ہر خطے کی اپنی کتاب
چوتھی اور آخری کہانی
شارق علی
ویلیوورسٹی
نوٹ: (یہ چار کہانیوں پر مشتمل ایک ادبی غیر افسانوی (Literary Non-fiction) سلسلہ ہے، جو لداخ کے معروف ماہرِ تعلیم سونم وانگچک اور ان کے تعلیمی ادارے SECMOL سے متاثر ہو کر لکھا گیا ہے۔ اس کا اندازِ بیان ادبی ہے، جبکہ تعلیمی فلسفہ، ماحول اور بنیادی معلومات حقیقی ہیں۔)
SECMOL (سونم وانگچک کا تعلیمی ادارہ، لداخ)
یہاں میرا آخری دن تھا۔
میں پہاڑی کے کنارے کھڑا نیچے پھیلی ہوئی وادی کو دیکھ رہا تھا۔
صبح کی دھوپ آہستہ آہستہ برف پوش چوٹیوں پر اتر رہی تھی۔ ہوا سرد تھی، مگر اب وہ مجھے اجنبی نہیں لگتی تھی۔
لداخ نے مجھے اپنی زبان سکھا دی تھی۔
میں سورج کی حرکت سے وقت کا اندازہ لگا لیتا تھا۔ برف کی رنگت دیکھ کر سمجھ جاتا تھا کہ راستہ کب نرم ہوگا۔ پانی کی ایک باریک دھار بھی مجھے بتا دیتی تھی کہ اسے کہاں روکنا ہے اور کہاں آزاد چھوڑ دینا ہے۔
یہ سب کسی کتاب میں نہیں لکھا تھا۔
پھر بھی یہ تعلیم تھی۔
سونم وانگچک میرے قریب آ کر کھڑے ہو گئے۔ کچھ دیر ہم دونوں خاموشی سے وادی کو دیکھتے رہے۔
پھر انہوں نے کہا:
“ستانزن، اگر یہی اسکول کسی سمندر کے کنارے ہوتا تو شاید اس کی شکل مختلف ہوتی۔”
میں نے ان کی طرف دیکھا۔
وہ بولے
“اگر یہ صحرا میں ہوتا تو بچے پانی بچانا سیکھتے۔ اگر کسی جنگل میں ہوتا تو درخت اور جانور ان کے سبق ہوتے۔ اگر کسی بڑے شہر میں ہوتا تو آلودگی، ٹریفک اور کچرے کے مسائل ہی ان کی کتاب بن سکتے تھے۔”
میں خاموش رہا۔
پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ SECMOL کی اصل طاقت اس کی عمارتوں، شمسی پینلوں یا مٹی کی دیواروں میں نہیں تھی۔
اس کی اصل طاقت ایک خیال میں تھی۔
تعلیم کو اس جگہ، اس ماحول اور ان مسائل سے جوڑ دیا جائے جہاں بچے واقعی زندگی گزار رہے ہوں۔
یہاں ہم صرف جواب یاد نہیں کرتے تھے۔
ہم مسئلے کو دیکھتے، اسے سمجھتے، پھر مل کر اس کا حل تلاش کرتے تھے۔
سورج کمروں کو گرم کرتا تھا تو ہم توانائی کے بارے میں سیکھتے تھے۔
پانی کم ہوتا تھا تو ہم اس کی قدر، تقسیم اور حفاظت کو سمجھتے تھے۔
کھانا خود بناتے تھے تو ذمہ داری، حساب اور تعاون سیکھتے تھے۔
کسی کام میں غلطی ہوتی تھی تو اسے چھپانے کے بجائے دوبارہ کوشش کرتے تھے۔
شاید یہی سونم وانگچک کے طریقۂ تعلیم کا بنیادی اصول تھا۔
بچے کو صرف امتحان کے لیے تیار نہ کیا جائے، بلکہ اسے اپنی زندگی اور اپنے معاشرے کے مسائل حل کرنے کے قابل بنایا جائے۔
اس شام میں
ہاسٹل واپس آیا تو میز پر جنوبی ایشیا کا ایک نقشہ رکھا ہوا تھا۔
میری نگاہ سب سے پہلے لداخ پر گئی، پھر آہستہ آہستہ دوسرے علاقوں کی طرف بڑھنے لگی۔
میں نے پاکستان کے صحراؤں، پہاڑوں اور ساحلی بستیوں کے بارے میں سوچا۔
تھر میں رہنے والا بچہ شاید پانی، مویشی، گرمی اور صحرا کو مجھ سے کہیں بہتر سمجھتا ہوگا۔
گلگت، چترال اور سوات کے بچے پہاڑ، برف، دریا اور زمین سرکنے کے خطرات کو بخوبی جانتے ہوں گے۔
سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں رہنے والے بچے سمندر، مچھلی، موسم اور بدلتی ہوئی لہروں سے روز کچھ نہ کچھ سیکھتے ہوں گے۔
پھر میری نگاہ بنگلہ دیش پر گئی۔
وہاں دریاؤں، سیلابوں اور ڈیلٹا کے درمیان پلنے والے بچوں کی تعلیم میں پانی، محفوظ بستیاں، زراعت اور موسمی تبدیلی کیوں شامل نہ ہو؟
نیپال کے پہاڑی دیہات میں رہنے والے بچے مقامی تعمیر، زلزلوں سے تحفظ، جنگلات اور پہاڑی زراعت کے بارے میں کیوں نہ سیکھیں؟
میں سوچنے لگا کہ شاید مسئلہ یہ نہیں کہ ان بچوں میں ذہانت کم ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ان کی ذہانت کو اکثر ایسے سوالوں سے ناپا جاتا ہے جن کا ان کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
ہم سب طالب علموں کو ایک جیسی کتاب دے دیتے ہیں۔
ان سے ایک جیسے سوال پوچھتے ہیں۔
انہیں ایک ہی پیمانے سے ناپتے ہیں۔
پھر حیران ہوتے ہیں کہ بعض بچے پیچھے کیوں رہ جاتے ہیں۔
مجھے اپنا پرانا رپورٹ کارڈ یاد آ گیا۔
وہی سرخ روشنائی۔
وہی ایک لفظ۔
FAIL
ایک زمانے میں مجھے لگتا تھا کہ یہی لفظ میرے بارے میں آخری فیصلہ ہے۔
لیکن SECMOL نے مجھے سکھایا کہ ایک امتحان صرف یہ بتا سکتا ہے کہ میں نے ایک مخصوص دن، ایک مخصوص زبان اور ایک مخصوص طریقے سے کتنے سوالوں کے جواب دیے۔
وہ یہ نہیں بتا سکتا کہ میں پانی کا راستہ سمجھ سکتا ہوں یا نہیں۔
میں ٹوٹی ہوئی چیز درست کر سکتا ہوں یا نہیں۔
میں دوسروں کے ساتھ مل کر کوئی مسئلہ حل کر سکتا ہوں یا نہیں۔
یا میں اپنی زمین اور اپنی زندگی کو واقعی سمجھتا ہوں یا نہیں۔
اگلی صبح میں نے اپنا بیگ اٹھایا۔
سونم وانگچک دروازے کے قریب کھڑے تھے۔
میں نے انہیں “جولّے” کہا۔
انہوں نے مسکرا کر جواب دیا اور بولے:
“جو کچھ یہاں سیکھا ہے، اسے صرف یاد مت رکھنا۔ جہاں بھی جاؤ، وہاں کے سوالوں کو دیکھنا۔”
میں نیچے جانے والے راستے پر چل پڑا۔
پیچھے مڑ کر دیکھا تو SECMOL کی مٹی کی عمارتیں دھوپ میں روشن تھیں۔
وہ کسی بڑے تعلیمی ادارے کی طرح شاندار نہیں لگتی تھیں۔
مگر وہیں میں نے یہ سیکھا تھا کہ ایک اسکول کی عظمت اس کی عمارت سے نہیں، بلکہ اس بات سے طے ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اپنی دنیا سمجھنے اور اسے بہتر بنانے کے قابل بناتا ہے یا نہیں۔
لداخ اب میرے پیچھے رہ گیا تھا۔
لیکن ایک سوال میرے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔
اگر لداخ کے پہاڑ، برف، سورج اور وادیاں ایک بچے کے استاد بن سکتے ہیں، تو کیا ہمارے اپنے شہر، گاؤں، صحرا، دریا اور پہاڑ بھی ہمارے بچوں کو وہ کچھ سکھا سکتے ہیں، جو صرف کتابیں نہیں سکھا سکتیں؟
#shariqali #valueversity #knowledge
