وقت کہاں ہے؟ باہر… یا ہمارے اندر؟
شارق علی
ویلیوورسٹی
ایک سادہ سا تجربہ کر کے دیکھیے…
اپنی آنکھیں بند کر کے “اب” کو محسوس کرنے کی کوشش کیجیے۔
وہ لمحہ یا یہ لمحہ جس میں آپ میری لکھی اس تحریر کے الفاظ پڑھ رہے ہیں، آخر ہے کہاں؟
کیا وقت واقعی کوئی ٹھوس کایناتی حقیقت ہے، یا صرف ایک احساس؟
ہم عام طور پر یہی سمجھتے ہیں کہ ہم وقت کے اندر زندہ ہیں۔
ہماری زندگی وقت میں ایک سیدھی لکیر کی طرح آگے بڑھتی ہے: بچپن، جوانی، بڑھاپا۔
اگر ہم ذرا غور کریں تو ایک دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے:
ہم ماضی کو صرف یاد کرتے ہیں،
مستقبل کو صرف تصور کرتے ہیں،
لیکن جیتے ہمیشہ “حال” میں ہیں۔
البرٹ آئنسٹائن نے وقت کو ایک ڈایمینشن قرار دیا تھا۔ یعنی ماضی، حال اور مستقبل کسی نہ کسی صورت میں موجود ہیں۔
لیکن ہمارا شعور صرف ایک باریک سی لکیر پر چلتا ہے، جسے ہم “اب” کہتے ہیں۔
یہ ایسا ہے جیسے ایک تاریک کمرے میں ٹارچ جلائی جائے۔
کمرے میں بہت کچھ موجود ہو، مگر روشنی صرف ایک محدود جگہ پر پڑتی ہو اور صرف وہی اشیاء واضح نظر آئیں جو روشنی کی زد میں ہوں
نیورو سائنس ہمیں ایک دلچسپ بات بتاتی ہے:
“حال” دراصل چند ملی سیکنڈز کا ایک چھوٹا سا وقفہ ہے، جسے ہمارا دماغ جوڑ کر ایک مسلسل کہانی کی صورت دے دیتا ہے۔
یعنی ممکن ہے کہ وقت خود نہیں بہہ رہا ہو،
بلکہ ہمارا شعور اسے بہتا ہوا محسوس کر رہا ہو۔
تو سوال یہ ہے:
کیا ہم وقت کے اندر ہیں…؟
یا وقت ہمارے شعور کے اندر تشکیل پاتا ہے؟
شاید اصل حقیقت ان دونوں کے درمیان کہیں ہے۔
یہ سوال ہمیں اپنے وجود کو نئے انداز میں سمجھنے کی دعوت دیتا ہے۔
شاید سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ہم وقت کے مسافر نہیں… بلکہ اس کے خالق ہیں۔ ہر “اب” میں ہم نہ صرف لمحے کو محسوس کرتے ہیں، بلکہ اسے معنی دیتے ہیں۔ اور یہی معنی ہماری پوری کائنات کی شکل و صورت طے کرتے ہیں۔
