Skip to content
Home » Blog » بڑھاپا، قربت اور فاصلہ

بڑھاپا، قربت اور فاصلہ

  • by

بڑھاپا، قربت اور فاصلہ

شارق علی
ویلیوورسٹی

کنفیوشس سے منسوب ایک تمثیلی روایت کچھ یوں بیان کی جاتی ہے۔

تاریخی درستگی تو واللہ عالم، مگر اس میں چھپی دانائی آج کا سچ محسوس ہوتی ہے۔

لی وی نامی ایک بوڑھا شخص کسی دانا کے پاس گیا اور پوچھا:
“اپنی پوری زندگی اولاد کے لیے وقف کرنے کے بعد بھی، ہم بڑھاپے میں ان کے ساتھ رہتے ہوئے بھی تنہا کیوں ہو جاتے ہیں؟”

دانا نے جواب میں تین مثالوں سے سمجھایا۔
ایک برتن کو لبالب پانی سے بھرا اور کہا:
“اگر میں اس میں مزید پانی ڈالوں تو کیا ہوگا؟”
لی وی نے کہا: “یہ چھلک جائے گا۔”
دانا بولا: “رشتے بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔ تم ایک ایسے برتن میں خود کو انڈیل رہے ہو جس میں اب جگہ باقی نہیں رہی۔”

پھر اس نے دو قریب اُگے درختوں کی جانب اشارہ کیا:
“جب درخت بہت قریب قریب ہوں تو وہ ایک دوسرے کی نشوونما میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ زندگی میں بھی بہت زیادہ قربت تناؤ پیدا کرتی ہے، ترقی کے لیے مناسب فاصلے کا ہونا ضروری ہے۔”

آخر میں اس نے مٹھی بھر ریت اٹھاتے ہوئے کہا:
“اگر میں اسے مٹھی میں بھینچوں تو کیا ہوگا؟”
لی وی نے جواب دیا: “یہ انگلیوں کے بیچ سے پھسل جائے گی۔”
دانا نے کہا: “محبت اور عزت دباؤ میں قائم نہیں رہتیں۔”

لی وی نے حقیقت کو سمجھا، اپنے بیٹے کے گھر سے نکل کر کچھ فاصلے پر جا بسا۔ اپنی زندگی کو اپنی آرزومندی اور ویلیوز کے مطابق نئے معنی دیے۔ لکھا، پڑھا، لوگوں کے کام آیا، لوگوں میں علم بانٹا، درخت لگائے، خلقِ خدا کے لیے آسانیاں پیدا کیں۔

کچھ عرصے بعد بیٹے کا خط آیا:
“ابو، ہمیں آپ کی یاد آتی ہے۔ ہمارے ساتھ کچھ دن گزاریں—محبت اور الفت کے دن۔”
تب لی وی نے جانا:

جب ہم محبت کا تقاضا چھوڑ دیتے ہیں، تو محبت خود ہمارے پاس لوٹ آتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *