آسیب زدہ اسکول
ناقابل نمائش
تیسری اور آخری قسط
شارق علی
ویلیوورسٹی
(گھوسٹ اسکولز پر بننے والی ایک دستاویزی فلم سے متاثر ادبی نان فکشن)
رابعہ کا سوال گاؤں کی حدود سے نکل چکا تھا۔
’’میرا اسکول بند کیوں ہے؟‘‘
سیماب گل نے اس سوال کو فلم کی زبان دی تو ایک چھوٹے سے پاکستانی گاؤں کی کہانی دنیا کے پردۂ سیمیں تک پہنچ گئی۔
Ghost School کا ورلڈ پریمیئر 2025 میں ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ہوا۔
پھر سفر آگے بڑھا۔
جدہ کے ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں اسے بچوں اور خاندانوں کے لیے منتخب فلموں میں شامل کیا گیا۔ لاس اینجلس کے انڈین فلم فیسٹیول میں فلم کو اس کی سماجی حقیقت نگاری اور محتاط کہانی گوئی پر اعزازی ذکر ملا۔
مئی 2026 میں لندن کے بی ایف آئی ساؤتھ بینک میں Ghost School سے یوکے ایشین فلم فیسٹیول کا افتتاح ہوا۔
یہ محض ایک فلم کا بین الاقوامی سفر نہیں تھا۔
اس کے ساتھ رابعہ کا سوال بھی سفر کر رہا تھا۔
ایک ایسی بچی کا سوال جو تعلیم مانگ رہی تھی۔
لیکن پھر کہانی میں ایک عجیب موڑ آیا۔
فلم کو اب وہاں پہنچنا تھا جہاں سے اس کی کہانی نکلی تھی۔
سندھ۔
Ghost School کی شوٹنگ کراچی کے مضافات میں چشمہ گوٹھ اور ایک دوسرے گاؤں میں ہوئی تھی۔ فلم ساز نے انہی علاقوں کی زمینی حقیقت سے اپنی کہانی کا مواد حاصل کیا تھا۔
مگر اگست 2026 میں سندھ بورڈ آف فلم سنسرز نے فلم کو عوامی نمائش کا سرٹیفکیٹ دینے سے انکار کر دیا۔
فیصلے میں اسے:
“Not suitable for public exhibition”
قرار دیا گیا۔
فلم ساز سیماب گل کے مطابق انہیں اس فیصلے کی تفصیلی وجہ نہیں بتائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی سنسر بورڈ اور پنجاب کی جانب سے فلم پر ایسا اعتراض سامنے نہیں آیا تھا۔
دوسری جانب سندھ کے وزیرِ ثقافت کا موقف تھا کہ سنسر بورڈ ایک خودمختار ادارہ ہے اور اس نے فیصلہ کسی وجہ سے ہی کیا ہوگا۔
ممکن ہے وجہ موجود ہو۔
کسی فلم سے اختلاف کرنا بھی ایک حق ہے۔ اس کے بیانیے، علامتوں اور نتائج پر تنقید کی جا سکتی ہے۔ سنسر بورڈ کے اپنے قانونی اختیارات بھی ہیں۔
لیکن یہاں سوال فلم سے کچھ بڑا ہو جاتا ہے۔
کیا کسی معاشرے کو اپنے مسائل بیان کرنے والے فن سے خوف زدہ ہونا چاہیے، یا اس سے مکالمہ کرنا چاہیے؟
Ghost School کوئی سرکاری رپورٹ نہیں۔
یہ ایک کہانی ہے۔
ایک بچی کی نگاہ سے دیکھی گئی کہانی۔
اور شاید فن کی طاقت یہی ہے کہ وہ بڑے بڑے اعداد کو ایک انسانی چہرہ دے دیتا ہے۔
’’تعلیم سے محروم بچے‘‘ ایک عدد ہے۔
رابعہ ایک انسان ہے۔
عدد ہم بھول سکتے ہیں۔
رابعہ کا بند اسکول شاید کچھ دیر ہمارے ساتھ رہتا ہے۔
اور اسی لیے شاید ایسے فن پارے اہم ہوتے ہیں۔ وہ ہمیں وہ چیز دکھاتے ہیں جسے ہم روز دیکھتے دیکھتے دیکھنا چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مسئلہ کسی ایک صوبائی حکومت، ایک جماعت یا ایک دور کا نہیں۔ پاکستان میں تعلیم کی محرومی دہائیوں پر پھیلا ہوا قومی مسئلہ ہے۔
اسے سیاسی الزام تراشی سے زیادہ اجتماعی جواب دہی کی ضرورت ہے۔
اور شاید اسی لیے فلم کو روکنے کے بجائے اسے دیکھنا، اس سے اختلاف کرنا، سوال اٹھانا اور جواب دینا زیادہ مفید ہوتا۔
اب ایک لمحے کے لیے واپس اسی منظر میں چلتے ہیں جہاں سے یہ سلسلہ شروع ہوا تھا۔
صبح کی دھوپ۔
کچا راستہ۔
کندھوں پر بستے۔
رابعہ اور اس کی سہیلیاں۔
سامنے اسکول ہے۔
دروازے پر تالا پڑا ہے۔
رابعہ پوچھتی ہے:
’’اسکول کیوں بند ہے؟‘‘
اسے بتایا جاتا ہے:
’’یہاں آسیب ہے۔‘‘
وہ جواب قبول نہیں کرتی۔
وہ سوال کرتی ہے۔
اسی سوال سے ایک کہانی جنم لیتی ہے۔
کہانی فلم بنتی ہے۔
فلم دنیا تک پہنچتی ہے۔
اور پھر اسی سندھ میں، جہاں اس کہانی نے جنم لیا تھا، اس کے سامنے ایک اور بند دروازہ آ جاتا ہے۔
پہلا تالا اسکول کے دروازے پر تھا۔
دوسرا پردۂ سیمیں پر۔
شاید اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے۔
اصل آسیب کہاں ہے؟
اس ویران اسکول میں؟
اس نظام میں جو بچے تک تعلیم نہیں پہنچا سکا؟
یا اس خاموشی میں جو ایسے سوالوں کا سامنا کرنے کے بجائے ان کے سامنے ایک اور دروازہ بند کر دیتی ہے؟
اور اگر ایک نو سالہ بچی اپنے بند اسکول کے بارے میں سوال کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔
تو کیا ہم اس سوال کو سننے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟
