Skip to content
Home » Blog » بچپن کی ایک شام اور چاند تک کا سفر

بچپن کی ایک شام اور چاند تک کا سفر

بچپن کی ایک شام اور چاند تک کا سفر

شارق علی
ویلیوورسٹی

مجھے آج بھی وہ شام یاد ہے…

میں تقریباً نو سال کا تھا اور چھٹیاں گزارنے پھوپھی کے گھر جامشورو گیا ہوا تھا۔ مضمون مکمل پڑھتے ہی میں ہاتھ میں اخبارِ جہاں لیے دادی کے پاس پہنچا۔

میرے ہاتھ میں موجود بڑے سے رسالے کے سرورق پر ایک تصویر تھی. نیل آرمسٹرانگ خلائی لباس پہنے چاند کی سطح پر کھڑے تھے۔

“یہ دیکھیں دادی… انسان چاند پر پہنچ گیا!”

میں نے ملی جلی حیرت اور خوشی سے انہیں بتایا۔
دادی نے عینک کے اوپر سے مجھے دیکھا، مسکرا کر بولیں: “بیٹا، یہ محض کہانیاں ہیں… انسان بھلا چاند پر کیسے پہنچ سکتا ہے؟”

میں خاموش ہو گیا… مگر دل میں عجب کشمکش تھی۔
اسی رات، صحن میں سونے سے ذرا پہلے، میں نے آسمان کی طرف دیکھا… چاند ویسا ہی تھا۔ خاموش، دور، پراسرار۔ میں نے سوچا: کیا یہ محض چمکتا ہوا دائرہ ہے، یا اب وہ ہم انسانوں کے لیے ایک منزل بن چکا ہے؟

اس حقیقت کا حتمی ادراک مجھے کچھ دن بعد ہوا۔ سن ۱۹۶۹ میں، اپولو گیارہ کے تاریخی مشن نے واقعی انسان کو چاند تک پہنچا دیا تھا۔

یہ مشن ناسا کی قیادت میں ۱۶ جولائی ۱۹۶۹ کو روانہ ہوا اور تقریباً چار دن بعد، ۲۰ جولائی کو، چاند کی سطح پر اترا۔ دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں نے اس لمحے کو ٹیلی ویژن پر براہِ راست دیکھا۔ یہ انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے واقعات میں سے ایک تھا۔

نیل آرمسٹرانگ نے سب سے پہلا قدم رکھا اور وہ مشہور جملہ کہا: “یہ ایک انسان کا چھوٹا قدم ہے، مگر انسانیت کے لیے ایک بہت بڑی جست ہے۔”

ان کے بعد بز ایلڈرِن بھی نیچے آئے، جبکہ مائیکل کولنز اکیلے اوپر مدار میں گردش کرتے رہے۔

یہ سفر ممکن ہوا دیوہیکل راکٹ سیٹرن فائیو کے ذریعے، جو آج بھی انسانی تاریخ کے طاقتور ترین راکٹس میں شمار ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اُس وقت استعمال ہونے والا کمپیوٹر آج کے ایک سادہ موبائل فون سے بھی کم طاقتور تھا۔ پھر بھی اس نے انسان کو چاند تک پہنچا دیا۔

خلا نورد تقریباً ۲۱ گھنٹے چاند پر رہے، اور وہ وہاں سے تقریباً ۲۱ کلوگرام مٹی اور پتھر زمین پر واپس لائے۔ انہوں نے سائنسی آلات نصب کیے، تصاویر لیں، اور چاند کی سطح کے بارے میں اہم معلومات اکٹھی کیں۔

ان کے قدموں کے نشان آج بھی چاند پر محفوظ ہیں، کیونکہ وہاں ہوا نہیں جو انہیں مٹا سکے۔ وقت جیسے وہاں ٹھہر سا گیا ہو۔

مگر میرے لیے یہ صرف ایک سائنسی کامیابی نہیں تھی…
یہ ایک سوال تھا۔
کیا ہم وہی دیکھتے ہیں جو ہمیں بتایا جاتا ہے؟
یا ہم وہ بھی دیکھ اور جان سکتے ہیں جو ابھی تک کسی نے مانا ہی نہیں؟
شاید اُس دن، میں نے پہلی بار یہ سیکھا تھا کہ حقیقت اکثر کہانیوں سے بھی زیادہ حیران کن ہوتی ہے۔

اور کبھی کبھی…
ایک بچے کا یقین، ایک پوری نسل کے شک سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *