Skip to content
Home » Blog » پہلا سفر، پہلا دوست

پہلا سفر، پہلا دوست

  • by

پہلا سفر، پہلا دوست

شارق علی
ویلیوورسٹی

عصر اور مغرب کا درمیانی وقت ہوگا۔

میرپور خاص کے چھوٹے سے ریلوے اسٹیشن پر بھاپ کے انجن کی سیٹی فضا میں گونجی۔ چار سالہ بچہ اپنے والد اور بڑے بھائی کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے پلیٹ فارم سے ٹرین میں داخل ہوا۔
یہ اس کی زندگی کا پہلا ریل کا سفر تھا۔

امی کے بغیر پہلا سفر۔

والدہ گھر ہی پر رہ گئی تھیں۔ دوسرے بہن بھائی ابھی اسکول میں تھے، اس لیے ان کا ساتھ آنا ممکن نہ تھا۔

بچے کی ننھی آنکھوں میں جدائی کا غم کم تھا اور حیرت زیادہ۔

دھواں چھوڑتا سیاہ انجن، زور دار سیٹی، پٹریوں کی کھڑکھڑاہٹ، مسافروں کی آوازیں اور پلیٹ فارم کی بھاگ دوڑ… سب کچھ گویا کسی جادوئی دنیا کا حصہ تھا۔

گاڑی آہستہ آہستہ چلنے لگی، اور وہ کھڑکی سے باہر چپ چاپ بدلتے ہوئے منظروں کو دیکھتا رہا۔ درختوں اور کھیتوں کے پیچھے دوڑتے ہوئے مناظر کی حیرت کچھ کم ہوئی تو پھر وہی خیال جاگا:

“میرے ساتھ آخر مسئلہ کیا ہے؟”

اس سوال کا ایک پس منظر تھا۔

نرسری کی استانی نے نوٹ کیا تھا کہ وہ کتاب کو آنکھوں کے بہت قریب لا کر پڑھتا ہے۔ والدین کو خبر دی گئی۔ ریلوے ڈسپنسری کے ڈاکٹر نے معائنہ کیا۔ ایک آنکھ پر پیچ لگا کر علاج کی کوشش بھی کی گئی، مگر جب بہتری نہ آئی تو مقامی ڈاکٹر نے اپنے استاد کے نام ایک تعارفی خط لکھ کر کراچی جانے کا مشورہ دیا۔ یہ سفر اسی تشویش کی ایک کڑی تھا۔

رات گئے ٹرین کراچی پہنچی۔

ریلوے اسٹیشن سے وہ بگھی میں سوار ہوئے۔ کسی بڑے شہر کی روشنیاں، شور اور وسعت اس قصباتی بچے کے لیے بالکل ہی نئی دنیا تھی۔

ماموں کے گھر پہنچ کر کھانا کھایا اور رات وہیں گزاری۔
اگلے روز شہر کے معروف ماہرِ چشم کے کلینک میں معائنہ ہوا۔

ڈاکٹر نے مسکرا کر اسے کرسی پر بٹھایا۔ خوشگوار باتیں کیں۔ جب آنکھوں میں قطرے ڈالے گئے تو لڑکا جلن سے سبکیاں بھرنے لگا۔ آنکھیں دھندلا گئی تھیں، اور ڈاکٹر کا چہرہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑا دکھائی دینے لگا تھا۔
تفصیلی معائنے کے بعد ڈاکٹر نے والد کی طرف رخ کیا۔

“آنکھ کی ساخت بالکل درست ہے، لیکن ایک آنکھ کی بینائی کمزور ہے۔ بعض بچوں میں پیدائشی طور پر ایسا ہوتا ہے۔ خوش قسمتی سے دوسری آنکھ بالکل نارمل ہے۔”

والد کے چہرے پر تشویش جھلک رہی تھی۔

انہوں نے بےاختیار کہا:

“ڈاکٹر صاحب، اگر آپریشن کرنا پڑے تو ضرور کر دیجیے، بس میرے بچے کی آنکھ ٹھیک ہو جائے۔”

یہ سنتے ہی بچے کا دل دھڑ دھڑ کرنے لگا۔

آپریشن!

ننھے ذہن میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔
ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے تسلی دی۔
“نہیں، اس کیفیت میں کوئی آپریشن نہیں ہوتا۔ صرف چشمہ لگانا ہوگا، اور باقی زندگی بالکل معمول کے مطابق گزر سکتی ہے۔ اسے ‘لیزی آئی’ کہتے ہیں۔”

کلینک سے نکلتے ہوئے والد نے منہ بسورے لڑکے کو بہلانے کے لیے ایک ہوٹل پر رک کر اسے آئس کریم کھلائی۔ پستہ آئس کریم کے اوپر رکھی لجلجاتی، گہرے سبز رنگ کی جیلی… ایک یادگار تجربہ۔

چند دن بعد چشمہ لگا یہ لڑکا واپس میرپور خاص آ گیا۔

ناک پر لگا نیا پلاسٹک کا چشمہ پوری کلاس، بلکہ پورے اسکول کے تجسس اور تفریح کا باعث بن گیا۔ نئے نئے نام رکھے جانے لگے۔ “اندھا”، “چشملی”، “ڈھینڑا”۔ کچھ بچے ادھار لے کر چند لمحوں کے لیے چشمہ پہن کر دیکھتے، کچھ صرف اسے چھو کر مطمئن ہو جاتے، اور کچھ ہنسنے لگتے۔

اب لڑکے کو یقین ہو چکا تھا کہ اس کے ساتھ واقعی کوئی مسئلہ ہے۔

وہ دوسروں سے کچھ مختلف ہے۔

اسی سال میرپور خاص کے گاما اسٹیڈیم میں ایک زرعی نمائش کا اہتمام ہوا۔ گھوڑوں اور بیلوں کی دلچسپ ریس، مویشی میلہ اور رنگ برنگے اسٹالوں کے درمیان ایک چھوٹا سا بک اسٹال بھی سجا تھا۔ وہیں اس لڑکے کی نظر ایک نہایت رنگین سرورق والی کتاب پر پڑی۔ نام تھا:

“عبدل کا گاؤں”

یہ پہلی نظر کی محبت کا لمحہ تھا۔

اس نے امی سے کہہ کر وہ کتاب خرید لی۔ یہ اس کی زندگی کی پہلی ذاتی کتاب تھی۔ بلا شرکتِ غیرے، صرف اس کی۔

اس نے ابھی روانی سے پڑھنا نہیں سیکھا تھا۔ وہ ایک ایک کر کے تصویریں دیکھتا، لفظ جوڑ جوڑ کر ہجے کرتا اور پڑھتا۔ عبدل کے ساتھ وہ اس کے گاؤں کی گلیوں، کھیتوں، دہقانی زندگی اور اس دنیا میں کھو جاتا۔

اسے اپنی زندگی کا سب سے وفادار دوست مل گیا تھا۔

کتابیں۔

اب ان دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر زندگی کا باقی سفر طے کرنا تھا۔

قدرت نے اس کی ایک آنکھ کی بینائی محدود رکھی تھی، مگر اسی کے ساتھ اسے ایک بالکل نئی دنیا سے بھی متعارف کرا دیا تھا۔
کتابوں کی دنیا…
جہاں داخل ہونے کے لیے کامل بینائی نہیں، صرف تجسس درکار ہوتا ہے۔
۔۔۔ جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *