کرتے دیکھنا باعثِ فخر بھی ہے اور نئی نسل کے لیے ایک یاد دہانی بھی۔
بڑے اداروں سے فارغ التحصیل ہونا بذاتِ خود کوئی بڑی کامیابی نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ وہاں سے حاصل ہونے والی روشنی ہم آگے کتنے لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔
نفیس صادق نے اپنی روشنی دنیا بھر کی عورتوں تک پہنچانے کی کوشش کی۔
