Skip to content
Home » Blog » بال اور خیال, کے بی فراق کے نام

بال اور خیال, کے بی فراق کے نام

بال اور خیال
کے بی فراق کے نام

شارق علی
ویلیوورسٹی

گوادر میں سرور بلوچ کی حجامت کی دکان پر ایک بچہ اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے بلوچی رسالہ پڑھ رہا ہے۔ اس کا نام معراج ہے اور وہ پانچویں جماعت کا طالب علم ہے۔

وہ اسکول سے چھٹی کے بعد بال کٹوانے آیا تھا، لیکن یہاں کتابوں سے ملاقات ہو گئی۔ دکان میں جگہ کم ہے۔ چند کتابوں اور رسالوں نے اسی محدود جگہ میں اس کے لیے ایک اور دنیا کھول دی ہے۔

سرور بلوچ کے مطابق، پہلے انتظار کرتے گاہک جلدی مچاتے، بے مقصد گفتگو کرتے یا دوبارہ آنے کا کہہ کر چلے جاتے تھے۔ کتابیں آئیں تو انتظار کا مزاج بدلنے لگا۔ بعض لوگ مطالعے میں ایسے مگن ہوئے کہ اپنی باری بھی خوشی سے دوسرے کو دے دیتے۔ حجام کے ہاتھ اپنا کام کرتے رہے اور منتظر لوگوں کے ہاتھوں میں کتابیں کھلنے لگیں۔

نومبر 2020 کی ایک رپورٹ میں درج اس منظر کے پیچھے گوادر کے شاعر، ماہرِ تعلیم اور سماجی کارکن کے بی فراق کا خیال کارفرما تھا۔ ان کے قائم کردہ سماجی و ادبی ادارے جیوز نے حجام کی دکان کو کتابیں فراہم کی تھیں۔ مقصد یہ تھا کہ کتاب وہاں پہنچے جہاں عام لوگ آتے، بیٹھتے اور انتظار کرتے ہیں۔

گزشتہ دنوں کے بی فراق سے میری طویل گفتگو ہوئی۔ انہوں نے اپنی زندگی اور اپنے منصوبوں کے بارے میں مجھے بتایا۔ ان کی باتیں سنتے ہوئے ان کی گوادر میں قائم کردہ چھوٹی سی لائبریری کا خیال میرے ساتھ رہا۔ ہم اکثر لوگوں کو کتاب کی طرف بلاتے ہیں۔ ان کے خیال نے کتاب کو لوگوں کے پاس پہنچا دیا تھا۔

اس دکان کے باہر گوادر ہے۔ بحیرۂ عرب کے کنارے آباد، بلوچستان کی ساحلی زندگی کا ایک اہم شہر۔ مکران کے ساحل پر خم کھاتی خلیجیں، چٹانیں اور مٹی کے آتش فشاں زمین کی پرانی کہانیاں سناتے ہیں۔ گوادر کا کوہِ باتیل جو زمینی ابھار کبھی جزیرہ تھا۔ رفتہ رفتہ جمع ہونے والی ریت نے اسے خشکی سے جوڑ دیا۔ قدرت بھی اپنے رابطے بنانے میں وقت لیتی ہے۔

یہاں انسان اور سمندر کا رابطہ بھی بہت پرانا ہے۔جس کے مشرق میں دیمی زِر اور مغرب کی طرف پدی زر، اپنی زندگی سے بھرپور وجود کی صورت، ماہی گیر کے لیے سمندر کی خوب صورتی کے ساتھ روزگار کی فکر بھی شامل حال رہتی ہے۔ جال میں آنے والی مچھلی کے ساتھ گھر کا راشن، بچوں کی ضرورتیں اور اگلے سفر کا خرچ وابستہ ہے۔ ساحل پر کھڑی کشتی ہمیں ایک منظر دکھاتی ہے؛ اس کے مالک کو یہ کشتی آنے والے دن کی فکر اور سوال دکھائی دیتی ہے۔

کے بی فراق ان سوالوں کی آواز بنتے رہے ہیں۔ انہوں نے ماہی گیروں کے حقوق کے قانونی تحفظ کی ضرورت اجاگر کی ہے اور بدلتے ہوئے گوادر میں مقامی لوگوں کے لیے ہنر اور متبادل روزگار کے مواقع کی اہمیت بیان کی ہے۔ شہر کی سیلابی مشکلات پر بھی ان کا مؤقف رہا ہے کہ تعمیراتی منصوبہ بندی میں بارش کے پانی کی قدرتی گزرگاہوں اور مقامی تجربے کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

ان کے کام کے ان مختلف پہلوؤں میں مجھے ایک مربوط تعلق دکھائی دیتا ہے۔ کتاب تک رسائی ہو یا روزگار کا تحفظ، اصل توجہ اسی عام آدمی پر ہے جس کی زندگی بڑے منصوبوں کی تفصیل میں اکثر دھندلا جاتی ہے۔ نظرانداز کر دی جاتی ہے۔

چلیے واپس سرور بلوچ کی دکان پر چلتے ہیں۔ معراج کے ہاتھ میں اب بھی وہ رسالہ ہے۔ کچھ دیر بعد وہ اسے بند کر کے حجام کی کرسی پر بیٹھ جائے گا۔ بال کٹوائے گا اور گھر واپس چلا جائے گا۔

ہم نہیں جانتے اس نے کون سا مضمون پڑھا، کون سی بات یاد رکھی، کون سی بھلا دی۔ مگر انتظار کے چند منٹوں نے اسے پڑھنے اور اپنی دنیا سے آگے دیکھنے کا موقع ضرور فراہم کیا۔ بال سنوارنے کے لیے دکان میں آنے والے بچے کے حصے میں ذہن سنوارنے کی ایک چھوٹی سی مہلت بھی شامل ہو گئی۔

سرور بلوچ نے اس کے بالوں کی تراش خراش کی۔ کے بی فراق کی پہنچائی ہوئی کتاب نے اس کے خیال کو حسین تر بننے کا موقع دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *