Skip to content
Home » Blog » آسیب زدہ اسکول, اصل آسیب

آسیب زدہ اسکول, اصل آسیب

آسیب زدہ اسکول
اصل آسیب

دوسری قسط

شارق علی
ویلیوورسٹی

(گھوسٹ اسکولز پر بننے والی ایک دستاویزی فلم سے متاثر ادبی نان فکشن)

پہلی قسط میں ہم رابعہ کو ایک بند اسکول کے دروازے پر چھوڑ آئے تھے۔

دس سالہ بچی، کندھے پر بستہ، ساتھ چند سہیلیاں اور سامنے زنگ آلود دروازے پر پڑا تالا۔

اسے بتایا گیا تھا:

’’یہ اسکول آسیب زدہ ہے۔ یہاں بھوت ہیں۔‘‘

فرض کیجیے رابعہ ڈرنے کے بجائے سوال کر بیٹھتی:

’’بھوت کہاں ہیں؟‘‘

خالی کلاس روم میں؟

گرد میں اٹے ڈیسکوں کے نیچے؟

یا اس سرکاری فائل میں، جس میں یہ اسکول شاید اب بھی موجود ہے؟

اسی سوال سے بھوتوں کی کہانی ختم اور انسانوں کی کہانی شروع ہوتی ہے۔

پاکستان کا تعلیمی بحران کسی ایک حکومت، ایک صوبے یا چند برسوں کی ناکامی نہیں ہے۔ اس کی جڑیں کہیں زیادہ گہری اور پرانی ہیں۔

کرپشن، میرٹ کے قتل کے نتیجے میں گورننس کی ناکامی، لالچ، غیرصحتمند سماجی رویے، بگڑی اخلاقی اقدار، غربت، اساتذہ کی کمی، دور دراز بستیاں، ناقص عمارتیں، قدرتی آفات اور انتظامی غفلت۔ وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں، مگر نتیجہ ایک ہی ہے۔

بچہ اسکول سے باہر رہ جاتا ہے۔

اور اس نقصان کا سب سے اہم پہلو کسی سرکاری رپورٹ میں درج نہیں ہوتا۔

بہتر امکانات کا نقصان۔

ہم کبھی جان ہی نہیں پاتے کہ تعلیم سے محروم رہ جانے والے بچوں میں کون غیر معمولی استاد، ڈاکٹر، سائنس دان، ہنرمند یا صرف ایک باشعور اور بااختیار شہری بن سکتا تھا۔

کیونکہ یہ امکانات کھلنے سے پہلے ہی بند ہو جاتے ہیں۔

آسیب اسکول کے دروازے کی طرح۔

تعلیم کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے کہ وہ انسان کو سوال کرنا سکھاتی ہے۔

میں کیوں محروم ہوں؟

میرے حقوق کیا ہیں؟

جو کچھ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے، کیا ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ ہوتا رہے؟

رابعہ کا سوال بھی بظاہر بہت سادہ ہے

’’میرا اسکول بند کیوں ہے؟‘‘

مگر اسی چھوٹے سے سوال کے سامنے ایک پورا نظام جواب دہ ہو جاتا ہے۔

یہی سوال ایک فلم ساز سیماب گل کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔

پاکستانی نژاد برطانوی فلم ساز سیماب گل نے پاکستان کے سفر کے دوران ایسے اسکول دیکھے جو موجود تو تھے، مگر وہاں تعلیم نہیں تھی۔ ان خاموش عمارتوں میں انہیں محض انتظامی ناکامی نہیں، ایک بھرپور کہانی دکھائی دی۔

انہوں نے سرکاری رپورٹ بنانے کے بجائے اس مسئلے کو فلم کی زبان دی۔

اعدادوشمار کو کرداروں میں بدلا۔

اور لاکھوں بچوں کے سوال کو ایک بچی کی آواز دے دی۔

اس بچی کا نام تھا

رابعہ۔

فلم میں رابعہ کے گاؤں کا اسکول بند ہو جاتا ہے۔

لوگ کہتے ہیں وہاں آسیب ہے۔ بھوت ہیں۔

مگر رابعہ بھوت تلاش کرنے کے بجائے وجہ تلاش کرتی ہے۔

اور اسی تلاش سے جنم لیتی ہے سیماب گل کی فلم:

Ghost School۔

اب سوال یہ نہیں رہتا کہ اسکول میں بھوت ہے یا نہیں۔

سوال یہ ہے کہ اصل آسیب کیا ہے؟
کرپشن؟

غربت؟

انتظامی غفلت؟

بدعنوانی؟

یا وہ اجتماعی بے حسی جو ایک بچے سے اس کا بنیادی حق چھن جانے کو بھی معمول سمجھ کر قبول کر لیتی ہے؟

رابعہ نے بند دروازے کو دھکا دیا ہے

اور اس کے پیچھے چھپی کہانی دنیا تک پہنچ گئی ہے

مگر اس کہانی میں ایک عجیب موڑ ابھی باقی تھا۔

جس فلم نے ایک بند اسکول کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی، خود اسی فلم کے سامنے ایک اور دروازہ بند کر دیا گیا ہے

یہ دروازہ ٹورنٹو یا لندن میں نہیں تھا۔

یہ سندھ میں تھا۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *