گریٹا تھنبرگ
“آپ کی ہمت کیسے ہوئی؟”
شارق علی
ویلیوورسٹی
بحیرۂ روم کی لہریں نسبتاً پرسکون تھیں، لیکن کشتی میں سوار لوگوں کے دلوں میں طوفان برپا تھا۔
یہ کوئی سیاحتی، تجارتی یا مہم جوئی کا سفر نہیں تھا۔ مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے چند باضمیر لوگ ایک چھوٹی سی فلوٹیلا کے ساتھ غزہ کی جانب بڑھ رہے تھے۔
ان کے پاس ہتھیار نہیں تھے، فوج نہیں تھی، اقتدار نہیں تھا۔ ان کے پاس صرف یہ یقین تھا کہ دنیا کے کسی گوشے میں اگر انسان بھوک، خوف اور جنگ کا شکار ہیں تو باقی انسانیت کو خاموش تماشائی نہیں بننا چاہیے۔
اسی کشتی میں ایک نوجوان خاتون بھی تھی۔ دنیا اسے گریٹا تھنبرگ کے نام سے جانتی ہے۔
اگر کوئی پہلی مرتبہ اسے دیکھے تو شاید یقین نہ آئے کہ یہی وہ لڑکی ہے جس نے چند برسوں میں دنیا کے صدور، وزرائے اعظم، صنعت کاروں اور عالمی اداروں کو جواب دہی کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا تھا۔ نہ اس کے پاس کوئی فوج تھی، نہ دولت، نہ سیاسی جماعت۔ اس کے پاس صرف ایک آواز تھی، اور اس نے اس آواز کو خاموش نہیں ہونے دیا۔
گریٹا کی کہانی سویڈن کے ایک عام گھر سے شروع ہوتی ہے۔ بچپن ہی سے وہ حساس طبیعت کی مالک تھی۔ دنیا میں ہونے والے واقعات اسے متاثر کرتے تھے۔ جب اس نے ماحولیاتی تبدیلی اور عالمی حدت کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تو ایک سوال اس کے ذہن میں بار بار ابھرنے لگا:
“اگر سائنس دان ہمیں خبردار کر رہے ہیں تو دنیا سن کیوں نہیں رہی؟”
یہ محض ایک علمی بحث نہیں تھی، بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال تھا۔
2018ء میں، جب اس کی عمر صرف پندرہ برس تھی، اس نے ایک ایسا قدم اٹھایا جسے اس وقت بہت کم لوگوں نے سنجیدگی سے لیا۔
وہ سویڈش پارلیمنٹ کے باہر ایک پلے کارڈ لے کر بیٹھ گئی۔ اس پر لکھا تھا:
“موسمیاتی انصاف کے لیے اسکول ہڑتال”
وہ اکیلی تھی۔ بالکل اکیلی۔
نہ کوئی کیمرہ اردگرد تھا، نہ کوئی ہجوم۔ لیکن تاریخ اکثر خاموش لمحوں سے جنم لیتی ہے۔ بے توجہی اس کے پاس سے گزرتی رہی، پھر دھیرے دھیرے لوگوں نے توجہ دینا شروع کی۔ اس کی سادگی، خلوص اور بے خوفی نے دنیا بھر کے نوجوانوں کو متاثر کیا۔ جلد ہی ہزاروں، پھر لاکھوں نوجوان اس کے ساتھ کھڑے ہونے لگے۔ “فرائیڈیز فار فیوچر” نامی تحریک دنیا کے درجنوں ممالک میں پھیل گئی۔
چند ہی سالوں میں وہ اقوامِ متحدہ کے اسٹیج پر کھڑی تھی۔ اس کے سامنے دنیا کے طاقتور ترین رہنما بیٹھے تھے۔
اس نے روایتی سفارتی زبان استعمال نہیں کی، بلکہ ایک ناراض نوجوان کی زبان استعمال کی۔
“آپ کی ہمت کیسے ہوئی؟”
یہ جملہ پوری دنیا میں گونج اٹھا۔
کچھ لوگوں نے اسے سراہا، کچھ نے تنقید کی۔ لیکن ایک حقیقت واضح تھی: دنیا اب اسے نظرانداز نہیں کر سکتی تھی۔
وقت کے ساتھ ساتھ گریٹا کی سوچ صرف ماحولیاتی مسائل تک محدود نہیں رہی۔ ان کے نزدیک ماحولیاتی انصاف ایک غیر منقسم تصور تھا۔ اگر زمین کے ماحول کے لیے آواز اٹھانا ضروری ہے تو انسانوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا بھی ضروری ہے۔ اگر آنے والی نسلوں کے مستقبل کی فکر اہم ہے تو آج جنگوں اور انسانی بحرانوں میں پھنسے بچوں کی فکر بھی اتنی ہی اہم ہے۔
اسی سوچ نے اسے فلسطینی عوام، خصوصاً بچوں، کے بارے میں بولنے پر آمادہ کیا۔
اس کا مؤقف سادہ تھا۔ بچے کسی بھی قوم، مذہب یا سرحد سے تعلق رکھتے ہوں، ان کی جان اور عزت کا تحفظ ہونا چاہیے۔ بھوک، بے گھری اور جنگ کا بوجھ بچوں کے کندھوں پر نہیں ڈالا جا سکتا۔
یہی وجہ تھی کہ جب غزہ کے لیے امدادی فلوٹیلا کی بات سامنے آئی تو گریٹا صرف بیان دینے پر اکتفا نہ کر سکیں۔ انہوں نے خود اس سفر کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔
بہت سے لوگوں نے انہیں خبردار کیا۔
بعض نے اسے غیر ضروری خطرہ قرار دیا، بعض نے سیاسی تنازع میں مداخلت کہا۔ لیکن شاید گریٹا کا مسئلہ یہی تھا کہ وہ انسانی دکھ کو صرف خبروں کی سرخی کے طور پر نہیں دیکھتی تھیں۔
وہ اسے انسانوں کا دکھ سمجھتی تھیں۔
اور جب انسان کا ضمیر جاگ جائے تو خاموش رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔
گریٹا کی زندگی ہمیں کچھ سکھاتی ہے۔
اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تبدیلی صرف طاقتور لوگ لا سکتے ہیں، لیکن تاریخ اس تصور کی مکمل تائید نہیں کرتی۔
کبھی ایک وکیل برطانوی سلطنت کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے اور اسے مہاتما گاندھی کہا جاتا ہے۔
کبھی ایک نوجوان پادری نسل پرستی کے خلاف آواز بلند کرتا ہے اور اسے مارٹن لوتھر کنگ کہا جاتا ہے۔
کبھی ایک کمزور سی طالبہ تعلیم کے حق کے لیے بولتی ہے اور اسے ملالہ یوسفزئی کہا جاتا ہے۔
اور کبھی سویڈن کی ایک نوعمر لڑکی پارلیمنٹ کے باہر بیٹھ جاتی ہے اور دنیا اسے گریٹا تھنبرگ کے نام سے جاننے لگتی ہے۔
ان سب لوگوں میں اختلافات بے شمار تھے، لیکن ایک چیز مشترک تھی: انہوں نے خاموش رہنے سے انکار کیا۔
گریٹا کے حامی اور ناقدین دونوں موجود ہیں اور شاید ہمیشہ رہیں گے۔ لیکن ان کی زندگی کا سب سے اہم پہلو یہ نہیں کہ ہر شخص ان سے اتفاق کرتا ہے یا نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے لاکھوں نوجوانوں کو یہ احساس دلایا کہ ایک فرد بھی دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ سکتا ہے۔
بحیرۂ روم کی لہروں پر سفر کرتی وہ چھوٹی سی کشتی شاید تاریخ کے بڑے بحری بیڑوں جتنی طاقتور نہ ہو، لیکن بعض اوقات طاقت کا تعلق حجم سے نہیں بلکہ مقصد سے ہوتا ہے۔
اور شاید گریٹا تھنبرگ کی پوری زندگی کا خلاصہ بھی یہی ہے۔
